Surah

Information

Surah ID #9
Total Verses 129 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #113
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except last two verses from Makkah
Surah 9: At-Tawba Ayat #71
وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ۘ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ؕ اُولٰۤٮِٕكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ‏ ﴿71﴾
The believing men and believing women are allies of one another. They enjoin what is right and forbid what is wrong and establish prayer and give zakah and obey Allah and His Messenger. Those - Allah will have mercy upon them. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise.
مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے ( مددگار و معاون ) اور دوست ہیں ، وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں ، نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکٰو ۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے ۔

More translations & tafseer

و المؤمنون و المؤمنت بعضهم اولياء بعض يامرون بالمعروف و ينهون عن المنكر و يقيمون الصلوة و يؤتون الزكوة و يطيعون الله و رسوله اولىك سيرحمهم الله ان الله عزيز حكيم
The believing men and believing women are allies of one another. They enjoin what is right and forbid what is wrong and establish prayer and give zakah and obey Allah and His Messenger. Those - Allah will have mercy upon them. Indeed, Allah is Exalted in Might and Wise.
Momin mard-o-aurat aapas mein aik doosray kay ( madadgar-o-maavin aur ) dost hain woh bhalaiyon ka hukum detay hain aur buraiyon say roktay hain namazon ko pabandi say baja latay hain zakat ada kertay hain Allah ki aur uss kay rasool ki baat maantay hain yehi log hain jin per Allah Taalaa both jald reham faramaye ga be-shak Allah ghalbay wala hikmat wala hai.
اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا ۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے ، حکمت کا بھی مالک ۔
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ( ف۱٦۹ ) بھلائی کا حکم دیں ( ف۱۷۰ ) اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں ، یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا ، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے ،
مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰة دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔ 80 یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی ، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے ۔
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں ۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی اطاعت بجا لاتے ہیں ، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا ، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے
سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :80 ”جس طرح منافقین ایک الگ اُمت ہیں اسی طرح اہل ایمان بھی ایک الگ امت ہیں ۔ اگرچہ ایمان کا ظاہری اقرار اور اسلام کی پیروی کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے ۔ لیکن دونوں کے مزاج ، اخلاق ، اطوار ، عادات اور طرز عمل میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ جہاں زبان پر ایمان کا دعویٰ ہے ، مگر دل سچے ایمان سے خالی ہیں وہاں زندگی کا سارا رنگ ڈھنگ ایسا ہے جو اپنی ایک ایک ادا سے دعوائے ایمان کی تکذیب کر رہا ہے ۔ اوپر کے لیبل پر تو لکھا ہے کہ یہ مشک ہے مگر لیبل کے نیچے جو کچھ ہے وہ اپنے پورے وجود سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ گوبر کے سوا کچھ نہیں ۔ بخلاف اس کے جہاں ایمان اپنی اصل حقیقت کے ساتھ موجود ہے وہاں مشک اپنی صورت سے ، اپنی خوشبو سے ، اپنی خاصیتوں سے ہر آزمائش اور ہر معاملہ میں اپنا مشک ہونا کھولے دے رہا ہے ۔ اسلام و ایمان کے عربی نام نے بظاہر دونوں گروہوں کو ایک اُمت بنا رکھا ہے ، مگر فی الواقع منافق مسلمانوں کا اخلاقی مزاج اور رنگ طبیعت کچھ اور ہے اور صادق الایمان مسلمانوں کا کچھ اور ۔ اسی وجہ سے منافقانہ خصائل رکھنے والے مرد و زن ایک الگ جتھا بن گئے ہیں جن کو خدا سے غفلت ، برائی سے دلچسپی ، نیکی سے بعد اور خیر سے عدم تعاون کی مشترک خصوصیات نے ایک دوسرے سے وابستہ اور اہل ایمان سے عملا بے تعلق کر دیا ہے ۔ اور دوسری جانب سچے مومن مرد و زن ایک دوسرا گروہ بن گئے ہیں جس کے سارے افراد میں یہ خصوصیت مشترک ہے کہ نیکی سے وہ دلچسپی رکھتے ہیں ، بدی سے نفرت کرتے ہیں ، خدا کی یاد ان کے لیے غذا کی طرح زندگی کی ناگزیر ضروریات میں شامل ہے ، راہ خدا میں خرچ کرنے کے لیے ان کے دل اور ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، اور خدا اور رسول کی اطاعت ان کی زندگی کا وتیرہ ہے ۔ اس مشترک اخلاقی مزاج اور طرز زندگی نے انہیں آپس میں ایک دوسرے سے جوڑا اور منافقین کے گروہ سے توڑ دیا ہے ۔
مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ایک دوسرے کا دست و بازو بنے رہتے ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لئے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے آپ نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا ۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستی اور سلوک میں مثل ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بیداری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے ۔ سب کو بھلائیاں دکھاتے ہیں اچھی باتیں بتاتے ہں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں ۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے ۔ فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے ۔ یہ نمازی ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبات ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو ۔ اللہ رسول کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے ۔ یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں ۔ یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ کی رحمت انکی طرف لپکتی ہے ۔ اللہ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے ۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لئے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایماندار غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں ، اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے؟ جو چاہے کرے وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے ۔