Surah

Information

Surah ID #9
Total Verses 129 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #113
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except last two verses from Makkah
Surah 9: At-Tawba Ayat #49
وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ ائۡذَنۡ لِّىۡ وَلَا تَفۡتِنِّىۡ‌ ؕ اَلَا فِى الۡفِتۡنَةِ سَقَطُوۡا‌ ؕ وَاِنَّ جَهَـنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌ ۢ بِالۡـكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿49﴾
And among them is he who says, "Permit me [to remain at home] and do not put me to trial." Unquestionably, into trial they have fallen. And indeed, Hell will encompass the disbelievers.
ان میں سے کوئی تو کہتا ہے مجھے اجازت دیجئے مجھے فتنے میں نہ ڈالیئے آگاہ رہو وہ فتنے میں پڑ چکے ہیں اور یقیناً دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے ۔

More translations & tafseer

و منهم من يقول اذن لي و لا تفتني الا في الفتنة سقطوا و ان جهنم لمحيطة بالكفرين
And among them is he who says, "Permit me [to remain at home] and do not put me to trial." Unquestionably, into trial they have fallen. And indeed, Hell will encompass the disbelievers.
Inn mein say koi to kehta hai mujhay ijazat dijiye mujhay fitnay mein na daliye aagah raho woh to fitnay mein parr chukay hain aur yaqeenan dozakh kafiron ko gher leney wali hai.
اور انہی میں وہ صاحب بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ : مجھے اجازت دے دیجیے ، اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے ، ( ٤٢ ) ارے فتنے ہی میں تو یہ خود پڑے ہوئے ہیں ۔ اور یقین رکھو کہ جہنم سارے کافروں کو گھیرے میں میں لینے والی ہے ۔
اور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے ( ف۱۱۷ ) سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے ( ف۱۱۸ ) اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو ،
ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے 48 ۔ ۔ ۔ ۔ سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں 49 اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے ۔ 50
اور ان میں سے وہ شخص ( بھی ) ہے جو کہتا ہے کہ آپ مجھے اجازت دے دیجئے ( کہ میں جہاد پر جانے کی بجائے گھر ٹھہرا رہوں ) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے ، سن لو! کہ وہ فتنہ میں ( تو خود ہی ) گر پڑے ہیں ، اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے
سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :48 جو منافق بہانے کر کر کے پیچھے ٹھہر جانے کی اجازتیں مانگ رہے تھے ان میں سے بعض ایسے بے باک بھی تھے جو راہ خدا سے قدم پیچھے ہٹانے کے لیے مذہبی و اخلاقی نوعیت کے حیلے تراشتے تھے ۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص جد بن قیس کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں ایک حسن پرست آدمی ہوں ، میری قوم کے لوگ میری اس کمزوری سے واقف ہیں کہ عورت کے معاملہ میں مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا ۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں رومی عورتوں کو دیکھ کر میرا قدم پھسل نہ جائے ۔ لہٰذا آپ مجھے فتنے میں نہ ڈالیں اور اس جہاد کی شرکت سے مجھ کو معذور رکھیں ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :49 یعنی نام تو فتنے سے بچنے کا لیتے ہیں مگر درحقیقت نفاق اور جھوٹ اور ریاکاری کا فتنہ بری طرح ان پر مسلط ہے ۔ اپنے نزدیک یہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے فتنوں کے امکان سے پریشانی و خوف کا اظہار کر کے یہ بڑے متقی ثابت ہوئے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ فی الواقع کفر و اسلام کی فیصلہ کن کشمکش کے موقع پر اسلام کی حمایت سے پہلو تہی کر کے یہ اتنے بڑے فتنے میں مبتلا ہو رہے ہیں جس سے بڑھ کر کسی فتنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :50 یعنی تقویٰ کی اس نمائش نے ان کو جہنم سے دُور نہیں کیا بلکہ نفاق کی اس لعنت نے انہیں جہنم کے چنگل میں اُلٹا پھنسا دیا ۔
جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر جد بن قیس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا ؟ تو اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدنائی ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا ۔ آپ نے اس سے منہ موڑ لیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کہ کیا کم فتنہ ہے؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ تو انہوں نے کہا جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے ۔ آپ نے فرمایا بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت حضرت بشر بن برا بن معرور ہیں ۔ جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں ۔