Surah

Information

Surah ID #2
Total Verses 286 Ayaat
Rukus 40
Sajdah 0
Actual Order #87
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 281 from Mina at the time of the Last Hajj
Surah 2: Al-Baqara Ayat #225
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡٓ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ‏ ﴿225﴾
Allah does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths, but He imposes blame upon you for what your hearts have earned. And Allah is Forgiving and Forbearing.
اللہ تعالٰی تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو اللہ تعالٰی بخشنے والا اور بردبار ہے ۔

More translations & tafseer

لا يؤاخذكم الله باللغو في ايمانكم و لكن يؤاخذكم بما كسبت قلوبكم و الله غفور حليم
Allah does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths, but He imposes blame upon you for what your hearts have earned. And Allah is Forgiving and Forbearing.
Allah Taalaa tumhen tumhari unn qasmon per na pakray ga jo pukhta na hon haan uss ki pakar uss cheez per hai jo tumharay dilon ka fail ho Allah Taalaa bakshney wala aur burdbaar hai.
اوللہ تمہارہ لغو قسموں پر تمہاری گرفت نہیں کے گا ( ١٤٧ ) البتہ جو قسمیں تم نے اپنے دلوں کے ارادے سے کھائی ہوں گی ان پر گفرت کرے گا ۔ اور اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا بردبار ہے ۔
اور تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے ( ف٤۳۹ ) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے ،
جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو ، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ، 244 مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔
اﷲ تمہاری بے ہودہ قَسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرمائے گا مگر ان کا ضرور مؤاخذہ فرمائے گا جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو ، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بہت حلم والا ہے
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :244 یعنی بطور تکیہ کلام کے بلا ارادہ جو قسمیں زبان سے نکل جاتی ہیں ، ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے اور نہ ان پر مواخذہ ہو گا ۔
پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں ۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت ( لا الہ الا اللہ ) پڑھ لے ۔ یہ ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہو جائے ۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دِل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے ۔ دوسری آیت کے لفظ ( لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ:89 ) ہیں ، ابو داؤد میں بروایت حضرت عائشہ ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھر بار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور انہیں اللہ کی قسم ، غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دِل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا ، حضرت عائشہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں ، ان پر کفارہ نہیں ، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا ، آپ کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ اور تابعین نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے ، یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں ، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں ، ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے ، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا ، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے کہا دیکھئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کی قسم کے خلاف ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے ، بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا ، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے ، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر لے تو اسے چاہئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے ، حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو ، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے ۔ حضرت عمر نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے ، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں ۔ پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ:89 ) یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے ۔