Surah

Information

Surah ID #5
Total Verses 120 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #112
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 5: Al-Ma'ida Ayat #52
فَتَـرَى الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوۡنَ فِيۡهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰٓى اَنۡ تُصِيۡبَـنَا دَآٮِٕرَةٌ‌ ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ ؕ‏ ﴿52﴾
So you see those in whose hearts is disease hastening into [association with] them, saying, "We are afraid a misfortune may strike us." But perhaps Allah will bring conquest or a decision from Him, and they will become, over what they have been concealing within themselves, regretful.
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے ، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادثہ ہم پر پڑ جائے بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالٰی فتح دے دے یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز لائے پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر ( بے طرح ) نادم ہونے لگیں گے ۔

More translations & tafseer

فترى الذين في قلوبهم مرض يسارعون فيهم يقولون نخشى ان تصيبنا داىرة فعسى الله ان ياتي بالفتح او امر من عنده فيصبحوا على ما اسروا في انفسهم ندمين
So you see those in whose hearts is disease hastening into [association with] them, saying, "We are afraid a misfortune may strike us." But perhaps Allah will bring conquest or a decision from Him, and they will become, over what they have been concealing within themselves, regretful.
Aap dekhen gay jin kay dilon mein beemari hai woh dor dor ker inn mein ghuss rahey hain aur kehtay hain kay humen khatra hai aisa na ho kay koi haadsa hum per parr jaye boht mumkin hai kay Allah Taalaa fatah dey dey. Ya apney pass say koi aur cheez laye phir to yeh apney dilon mein chupaee hui baaton per ( bey tarah ) naadim honey lagen gay.
چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں ( نفاق کا ) روگ ہے ، تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ لپک لپک کر ان میں گھستے ہیں ، کہتے ہیں : ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت کا چکر آپڑے گا ( ٤٤ ) لیکن ) کچھ بعید نہیں کہ اللہ ( مسلمانوں کو ) فتح عطا فرمائے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کردے ( ٤٥ ) اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر پچھتائیں جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی تھی ۔
اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار ہے ( ف۱۳٦ ) کہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے ( ف۱۳۷ ) تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے ( ف۱۳۸ ) یا اپنی طرف سے کوئی حکم ( ف۱۳۹ ) پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا ( ف۱٤۰ ) پچھتائے رہ جائیں
تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دَوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں “ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں ” ۔ 84 مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا 85 تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے ۔
سو آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں ( نفاق اور ذہنوں میں غلامی کی ) بیماری ہے کہ وہ ان ( یہود و نصارٰی ) میں ( شامل ہونے کے لئے ) دوڑتے ہیں ، کہتے ہیں: ہمیں خوف ہے کہ ہم پر کوئی گردش ( نہ ) آجائے ( یعنی ان کے ساتھ ملنے سے شاید ہمیں تحفظ مل جائے ) ، تو بعید نہیں کہ اﷲ ( واقعۃً مسلمانوں کی ) فتح لے آئے یا اپنی طرف سے کوئی امر ( فتح و کامرانی کا نشان بنا کر بھیج دے ) تو یہ لوگ اس ( منافقانہ سوچ ) پر جسے یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :84 اس وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا ۔ اگرچہ اسلام اپنے پیرووں کی سرفروشیوں کے سبب سے ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبردست تھیں ۔ اسلام کی فتح کا جیسا امکان تھا ویسا ہی کفر کی فتح کا بھی تھا ۔ اس لیے مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوئے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط و ضبط رکھنا چاہتے تھے تاکہ یہ کشمکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہو تو ان کے لیے کوئی نہ کوئی جائے پناہ محفوظ رہے ۔ علاوہ بریں اس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی ۔ ساہوکارہ بیشتر انہی کے ہاتھ میں تھا ۔ عرب کے بہترین سرسبز و شاداب خطے ان کے قبضہ میں تھے ۔ ان کی سود خواری کا جال ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ لہٰذا معاشی اسباب کی بنا پر بھی یہ منافق لوگ ان کے ساتھ اپنے سابق تعلقات برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے ۔ ان کا گمان تھا کہ اگر اسلام و کفر کی اس کشمکش میں ہمہ تن منہمک ہو کر ہم نے ان سب قوموں سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے جن کے ساتھ اسلام اس وقت بر سرپیکار ہے تو یہ فعل سیاسی اور معاشی دونوں حیثیتوں سے ہمارے لیے خطر ناک ہو گا ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :85 یعنی فیصلہ کن فتح سے کم درجہ کی کوئی ایسی چیز جس سے عموما لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ ہار جیت کا آخری فیصلہ اسلام ہی کے حق میں ہو گا ۔