Surah

Information

Surah ID #22
Total Verses 78 Ayaat
Rukus 10
Sajdah 2
Actual Order #103
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 52-55, revealed between Makkah and Madina
Surah 22: Al-Hajj Ayat #31
حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِيۡنَ بِهٖ‌ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ اَوۡ تَهۡوِىۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ‏ ﴿31﴾
Inclining [only] to Allah , not associating [anything] with Him. And he who associates with Allah - it is as though he had fallen from the sky and was snatched by the birds or the wind carried him down into a remote place.
اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے ۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا ، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی ۔

More translations & tafseer

حنفاء لله غير مشركين به و من يشرك بالله فكانما خر من السماء فتخطفه الطير او تهوي به الريح في مكان سحيق
Inclining [only] to Allah , not associating [anything] with Him. And he who associates with Allah - it is as though he had fallen from the sky and was snatched by the birds or the wind carried him down into a remote place.
Allah ki toheed ko mantay huye uss kay sath kissi ko shareek na kertay huye. Suno! Allah kay sath shareek kerney wala goya aasman say gir para abb ya to ussay parinday uchak ley jayen gay ya hawa kissi door daraz ki jagah per phenk dey gi.
کہ تم یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانتے ہو ۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا ۔ پھر یا تو پرندے اسے اچک لے جائیں ، یا ہوا اسے کہیں دور دراز کی جگہ لا پھینکے ۔ ( ١٨ )
ایک اللہ کے ہو کر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو ، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں ( ف۸۱ ) یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے ( ف۸۲ )
یکسو ہو کر اللہ کے بندے بنو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا ، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے ۔ 59
صرف اﷲ کے ہوکر رہو اس کے ساتھ ( کسی کو ) شریک نہ ٹھہراتے ہوئے ، اور جو کوئی اﷲ کے ساتھ شرک کرتاہے تو گویا وہ ( ایسے ہے جیسے ) آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو کسی دور کی جگہ میں نیچے جا پھینکے
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :59 اس تمثیل میں آسمان سے مراد ہے انسان کی فطری حالت جس میں وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہوتا اور توحید کے سوا اس کی فطرت کسی اور مذہب کو نہیں جانتی ۔ اگر انسان انبیاء کی دی ہوئی رہنمائی قبول کر لے تو وہ اسی فطری حالت پر علم اور بصیرت کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے ، اور آگے اس کی پرواز مزید بلندیوں ہی کی طرف ہوتی ہے ۔ نہ کہ پستیوں کی طرف ۔ لیکن شرک ( اور صرف شرک ہی نہیں بلکہ دہریت اور الحاد بھی ) اختیار کرتے ہی وہ اپنی فطرت کے آسمان سے یکایک گر پڑتا ہے اور پھر اس کو دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت لازماً پیش آتی ہے ۔ ایک یہ کہ شیاطین اور گمراہ کرنے والے انسان ، جن کو اس تمثیل میں شکاری پرندوں سے تشبیہ دی گئی ہے ، اس کی طرف جھپٹتے ہیں اور ہر ایک اسے اچک لے جانے کی کوشش کرتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس کی اپنی خواہشات نفس اور اس کے اپنے جذبات اور تخیلات ، جن کو ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے ، اسے اڑائے اڑائے لیے پھرتے ہیں اور آخر کار اس کو کسی گہرے کھڈ میں لے جا کر پھینک دیتے ہیں ۔ سحیق کا لفظ سحق سے نکلا ہے جس کے اصل معنی پیسنے کے ہیں ۔ کسی جگہ کو سحیق اس صورت میں کہیں گے جبکہ وہ اتنی گہری ہو کہ جو چیز اس میں گرے وہ پاش پاش ہو جائے ۔ یہاں فکر و اخلاق کی پستی کو اس گہرے کھڈ سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں گر کر آدمی کے پرزے اڑ جائیں ۔