Surah

Information

Surah ID #9
Total Verses 129 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #113
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except last two verses from Makkah
Surah 9: At-Tawba Ayat #31
اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَانَهُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ‌ ۚ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَـعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا‌ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿31﴾
They have taken their scholars and monks as lords besides Allah , and [also] the Messiah, the son of Mary. And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him.
ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے ۔

More translations & tafseer

اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله و المسيح ابن مريم و ما امروا الا ليعبدوا الها واحدا لا اله الا هو سبحنه عما يشركون
They have taken their scholars and monks as lords besides Allah , and [also] the Messiah, the son of Mary. And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him.
Inn logon ney Allah ko chor ker apney aalimon aur darwishon ko apna rab banaya hai aur marium kay betay maseeh ko halankay unhen sirf aik akelay Allah hi ki ibadat ka hukum diya gaya tha jiss kay siwa koi mabood nahi woh pak hai unn kay shareek muqarrar kerney say.
انہوں نے اللہ کی بجائے اپنے احبار ( یعنی یہودی علماء ) اور راہبوں ( یعنی عیسائی درویشوں ) کو خدا بنا لیا ہے ۔ ( ٣٠ ) اور مسیح ابن مریم کو بھی ، حالانکہ ان کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔ وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے ۔
انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا ( ف٦۸ ) اور مسیح بن مریم کو ( ف٦۹ ) اور انہیں حکم نہ تھا ( ف۷۰ ) مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ، اسے پاکی ہے ان کے شرک سے ،
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا ربّ بنا لیا ہے 31 اور اسی طرح مسیح اِبنِ مریم کو بھی ، حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔
انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح ( علیہ السلام ) کو ( بھی ) حالانکہ انہیں بجز اس کے ( کوئی ) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک ( ہی ) معبود کی عبادت کریں ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں
سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :31 حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم ، جو پہلے عیسائی تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں نے منجملہ اور سوالات کے ایک یہ سوال بھی کیا تھا کہ اس آیت میں ہم پر اپنے علماء اور درویشوں کو خد ا بنا لینے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے ۔ جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ واقعہ نہیں ہے کہ جو کچھ یہ لوگ حرام قرار دیتے ہیں اسے تم حرام مان لیتے ہو اور جو کچھ یہ حلال قرار دیتے ہیں اسے حلال مان لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو ضرور ہم کرتے رہے ہیں ۔ فرمایا بس یہی ان کو خد ا بنا لینا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کی سند کے بغیر جو لوگ انسانی زندگی کے لیے جائز و ناجائز کی حدود مقرر کرتے ہیں وہ دراصل خدائی کے مقام پر بزعم خود متمکن ہوتے ہیں اور جو ان کے اس حق شریعت سازی کو تسلیم کرتے ہیں وہ انہیں خدابناتے ہیں ۔ یہ دونوں الزام ، یعنی کسی کو خدا کا بیٹا قرار دینا ، اور کسی کو شریعت سازی کا حق دے دینا ، اس بات کے ثبوت میں پیش کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ ایمان باللہ کے دعوے میں جھوٹے ہیں ۔ خدا کی ہستی کو چاہے یہ مانتے ہوں مگر ان کا تصور خدائی اس قدر غلط ہے کہ اس کی وجہ سے ان کا خدا کو ماننا نہ ماننے کے برابر ہو گیا ہے ۔