Surah

Information

Surah ID #9
Total Verses 129 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #113
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except last two verses from Makkah
Surah 9: At-Tawba Ayat #70
اَلَمۡ يَاۡتِهِمۡ نَبَاُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ  ۙ وَقَوۡمِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاَصۡحٰبِ مَدۡيَنَ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتِ‌ ؕ اَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ‌‌ ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ‏ ﴿70﴾
Has there not reached them the news of those before them - the people of Noah and [the tribes of] 'Aad and Thamud and the people of Abraham and the companions of Madyan and the towns overturned? Their messengers came to them with clear proofs. And Allah would never have wronged them, but they were wronging themselves.
کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں ، قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات ( الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے ) کی ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ۔

More translations & tafseer

الم ياتهم نبا الذين من قبلهم قوم نوح و عاد و ثمود و قوم ابرهيم و اصحب مدين و المؤتفكت اتتهم رسلهم بالبينت فما كان الله ليظلمهم و لكن كانوا انفسهم يظلمون
Has there not reached them the news of those before them - the people of Noah and [the tribes of] 'Aad and Thamud and the people of Abraham and the companions of Madyan and the towns overturned? Their messengers came to them with clear proofs. And Allah would never have wronged them, but they were wronging themselves.
Kiya enhen apney say pehlay logon ki khabren nahi phonchin qom-e-nooh aur aad aur samood aur qom-e-ibrajhim aur ehal-e-madiyen aur ehal-e-motafiqaat ( ulti hui bastiyon kay rehney walay ) ki unn kau pass unn kay payghumbar daleel ley ker phonchay Allah aisa na tha kay unn per zulm keray bulkay unhon ney khud hi apney upper zulm kiya.
کیا ان ( منافقوں ) کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گذرے ہیں؟ نوح کی قوم ، اور عاد و ثمود ، ابراہیم کی قوم ، مدین کے باشندے اور وہ بستیاں جنہیں الٹ ڈالا گیا ۔ ( ٦٠ ) ان سب کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے ۔ پھر اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا ، لیکن یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ۔
کیا انہیں ( ف۱۵۸ ) اپنے سے اگلوں کی خبر نہ آئی ( ف۱۵۹ ) نوح کی قوم ( ف۱٦۰ ) اور عاد ( ف۱٦۱ ) اور ثمود ( ف۱٦۲ ) اور ابراہیم کی قوم ( ف۱٦۳ ) اور مدین والے ( ف۱٦٤ ) اور وہ بستیاں کہ الٹ دی گئیں ( ف۱٦۵ ) ان کے رسول روشن دلیلیں ان کے پاس لائے تھے ( ف۱٦٦ ) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا ( ف۱٦۷ ) بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظالم تھے ( ف۱٦۸ )
کیا ان لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوح کی قوم ، عاد ، ثمود ، ابراہیم کی قوم ، مدیَن کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں الٹ دیا گیا 78 ۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے ، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے ۔ 79
کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ، قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور قومِ ابراہیم اور باشندگانِ مدین اور ان بستیوں کے مکین جو الٹ دی گئیں ، ان کے پاس ( بھی ) ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے ( مگر انہوں نے نافرمانی کی ) پس اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ ( انکارِ حق کے باعث ) اپنے اوپر خود ہی ظلم کرتے تھے
سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :78 اشارہ ہے قوم لوط کی بستیوں کی طرف ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :79 “یعنی ان کی تباہی و بربادی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی دشمنی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ انہیں تباہ کرے ۔ بلکہ دراصل انہوں نے خود ہی اپنے لیے وہ طرز زندگی پسند کیا جو انہیں بربادی کی طرف لےجانے والا تھا ۔ اللہ نے تو انہیں سوچنے سمجھنے اور سنبھلنے کا پورا موقع دیا ، ان کی فہمائش کے لیے رسول بھیجے ، رسولوں کے ذریعہ سے ان کو غلط روی کے برے نتائج سے آگاہ کیا اور انہیں کھول کھول کر نہایت واضح طریقے سے بتا دیا کہ ان کے لیے فلاح کا راستہ کونسا ہے اور ہلاکت و بربادی کا کونسا ۔ مگر جب انہوں نے اصلاح حال کے کسی موقع سے فائدہ نہ اُٹھایا اور ہلاکت کی راہ چلنے ہی پر اصرار کیا تو لامحالہ ان کا وہ انجام ہونا ہی تھا جو بالآخر ہو کر رہا ، اور یہ ظلم ان پر اللہ نے نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ۔
بدکاروں کے ماضی سے عبرت حاصل کرو ان بدکردار منافقوں کو وعظ سنایا جا رہا ہے کہ اپنے سے پہلے کے اپنے جیسوں کے حالات پر عبرت کی نظر ڈالو ۔ دیکھو کہ نبیوں کی تکذیب کیا پھل لائی؟ قوم نوح کا غرق ہونا اور سوا مسلمانوں کے کسی کا نہ بچنا یاد کرو ۔ عادیوں کا ہود علیہ السلام کے نہ ماننے کی وجہ سے ہوا کے جھونکوں سے تباہ ہونا یاد کرو ، ثمودیوں کا حضرت صالح علیہ السلام کے جھٹلانے اور اللہ کی نشانی اونٹنی کے کاٹ ڈالنے سے ایک جگر دوز کڑاکے کی آواز سے تباہ و بربار ہونا یاد کرو ۔ ابراہیم علیہ السلام کا دشمنوں کے ہاتھوں سے بچ جانا اور ان کے دشمنوں کا غارت ہونا ، نمرود بن کنعان بن کوش جیسے بادشاہ کا مع اپنے لاؤ لشکر کے تباہ ہونا نہ بھولو ۔ وہ سب لعنت کے مارے بےنشان کر دیئے گئے ، قوم شعیب انہی بدکرداریوں اور کفر کے بدلے زلزلے اور سائبان والے دن کے عذاب سے تہ و بالا کر دی گئی ۔ جو مدین کی رہنے والی تھی ۔ قوم لوط جن کی بستیاں الٹی پڑی ہیں مدین اور سدوم وغیرہ اللہ نے انہیں بھی اپنے نبی لوط کے ماننے اور اپنی بدفعلی نہ چھوڑنے کے باعث ایک ایک کو پیوند زمین کر دیا ۔ ان کے پاس ہمارے رسول ہماری کتاب اور کھلے معجزے اور صاف دلیلیں لے کر پہنچے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی ۔ بالآخر اپنے ظلم سے آپ برباد ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو حق واضح کر دیاکتاب اتار دی رسول بھیج دیئے حجت ختم کردی لیکن یہ رسولوں کے مقابلے پر آمادہ ہوئے کتاب اللہ کی تعمیل سے بھاگے حق کی مخالفت کی پس لعنت رب اتری اور انہیں خاک سیاہ کر گئی ۔