Surah

Information

Surah ID #2
Total Verses 286 Ayaat
Rukus 40
Sajdah 0
Actual Order #87
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 281 from Mina at the time of the Last Hajj
Surah 2: Al-Baqara Ayat #154
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿154﴾
And do not say about those who are killed in the way of Allah , "They are dead." Rather, they are alive, but you perceive [it] not.
اور اللہ تعالٰی کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں ، لیکن تم نہیں سمجھتے ۔

More translations & tafseer

و لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء و لكن لا تشعرون
And do not say about those who are killed in the way of Allah , "They are dead." Rather, they are alive, but you perceive [it] not.
Aur Allah Taalaa ki raah kay shaheedon ko murda mat kaho woh zinda hain lekin tum nahi samajhtay.
اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو ، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو ( ان کی زندگی کا ) احساس نہیں ہوتا
اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو ( ف۲۸۰ ) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔ ( ف۲۸۱ )
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، انہیں مردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا 155 ۔
اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مُردہ ہیں ، ( وہ مُردہ نہیں ) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ( ان کی زندگی کا ) شعور نہیں
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :155 موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے ۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شُہداء فی سبیل اللہ کو مردہ کہا جائے ، کیونکہ اس سے جماعت کے لوگوں میں جذبہء جہاد و قتال اور روح جاں فروشی کے سرد پڑ جانے کا اندیشہ ہے ۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہل ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں جان دیتا ہے ، وہ حقیقت میں حیاتِ جاوداں پاتا ہے ۔ یہ تصوّر مطابقِ واقعہ بھی ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے ۔
پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں ، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں ، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے ۔