Surah

Information

Surah # 7 | Verses: 206 | Ruku: 24 | Sajdah: 1 | Chronological # 39 | Classification: Makkan
Revelation location & period: Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 163-170, from Madina
قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَـكُمۡ‌ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا‌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿123﴾
فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بیشک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تاکہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے ۔
قال فرعون امنتم به قبل ان اذن لكم ان هذا لمكر مكرتموه في المدينة لتخرجوا منها اهلها فسوف تعلمون
Said Pharaoh, "You believed in him before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.
Firaon kehney laga tum musa per eman laye hobaghair iss kay kay mein tum ko ijazat doon? Be-shak yeh saazish thi jiss per tumhara amal daramad hua hai iss shehar mein takay tum sab iss shehar say yahan kay rehney walon ko bahir nikal do. So abb tum ko haqeeqat maloom hui jati hai.
فرعون بولا : تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی اس شخص پر ایمان لے آئے ۔ یہ ضرور کوئی سازش ہے جو تم نے اس شہر میں ملی بھگت کر کے بنائی ہے ، تاکہ تم یہاں کے رہنے والوں کو یہاں سے نکال باہر کرو ۔ اچھا تو تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا ۔
فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ، یہ تو بڑا جعل ( فریب ) ہے جو تم سب نے ( ف۲۱۸ ) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو ( ف۲۱۹ ) تو اب جان جاؤ گے ( ف۲۲۰ )
فرعون نے کہا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسّلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو ۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے ۔
فرعون کہنے لگا: ( کیا ) تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا؟ بیشک یہ ایک فریب ہے جو تم ( سب ) نے مل کر ( مجھ سے ) اس شہر میں کیا ہے تاکہ تم اس ( ملک ) سے اس کے ( قبطی ) باشندوں کو نکال کر لے جاؤ ، سو تم عنقریب ( اس کا انجام ) جان لو گے
فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے ۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے ۔ کوئی بےوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا ۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گذارتے ہیں ، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں ، مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں فرعون انہیں اپنی رضامندی کا یقین دلاتا ہے خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں حضرت موسیٰ ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے نہ سنا ہے نہ ملے ہیں نہ جانتے ہیں ۔ لیکن وزیرے چنیں شہریارے چناں وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا ؟ اس نے کہا آج میدان میں ہماری جانب جو جادو پیش کیا جائے گا اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے ۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی ۔ اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال یہ چلتا اور کہتا ہے کہ تم اپنے ایکے ، اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو ، اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں ۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کے کھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا ۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمھجتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہوگئے ، بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا ؟ یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے ۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کراچکا ہے لیکن اب جبکہ ہم پر حق واضح ہو گیا ہم اس پر ایمان لے آئے تو تو چڑ رہا ہے ۔ کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن پھر خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے اس لئے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما ، ثابت قدمی دے ، ہمیں اسلام پر ہی موت دے ، تیرے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں ۔ ایسا نہ ہو اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں ۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں ، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر ، کسر اٹھا نہ رکھ ، جو جی میں ہے کر گذر تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے ۔ ہم صبر کرلیں گے کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا ۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی ہے ۔ گناہگاروں کے لئے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے جہاں نہ موت آئے نہ کارآمد زندگی ہو ۔ اور مومنوں کے لئے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں ۔ سبحان اللہ یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے ۔