Surah

Information

Surah ID #2
Total Verses 286 Ayaat
Rukus 40
Sajdah 0
Actual Order #87
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 281 from Mina at the time of the Last Hajj
Surah 2: Al-Baqara Ayat #150
وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَڪُمۡ شَطۡرَهٗ ۙ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِىۡ وَلِاُتِمَّ نِعۡمَتِىۡ عَلَيۡكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۙ‌ۛ‏ ﴿150﴾
And from wherever you go out [for prayer], turn your face toward al-Masjid al-Haram. And wherever you [believers] may be, turn your faces toward it in order that the people will not have any argument against you, except for those of them who commit wrong; so fear them not but fear Me. And [it is] so I may complete My favor upon you and that you may be guided.
اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ رہ جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راہ راست پاؤ ۔

More translations & tafseer

و من حيث خرجت فول وجهك شطر المسجد الحرام و حيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره للا يكون للناس عليكم حجة الا الذين ظلموا منهم فلا تخشوهم و اخشوني و لاتم نعمتي عليكم و لعلكم تهتدون
And from wherever you go out [for prayer], turn your face toward al-Masjid al-Haram. And wherever you [believers] may be, turn your faces toward it in order that the people will not have any argument against you, except for those of them who commit wrong; so fear them not but fear Me. And [it is] so I may complete My favor upon you and that you may be guided.
Aur jiss jagah say aap niklen apna mun masjid-e-haram ki taraf pher len aur jahan kahin tum ho apney chehray issi taraf kiya kero takay logon ki koi hujjat tum per baqi na reh jaye siwaye unn logon kay jinhon ney inn mein say zulm kiya hai tum inn say na daro mujh hi say daro aur takay mein apni nemat tum per poori keroon aur iss liye bhi kay tum raah-e-raast pao.
اور جہاں سے بھی تم نکلو ، اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو ، اور تم جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اسی کی طرف رکھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف حجت بازی کا موقع نہ ملے ( ٩٩ ) البتہ ان میں جو لوگ ظلم کے خوگر ہیں ( وہ کبھی خاموش نہ ہوں گے ) سو ان کا کچھ خوف نہ رکھو ، ہاں میرا خوف رکھو اور تاکہ میں تم پر اپنا انعام مکمل کردو اور تاکہ تم ہدایت حاصل کرلو ۔
اور اے محبوب تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے ( ف۲۷۳ ) مگر جو ان میں ناانصافی کریں ( ف۲۷٤ ) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ ، ( ۱۵۰ )
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔ 150 ہاں جو ظالم ہیں ، ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی ۔ تو ان سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں 151 اور اس توقع پر 152 کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے ۔
اور تم جدھر سے بھی ( سفر پر ) نکلو اپنا چہرہ ( نماز کے وقت ) مسجدِ حرام کی طرف پھیر لو ، اور ( اے مسلمانو! ) تم جہاں کہیں بھی ہو سو اپنے چہرے اسی کی سمت پھیر لیا کرو تاکہ لوگوں کے پاس تم پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہ رہے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں حد سے بڑھنے والے ہیں ، پس تم ان سے مت ڈرو مجھ سے ڈرا کرو ، اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اور تاکہ تم کامل ہدایت پا جاؤ
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :150 یعنی ہمارے اس حکم کی پُوری پابندی کرو ۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دُوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے ۔ ورنہ تمہارے دُشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے ، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں ، جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :151 نعمت سے مُراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے ، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس اُمت کو دی گئی تھی ۔ دنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِر تَشْرِیْعِی سے اقوامِ عالم کی رہنما و پیشوا بنائی جائے اور نَوعِ انسانی کو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلانے کی خدمت اس کے سپرد کی جائے ۔ یہ منصب جس اُمت کو دیا گیا ، حقیقت میں اس پر اللہ کے فضل و انعام کی تکمیل ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرما رہا ہے کہ تحویلِ قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کا نشان ہے ، لہٰذا تمہیں اس لیے بھی ہمارے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے کہ ناشکری و نافرمانی کرنے سے کہیں یہ منصب تم سے چھین نہ لیا جائے ۔ اس کی پیروی کر و گے ، تو یہ نعمت تم پر مکمل کر دی جائے گی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :152 یعنی اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے یہ اُمید رکھو ۔ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے ۔ بادشاہ کا اپنی شان بے نیازی کے ساتھ کسی نوکر سے یہ کہہ دینا کہ ہماری طرف سے فلاں عنایت و مہربانی کے اُمیدوار رہو ، اس بات کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے کہ وہ ملازم اپنے گھر شادیانے بجوا دے اور اسے مبارکبادیاں دی جانے لگیں ۔
پہلے حکم میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی ۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو بار بار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرمایا تا کہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے ، حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں ( صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ) پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بےجان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی ۔