Surah

Information

Surah ID #9
Total Verses 129 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #113
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except last two verses from Makkah
Surah 9: At-Tawba Ayat #123
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ يَلُوۡنَكُمۡ مِّنَ الۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُوۡا فِيۡكُمۡ غِلۡظَةً‌  ؕ وَاعۡلَمُوۡاۤ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿123﴾
O you who have believed, fight those adjacent to you of the disbelievers and let them find in you harshness. And know that Allah is with the righteous.
اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالٰی متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔

More translations & tafseer

يايها الذين امنوا قاتلوا الذين يلونكم من الكفار و ليجدوا فيكم غلظة و اعلموا ان الله مع المتقين
O you who have believed, fight those adjacent to you of the disbelievers and let them find in you harshness. And know that Allah is with the righteous.
Aey eman walon! inn kuffaar say laro jo tumharay aas pass hain aur inn ko tumharay andar sakhti pana chahaiye aur yeh yaqeen rakho kay Allah Taalaa muttaqi logon kay sath hai.
اے ایمان والو ! ان کافروں سے لڑو جو تم سے قریب ہیں ۔ ( ١٠٠ ) اور ہونا یہ چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں ۔ ( ١٠١ ) اور یقین رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے ۔
اے ايمان والوں جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قريب ہيں ( ف۲۹۵ ) اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ، اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ( ف۲۹٦ )
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں ۔ 121 اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں ، 122 اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے ۔ 123
اے ایمان والو! تم کافروں میں سے ایسے لوگوں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں ( یعنی جو تمہیں اور تمہارے دین کو براہِ راست نقصان پہنچا رہے ہیں ) اور ( جہاد ایسا اور اس وقت ہو کہ ) وہ تمہارے اندر ( طاقت و شجاعت کی ) سختی پائیں ، اورجان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :121 آیت کے ظاہر الفاظ سے جو مطلب نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ دارالاسلام کے جس حصے سے دشمنان اسلام کا جو علاقہ متصل ہو ، اس کے خلاف جنگ کرنے کی اولین ذمہ داری اسی حصے کے مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اگر آگے کے سلسلہ کلام کے ساتھ ملا کر اس آیت کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کفار سے مراد وہ منافق لوگ ہیں جن کا انکار حق پوری طرح نمایاں ہو چکا تھا ، اور جن کے اسلامی سوسائٹی میں خلط ملط رہنے سے سخت نقصانات پہنچ رہے تھے ۔ رکوع ۱۰ کی ابتداء میں بھی جہاں سے اس سلسلہ تقریر کا آغاز ہوا تھا ، پہلی بات یہی کہی گئی تھی کہ اب ان آستین کے سانپوں کا استیصال کرنے کے لیے باقاعدہ جہاد شروع کر دیا جائے ۔ وہی بات اب تقریر کے اختتام پر تاکید کے لیے پھر دہرائی گئی ہے تاکہ مسلمان اس کی اہمیت کو محسوس کریں اور ان منافقوں کے معاملہ میں ان نسلی و نسبی اور معاشرتی تعلقات کا لحاظ نہ کریں جو ان کے اور ان کے درمیان وابستگی کے موجب بنے ہوئے تھے ۔ وہاں ان کے خلاف”جہاد “ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ یہاں اس سے شدید تر لفظ ” قتال“ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ ان کا پوری طرح قلع قمع کر دیا جائے ، کوئی کسر ان کی سرکوبی میں اٹھا نہ رکھی جائے ۔ وہاں” کفار“ اور ” منافق “ دو الگ لفظ بولے گئے تھے ، یہاں ایک ہی لفظ ” کفار“ پر اکتفا کیا گیا ہے ، تاکہ ان لوگوں کا انکار حق ، جو صریح طور پر ثابت ہو چکا تھا ، ان کے ظاہری اقرار ایمان کے پردے میں چھپ کر کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھ لیا جائے ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :122 یعنی اب وہ نرم سلوک ختم ہو جانا چاہیے جو اب تک ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔ یہی بات رکوع ۱۰ کی ابتدا میں کہی گئی تھی وَ اغْلُظْ عَلَیْھِمْ ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :123 اس تنبیہہ کے دو مطلب ہیں اور دونوں یکساں طور پر مراد بھی ہیں ۔ ایک یہ کہ ان منکرین حق کے معاملے میں اگر تم نے اپنے شخصی اور خاندانی اور معاشی تعلقات کا لحاظ کیا تو یہ حرکت تقوی کے خلاف ہوگی ، کیونکہ متقی ہونا اور خدا کے دشمنوں سے لاگ لگائے رکھنا دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ، لہٰذا خدا کی مدد اپنے شامل حال رکھنا چاہتے ہو تو اس لاگ لپٹ سے پاک رہو ۔ دوسرے یہ کہ یہ سختی اور جنگ کا جو حکم دیا جا رہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ساتھ سختی کرنے میں اخلاق و انسانیت کی بھی ساری حدیں توڑ ڈالی جائیں ۔ حدود اللہ کی نگہداشت تو بہرحال تمہاری ہر کارروائی میں ملحوظ رہنی ہی چاہیے ۔ اس کو اگر تم نے چھوڑ دیا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے ۔
اسلامی مرکز کا استحکام اولین اصول ہے اسلامی مرکز کے متصل جو کفار ہیں ، پہلے تو مسلمانوں کو ان سے نمٹنا چاہیے اسی حکم کے بموجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے جزیرۃ العرب کو صاف کیا ، یہاں غلبہ پاکر مکہ ، مدینہ ، طائف ، یمن ، یمامہ ، ہجر ، خیبر ، حضرموت وغیرہ کل علاقہ فتح کر کے یہاں کے لوگوں کو اسلامی جھنڈے تلے کھڑا کر کے غزوہ روم کی تیاری کی ۔ جو اول تو جزیرہ العرب سے ملحق تھا دوسرے وہاں کے رہنے والے اہل کتاب تھے ۔ تبوک تک پہنچ کر حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے آگے کا عزم ترک کیا ۔ یہ واقعہ ٩ ھ کا ہے ۔ دسویں سال حجۃ الوداع میں مشغول رہے ۔ اور حج کے صرف اکاسی دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو پیارے ہوئے ۔ آپ کے بعد آپ کے نائب ، دوست اور خلیفہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آئے اس وقت دین اسلام کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں کہ آپ نے انہیں مضبوط کر دیا اور مسلمانوں کی ابتری کو برتری سے بدل دیا ۔ دین سے بھاگنے والوں کو واپس اسلام میں لے آئے ۔ مرتدوں سے دنیا خالی کی ۔ ان سرکشوں نے جو زکوٰۃ روک لی تھی ان سے وصول کی جاہلوں پر حق واضح کیا ۔ امانت رسول ادا کی ۔ اور ان ابتدائی ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہی اسلامی لشرکوں کو سر زمین روم کی طرف دوڑا دیا کہ صلیب پرستوں کو ہدایت کریں ۔ اور ایسے ہی جرار لشکر فارس کی طرف بھیجے کہ وہاں کے آتش کدے ٹھنڈے کریں ۔ پس آپ کی سفارت کی برکت سے رب العالمین نے ہر طرف فتح عطا فرمائی ۔ کسری اور قیصر خاک میں مل گئے ۔ ان کے پرستار بھی غارت و برباد ہوئے ، ان کے خزانے راہ اللہ میں کام آئے ۔ اور جو خبر اللہ کے رسول سلام اللہ علیہ دے گئے تھے وہ پوری ہوئی ۔ جو کسر رہ گئی تھی آپ کے وصی اور ولی شہید محراب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پوری ہوئی ۔ کافروں اور منافقوں کی رگ ہمیشہ کے لیے کچل دی گئی ۔ ان کے زور ڈھا دیئے گئے ۔ اور مشرق و مغرب تک فاروقی سلطنت پھیل گئی ۔ قریب و بعید سے بھر پور خزانے دربار فاروق میں آنے لگے اور شرعی طور پر حکم الٰہی کے ماتحت مسلمانوں میں مجاہدین میں تقسیم ہو نے لگے ۔ اس پاک نفس ، پاک روح شہید کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار کے اجماع سے امر خلافت امیر المومنین شہید الدار حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا ۔ اس وقت اسلام اپنی اصلی شان سے ظہور پذیر تھا ۔ اسلام کے لمبے اور زور آور ہاتھوں نے روئے زمین پر قبضہ جما لیا تھا ۔ بندوں کی گردنیں اللہ کے سامنے خم ہو چکیں تھیں ۔ حجت ربانی ظاہر تھی ، کلمہ الٰہی غالب تھا ۔ شان عثمان اپنا کام کرتی جاتی تھی ۔ آج اس کو حلقہ بگوش کیا تو کل اس کو یکے بعد دیگرے کئی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں زیر نگیں خلافت ہوئے ۔ یہی تھا اس آیت کے پہلے جملے پر عمل کہ نزدیک کے کافروں سے جہاد کرو ۔ پھر فرماتا ہے کہ لڑائی میں انہیں تمہارا زور بازو معلوم ہو جائے ۔ کامل مومن وہ ہے جو اپنے مومن بھائی سے تو نرمی برتے لیکن اپنے دشمن کافر پر سخت ہو ۔ جیسے فرمان ہے ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 54؀ ) 5- المآئدہ:54 ) یعنی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائے گا جو اس کے محبوب ہوں اور وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہوں ۔ مومنوں کے سامنے تو نرم ہوں اور کافروں پر ذی عزت ہوں ۔ اس طرح اور آیت میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ والے آپس میں نرم دل ہیں ۔ کافروں پر سخت ہیں ۔ ارشاد ہے ( يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۭ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 73؀ ) 9- التوبہ:73 ) یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو ۔ حدیث میں ہے کہ میں ضحوک ہوں یعنی اپنوں میں نرمی کرنے والا اور قتال ہوں یعنی دشمنان رب سے جہاد کرنے والا ۔ پھر فرماتا ہے کہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاوروں کے ساتھ ہے ۔ یعنی کافروں سے لڑو ، بھروسہ اللہ پر رکھ ، اور یقین مانو کہ جب تم اس سے ڈرتے رہو گے ، اس کی فرماں برداری کرتے رہوگے ، تو اس کی مدد و نصرت بھی تمہارے ساتھ رہے گی ۔ دیکھ لو خیر کے تینوں زمانوں تک ملسمانوں کی یہی حالت رہی ۔ دشمن تباہ حال اور مغلوب رہے ۔ لیکن جب ان میں تقویٰ اور اطاعت کم ہوگئی ۔ فتنے فساد پڑ گئے ، اختلاف اور خواہش پسندی شروع ہو گئی ۔ تو وہ بات نہ رہی ، دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں ان کی طرف اُٹھیں ۔ وہ اپنی کمیں گاہوں سے نکل کھڑے ہوئے ، ادھر کا رخ کیا لیکن پھر بھی مسلمان سلاطین آپس میں اُلجھے رہے وہ ادھرادھر سے نوالے لینے لگے ۔ آخر دشمن اور بڑھے ، سلطنتیں کچلنی شروع کیں ، ملک فتح کرنے شروع کئے ۔ آہ! اکثر حصہ اسلامی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہی حکم اس سے پہلے تھا اور اس کے بعد بھی ہے کہ وہ پھر سے مسلمانوں کو غلبہ دے اور کافروں کی چوٹیاں ان کے ہاتھ میں دے دے ۔ دنیا جہاں میں ان کا بول بالا ہو ۔ اور پھر سے مشرق سے لے کر مغرب تک پرچم اسلام لہرانے لگے ۔ وہ اللہ کریم وجواد ہے ۔