Surah

Information

Surah ID #12
Total Verses 111 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 0
Actual Order #53
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 1, 2, 3, 7, from Madina
Surah 12: Yusuf Ayat #80
فَلَمَّا اسۡتَايۡــَٔسُوۡا مِنۡهُ خَلَصُوۡا نَجِيًّا‌ ؕ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطْتُّمۡ فِىۡ يُوۡسُفَ‌ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰى يَاۡذَنَ لِىۡۤ اَبِىۡۤ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِىۡ‌ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ‏ ﴿80﴾
So when they had despaired of him, they secluded themselves in private consultation. The eldest of them said, "Do you not know that your father has taken upon you an oath by Allah and [that] before you failed in [your duty to] Joseph? So I will never leave [this] land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of judges.
جب یہ اس سے مایوس ہوگئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پختہ قول قرار لیا ہے اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم کوتاہی کر چکے ہو ۔ پس میں تو اس سرزمین سے نہ ٹلوں گا جب تک کہ والد صاحب خود مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ تعالٰی میرے اس معاملے کا فیصلہ کر دے ، وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔

More translations & tafseer

فلما استيسوا منه خلصوا نجيا قال كبيرهم الم تعلموا ان اباكم قد اخذ عليكم موثقا من الله و من قبل ما فرطتم في يوسف فلن ابرح الارض حتى ياذن لي ابي او يحكم الله لي و هو خير الحكمين
So when they had despaired of him, they secluded themselves in private consultation. The eldest of them said, "Do you not know that your father has taken upon you an oath by Allah and [that] before you failed in [your duty to] Joseph? So I will never leave [this] land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of judges.
Jab yeh iss say mayus hogaye to tanahee mein beth ker mashwara kerney lagay. Inn mein jo sab say bara tha uss ney kaha tumhen maloom nahi kay tumharay walid ney tum say Allah ki qasam ley ker pukhta qol-o-qarar liya hai aur iss say pehlay yousuf kay baray mein tum kotahi ker chukay ho. Pus mein to iss sir zamin say na taloo ga jabtak walid shab khud mujhay ijazat na den ya Allah Taalaa meray iss moamlay ka faisla ker den wohi behtareen faisla kerney wala hai.
چنانچہ جب وہ یوسف سے مایوس ہوگئے تو الگ ہو کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے ۔ ان سب میں جو بڑا تھا ، اس نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر عہد لیا تھا ، اور اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں جو قصور کرچکے ہو ، ( وہ بھی معلوم ہے ) لہذا میں تو اس ملک سے اس وقت تک نہیں ٹلوں گا جب تک میرے والد مجھے اجازت نہ دیں ، یا اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرمادے ۔ اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے ، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ ( ف۱۸۵ ) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے ( ف۱۸٦ ) اور اس کا حکم سب سے بہتر ،
جب وہ یوسف ( علیہ السلام ) سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر عہد و پیمان لے چکے ہیں ؟ اور اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام ) کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے ۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں ، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔
پھر جب وہ یوسف ( علیہ السلام ) سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں ( باہم ) سرگوشی کرنے لگے ، ان کے بڑے ( بھائی ) نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اﷲ کی قسم اٹھوا کر پختہ وعدہ لیا تھا اور اس سے پہلے تم یوسف کے حق میں جو زیادتیاں کر چکے ہو ( تمہیں وہ بھی معلوم ہیں ) ، سو میں اس سرزمین سے ہرگز نہیں جاؤں گا جب تک مجھے میرا باپ اجازت ( نہ ) دے یا میرے لئے اﷲ کوئی فیصلہ فرما دے ، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہو گئے ، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے ۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے ۔ الزام ثابت ہو چکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں ، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہو چکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں ۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے ۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا ۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو ۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کر دی ۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے ۔ کہ ہم نے صداقت ، امانت ، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں ، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے ۔