Surah

Information

Surah ID #10
Total Verses 109 Ayaat
Rukus 11
Sajdah 0
Actual Order #51
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 40, 94, 95, 96, from Madina
Surah 10: Yunus Ayat #28
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡ‌ۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ‌ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ‏ ﴿28﴾
And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah , "[Remain in] your place, you and your 'partners.' " Then We will separate them, and their "partners" will say, "You did not used to worship us,
اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان کی آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وہ شرکا کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے ۔

More translations & tafseer

و يوم نحشرهم جميعا ثم نقول للذين اشركوا مكانكم انتم و شركاؤكم فزيلنا بينهم و قال شركاؤهم ما كنتم ايانا تعبدون
And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah , "[Remain in] your place, you and your 'partners.' " Then We will separate them, and their "partners" will say, "You did not used to worship us,
Aur woh din bhi qabil-e-ziker hai jiss roz hum inn sab ko jama keren gay phir mushrikeen say kahen gay kay tum aur tumharay shareek apni jagah thehro phir hum inn kay aapas mein phoot daal den gay aur inn kay woh shurka kahen gay kay tum humari ibadat nahi kertay thay.
اور ( یاد رکھو ) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر جن لوگوں نے شرک کیا تھا ، ان سے کہیں گے کہ :‘‘ ذرا اپنی جگہ ٹھہرو ، تم بھی اور وہ بھی جن کو تم نے اللہ کا شریک مانا تھا ۔ ’’ پھر ان کے درمیان ( عابد اور معبود کا ) جو رشتہ تھا ، ہم وہ ختم کردیں گے ، اور ان کے وہ شریک کہیں گے کہ :‘‘ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ( ١٦ ) ۔
اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے ( ف۷۱ ) پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک ( ف۷۲ ) تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے ( ف۷۳ )
جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ ﴿اپنی عدالت میں﴾ اکٹھا کریں گے ، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے 36 اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ،
اورجس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے: تم اور تمہارے شریک ( بتانِ باطل ) اپنی اپنی جگہ ٹھہرو ۔ پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے ۔ اور ان کے ( اپنے گھڑے ہوئے ) شریک ( ان سے ) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :36 متن میں فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ کے الفاظ ہیں ۔ اس کا مفہوم بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط و تعلق توڑ دیں گے تا کہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کا لحاظ نہ کریں ۔ لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں ۔ محاورہ عرب کی رو سے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان تمیز پیدا کر دیں گے ، یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کر دیں گے ۔ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے ہم نے یہ طرز بیان اختیار کیا ہے کہ” ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے“ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہوگی ، مشرکین جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جن کو ہم دنیا میں معبود بنائے ہوئے تھے ، اور ان کے معبود جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جنہوں نے ہمیں اپنا معبود بنا رکھا تھا ۔
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن ، کافر ، نیک ، بد ، جن انسان ، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے ۔ سب کا حشر ہوگا ، ایک بھی باقی نہ رہے گا ۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا ۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی ، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا ۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے ۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی ، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے ۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے ۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے ۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی ۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے ۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے ، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے ۔ تم اندھی ، نہ سنتی ، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بےخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم ۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر ، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے ۔ اس حی و قیوم ، سمیع و بصیر ، قادر و مالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا ۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو ۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں ۔ ہر قسم کے شرک سے بچو ۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو ۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا ۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کر لے گا ۔ نیک و بد سامنے آجائے گا ۔ اسرار بے نقاب ہوں گے ، کھل پڑیں گے ، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے ۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے ، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی ۔ آپ اپنا حساب کر لے گا ۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے ۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا ۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے ۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے ، چاند پرست چاند کے پیچھے ، بت پرست بتوں کے پیچھے ۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے ۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا ۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی ، بھرم کھل جائیں گے ، پردے اٹھ جائیں گے ۔