Surah

Information

Surah ID #22
Total Verses 78 Ayaat
Rukus 10
Sajdah 2
Actual Order #103
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 52-55, revealed between Makkah and Madina
Surah 22: Al-Hajj Ayat #3
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّجَادِلُ فِى اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ وَّيَـتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطٰنٍ مَّرِيۡدٍ ۙ‏ ﴿3﴾
And of the people is he who disputes about Allah without knowledge and follows every rebellious devil.
بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں ۔

More translations & tafseer

و من الناس من يجادل في الله بغير علم و يتبع كل شيطن مريد
And of the people is he who disputes about Allah without knowledge and follows every rebellious devil.
Baaz log Allah kay baray mein batein banatay hain aur woh bhi bey ilmi kay sath aur her sirkash shetan ki pairwee kertay hain.
اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بے جانے بوجھے جھگڑے کرتے ہیں ، اور اس سرکش شیطان کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں ۔
اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بےجانے بوجھے ، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں ( ف۸ )
بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں 4 اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ،
اور کچھ لوگ ( ایسے ) ہیں جو اﷲ کے بارے میں بغیر علم و دانش کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :4 آگے کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے بارے میں ان کے جس جھگڑے پر گفتگو کی جا رہی ہے وہ اللہ کی ہستی اور اس کے وجود کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے حقوق اور اختیارات اور اس کی بھیجی ہوئی تعلیمات کے بارے میں تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے توحید اور آخرت منوانا چاہتے تھے ، اور اسی پر وہ آپ سے جھگڑتے تھے ۔ ان دونوں عقیدوں پر جھگڑا آخرکار جس چیز پر جا کر ٹھہرتا وہ یہی تھی کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا ، اور یہ کہ کائنات میں آیا خدائی صرف ایک خدا ہی کی ہے یا کچھ دوسری ہستیوں کی بھی ۔
ازلی مردہ لوگ جو لوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الٰہی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں ، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں ۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں ۔ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا تھا کہ ذرا بتلاؤ تو اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا اس کے اس سوال سے آسمان لرز اٹھا اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی ۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی نے ایسا ہی سوال کیا تھا اسی وقت آسمانی کڑاکے نے اسے ہلاک کردیا ۔