Surah

Information

Surah ID #2
Total Verses 286 Ayaat
Rukus 40
Sajdah 0
Actual Order #87
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 281 from Mina at the time of the Last Hajj
Surah 2: Al-Baqara Ayat #224
وَلَا تَجۡعَلُوا اللّٰهَ عُرۡضَةً لِّاَيۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصۡلِحُوۡا بَيۡنَ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‏ ﴿224﴾
And do not make [your oath by] Allah an excuse against being righteous and fearing Allah and making peace among people. And Allah is Hearing and Knowing.
اور اللہ تعالٰی کو اپنی قسموں کا ( اس طرح ) نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان کی اصلاح کو چھوڑ بیٹھو اور اللہ تعالٰی سننے والا جاننے والا ہے ۔

More translations & tafseer

و لا تجعلوا الله عرضة لايمانكم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بين الناس و الله سميع عليم
And do not make [your oath by] Allah an excuse against being righteous and fearing Allah and making peace among people. And Allah is Hearing and Knowing.
Aur Allah Taalaa ko apni qasmon ka iss tarah nishana na banao kay bhalaee aur perhezgari aur logon kay darmiyan ki islaah ko chor betho aur Allah Taalaa sunney wala janney wala hai.
اور اللہ ( کے نام ) کو اپنی قسموں میں اس غرض سے اتعمال نہ کرو کہ اس کے ذریعے نیکی اور تقوی کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے بچ سکو ( ١٤٦ ) اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے ۔
اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو ( ف٤۳۸ ) کہ احسان اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو ، اور اللہ سنتا جانتا ہے ،
اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو ، جن سے مقصود نیکی اور تقوٰی اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو ۔ 243 اللہ تمہاری باتین سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔
اور اپنی قَسموں کے باعث اﷲ ( کے نام ) کو ( لوگوں کے ساتھ ) نیکی کرنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے اور لوگوں میں صلح کرانے میں آڑ مت بناؤ ، اور اﷲ خوب سننے والا بڑا جاننے والا ہے
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :243 احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں اس پر واضح ہو جائے کہ اس قسم کے توڑ دینے ہی میں خیر اور بھلائی ہے ، اسے قسم توڑ دینی چاہیے اور کفارہ ادا کرنا چاہیے ۔ قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا یا تین دن کے روزے رکھنا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سُورہ مائدہ ، آیت ۸۹ )
قسم اور کفارہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ) 24 ۔ النور:22 ) یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں ، انہیں چاہئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں ، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے ، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے ، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں ، فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھا لے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اَڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے ، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں ۔ حضرت مسروق وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے ، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انشاء اللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے فرمایا اے عبدالرحمن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس نیک کام کو کر لے ( بخاری و مسلم ) صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھا لے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہئے کہ اس خوبی والے کام کو کرلے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دے دے ، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ ابو داؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھا لے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے ، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے ، ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے ، ابن عباس سعید بن مسیب مسروق اور شعبی بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں ۔