Surah

Information

Surah ID #2
Total Verses 286 Ayaat
Rukus 40
Sajdah 0
Actual Order #87
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 281 from Mina at the time of the Last Hajj
Surah 2: Al-Baqara Ayat #155
وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ‏ ﴿155﴾
And We will surely test you with something of fear and hunger and a loss of wealth and lives and fruits, but give good tidings to the patient,
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

More translations & tafseer

و لنبلونكم بشيء من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرت و بشر الصبرين
And We will surely test you with something of fear and hunger and a loss of wealth and lives and fruits, but give good tidings to the patient,
Aur hum kissi na kissi tarah tumhari aazmaish zaroor keren gay dushman kay darr say bhook piyas say maal-o-jaan aur phalon ki kami say aur unn sabar kerney walon ko khushkhabri dey dijiye.
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور ، ( کبھی ) خوف سے اور ( کبھی ) بھوک سے ( کبھی ) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ ( ایسے حالات میں ) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو ۔
اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے ( ف۲۸۲ ) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے ( ف۲۸۳ ) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو ۔
اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر ، فاقہ کشی ، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں ۔
اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ، اور ( اے حبیب! ) آپ ( ان ) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں
وفائے عہد کے آزمائش لازم ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کسے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے ، جیسے فرماتا ہے آیت ( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ ) 47 ۔ محمد:31 ) یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کرلیں گے اور جگہ ہے آیت ( فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ) 6 ۔ النحل:112 ) مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف ، کچھ بھوک ، کچھ مال کی کمی ، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب ، دوست و احباب کی موت ، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے ، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بےصبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں ۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے ، بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے ، مال کی کمی سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ہے ، جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں ، پھلوں سے مراد اولاد ہے ، لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے واللہ اعلم ۔