Surah

Information

Surah # 10 | Verses: 109 | Ruku: 11 | Sajdah: 0 | Chronological # 51 | Classification: Makkan
Revelation location & period: Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 40, 94, 95, 96, from Madina
هُوَ الَّذِىۡ يُسَيِّرُكُمۡ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ‌ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِى الۡفُلۡكِ ۚ وَ جَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوۡا بِهَا جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ‌ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَۙ  لَٮِٕنۡ اَنۡجَيۡتَـنَا مِنۡ هٰذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ﴿22﴾
وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ( برے ) آگھرے ( اس وقت ) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے ۔
هو الذي يسيركم في البر و البحر حتى اذا كنتم في الفلك و جرين بهم بريح طيبة و فرحوا بها جاءتها ريح عاصف و جاءهم الموج من كل مكان و ظنوا انهم احيط بهم دعوا الله مخلصين له الدين لىن انجيتنا من هذه لنكونن من الشكرين
It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah , sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."
Aur Allah aisa hai kay tum ko khushki aur darya mein chalata hai yahan tak kay jab tum kashti mein hotay ho aur woh kashtiyan logon ko mowafiq hawa kay zariye ley ker chalti hain aur woh log inn say khush hotay hain inn per aik jhonka sakht hawa ka aata hai aur her taraf say unn per mojen uthti chali aati hain aur woh samajhtay hain kay ( buray ) aa ghiray ( ussa waqat ) sab khalis aetiqaad ker kay Allah hi ko pukartay hain kay agar tu hum ko iss say bacha ley to hum zaroor shukar guzaar bann jayen.
وہ اللہ ہی تو ہے جو تمہیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو ، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوشگوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ہر طرف سے گھر گئے ۔ تو اس وقت وہ خلوص کے ساتھ صرف اللہ پر اعتقاد کر کے صرف اسی کو پکارتے ہیں ( اور کہتے ہیں کہ ) ‘‘ ( یا اللہ ! ) اگر تو نے ہمیں اس ( مصیبت سے ) نجات دے دی تو ہم ضرور بالضرور شکر گذار لوگوں میں شامل ہوجائیں گے ۔ ’’
وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے ( ف۵۲ ) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ ( ف۵۳ ) اچھی ہوا سے انھیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے ( ف۵٤ ) ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نرے اس کے بندے ہو کر ، کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ( ف۵۵ )
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے ۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ ( طوفان میں ) گھِر گئے ، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے ۔ 31
وہی ہے جو تمہیں خشک زمین اور سمندر میں چلنے پھرنے ( کی توفیق ) دیتا ہے ، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ( سوار ) ہوتے ہو اور وہ ( کشتیاں ) لوگوں کو لے کر موافق ہوا کے جھونکوں سے چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو ( ناگہاں ) ان ( کشتیوں ) کو تیز و تند ہوا کا جھونکا آلیتا ہے اور ہر طرف سے ان ( سواروں ) کو ( جوش مارتی ہوئی ) موجیں آگھیرتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ( اب ) وہ ان ( لہروں ) سے گھر گئے ( تو اس وقت ) وہ اللہ کو پکارتے ہیں ( اس حال میں ) کہ اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں ( اور کہتے ہیں: اے اللہ! ) اگر تو نے ہمیں اس ( بَلا ) سے نجات بخش دی تو ہم ضرور ( تیرے ) شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :31 یہ توحید کے برحق ہونے کی نشانی ہر انسان کے نفس میں موجود ہے ۔ جب تک اسباب سازگار رہتے ہیں ، انسان خدا کو بھولا اور دنیا کی زندگی پر پھولا رہتا ہے ۔ جہاں اسباب نے ساتھ چھوڑا اور وہ سب سہارے جن کے بل پر وہ جی رہا تھا ٹوٹ گئے ، پھر کٹے سے کٹے مشرک اور سخت سے سخت دہریے کے قلب سے بھی یہ شہادت ابلنی شروع ہو جاتی ہے کہ اس سارے عالم اسباب پر کوئی خدا کار فرما ہے اور وہ ایک ہی خدائے غالب و توانا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو الانعام ، حاشیہ نمبر ۲۹ ) ۔