Surah

Information

Surah ID #17
Total Verses 111 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 1
Actual Order #50
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 26, 32, 33, 57, 73-80, from Madina
Surah 17: Al-Isra' Ayat #100
قُلْ لَّوۡ اَنۡـتُمۡ تَمۡلِكُوۡنَ خَزَآٮِٕنَ رَحۡمَةِ رَبِّىۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ الۡاِنۡفَاقِ‌ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا‏ ﴿100﴾
Say [to them], "If you possessed the depositories of the mercy of my Lord, then you would withhold out of fear of spending." And ever has man been stingy.
کہہ دیجئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہو جانے کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل ۔

More translations & tafseer

قل لو انتم تملكون خزاىن رحمة ربي اذا لامسكتم خشية الانفاق و كان الانسان قتورا
Say [to them], "If you possessed the depositories of the mercy of my Lord, then you would withhold out of fear of spending." And ever has man been stingy.
Keh dijiye kay agar bil farz tum meray rab ki rehmaton kay khazanon kay malik bann jatay to tum uss waqt bhi uss kay kharch ho janey kay khof say uss ko rokay rakhtay aur insan hai hi tang dil.
۔ ( اے پیغمبر ! ان کافروں سے ) کہہ دو کہ : اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے کہیں تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے ڈر سے ضرور ہاتھ روک لیتے ۔ ( ٥٢ ) اور انسان ہے ہی بڑا تنگ دل ۔
تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے ( ف۲۰۹ ) تو انھیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں ، اور آدمی بڑا کنجوس ہے ،
اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، ان سے کہو ، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے ۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے ۔ 112 ؏ ١١
فرما دیجئے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تب بھی ( سب ) خرچ ہوجانے کے خوف سے تم ( اپنے ہاتھ ) روکے رکھتے ، اور انسان بہت ہی تنگ دل اور بخیل واقع ہوا ہے
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :112 یہ اشارہ اسی مضمون کی طرف ہے جو اس سے پہلے آیت ۵۵ وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ میں گزر چکا ہے ۔ مشرکین مکہ جن نفسیاتی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے تھے ان میں سے ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس طرح انہیں آپ کا فضل وشرف ماننا پڑتا تھا ، اور اپنے کسی معاصر اور ہم چشم کا فضل ماننے کے لیے انسان مشکل ہی سے آمادہ ہوا کرتا ہے ۔ اسی پر فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی بخیلی کا حال یہ ہے کہ کسی کے واقعی مرتبے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کا دل دکھتا ہے ، انہیں اگر کہیں خدا نے اپنے خزانہائے رحمت کی کنجیاں حوالے کر دی ہوتیں تو وہ کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے ۔
انسانی فطرت کا نفسیانی تجزیہ انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الہٰی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہو جائے تو ہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اگر ملک کے کسی حصے کے یہ مالک ہو جائیں تو کسی کو ایک کوڑی پرکھنے کو نہ دیں ۔ پس یہ انسانی طبیعت ہے ہاں جو اللہ کی طرف سے ہدایت کئے جائیں اور توفیق خیر دئیے جائیں وہ اس بدخصلت سے نفرت کرتے ہیں وہ سخی اور دوسروں کا بھلا کرنے والے ہوتے ہیں ۔ انسان بڑا ہی جلد باز ہے تکلیف کے وقت لڑکھڑا جاتا ہے اور راحت کے وقت بھول جاتا ہے اور دوسروں کے فائدہ سے اپنے ہاتھ روکنے لگتا ہے ہاں نمازی لوگ اس سے بری ہیں الخ ایسی آیتیں قرآن میں اور بھی بہت سی ہیں ۔ اس سے اللہ کے فضل و کرم اس کی بخشش و رحم کا پتہ چلتا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ دن رات کا خرچ اللہ کے ہاتھ میں ہیں اس میں کوئی کمی نہیں لاتا ابتدا سے اب تک کے خرچ نے بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی ۔