Surah

Information

Surah ID #24
Total Verses 64 Ayaat
Rukus 9
Sajdah 0
Actual Order #102
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 24: An-Nur Ayat #6
وَالَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ اَزۡوَاجَهُمۡ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُهُمۡ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمۡ اَرۡبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ‌ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ﴿6﴾
And those who accuse their wives [of adultery] and have no witnesses except themselves - then the witness of one of them [shall be] four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the truthful.
جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کےنہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں ۔

More translations & tafseer

و الذين يرمون ازواجهم و لم يكن لهم شهداء الا انفسهم فشهادة احدهم اربع شهدت بالله انه لمن الصدقين
And those who accuse their wives [of adultery] and have no witnesses except themselves - then the witness of one of them [shall be] four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the truthful.
Jo log apni biwiyon per bad-kaari ki tohmat lagayen aur unn ka koi gawah ba-juz khud unn ki zaat kay na ho to aisay logon mein say her aik ka saboot yeh hai kay char martaba Allah ki qasam kha ker kahen kay woh sachon mein say hain.
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں ( ٧ ) اور خود اپنے سوا ان کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی شخص کو جو گواہی دینی ہوگی وہ یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ بیان دے کہ وہ ( بیوی پر لگائے ہوئے الزام میں ) یقینا سچا ہے ۔
اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں ( ف۱۱ ) اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے ( ف۱۲ )
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت ﴿یہ ہے کہ وہ﴾ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ ﴿اپنے الزام میں﴾ سچا ہے
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر ( بدکاری کی ) تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی بھی ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ ( وہ خود ) چار مرتبہ اللہ کی قَسم کھا کر گواہی دے کہ وہ ( الزام لگانے میں ) سچا ہے
بقیہ حصہ ریکارڈنمبر2815 آیت نمبر2 ( ۵ ) زنا کو قابل سزا فعل تو 3ھ میں ہی قرار دے دیا گیا تھا ، لیکن اس وقت یہ ایک قانونی جرم نہ تھا جس پر ریاست کی پولیس اور عدالت کوئی کارروائی کرے ، بلکہ اس کی حیثیت ایک معاشرتی یا خاندانی جرم کی سی تھی جس پر اہل خاندان ہی کی بطور خود سزا سے لینے کا اختیار تھا ۔ حکم یہ تھا کہ اگر چار گواہ اس امر کی شہاست دے دیں کہ انہوں نے ایک مرد اور ایک عورت کو زنا کرتے دیکھا ہے تو دونوں کو مارا پیٹا جائے ، اور عورت کو گھر میں قید کردیا جائے ۔ اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی کردیا گیا تھا کہ یہ قاعدہ تا حکم ثانی ہے ، اصل قانون بعد میں آنے والا ہے ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، صفحہ 331 ) اس کے ڈھائی تین سال بعد یہ حکم نازل ہوا جو آپ اس آیت میں پا رہے ہیں ، اور اس نے حکم سابق کو منسوخ کر کے زنا کو ایک قانونی جرم قابل دست اندازی سرکار ( Cognizable offene ) قرار دے دیا ۔ ( ۶ ) اس آیت میں زنا کی جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ دراصل محض زنا کی سزا ہے ، زنا بعد احصان ( یعنی شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کے ارتکاب ) کی سزا نہیں ہے جو اسلامی قانون کی نگاہ میں سخت تر جرم ہے ، یہ بات خود قرآن ہی کے ایک اشارے سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ یہاں اس زنا کی سزا بیان کر رہا ہے جس کے فریقین غیر شادی شدہ ہوں ۔ سورہ نساء میں پہلے ارشاد ہوا کہ: وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْھُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰىھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا ( آیت 15 ) تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو ، اور اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے ۔ اس کے بعد تھوڑی دور آگے چل کر پھر فرمایا: وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ۔ ۔ ۔ ۔ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ( آیت 25 ) اور تم میں سے جو لوگ اتنی مقدرت نہ رکھتے ہوں کہ مومنوں میں سے محصنت کے ساتھ نکاح کریں تو وہ تمہاری مومن لونڈیوں سے نکاح کرلیں ۔ ۔ ۔ پھر اگر وہ ( لونڈیاں ) محصنہ ہوجانے کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو محصنت کو ( ایسے جرم پر ) دی جائے ۔ ان میں سے پہلی آیت میں توقع دلائی گئی ہے کہ زانیہ عورتیں جن کو سردست قید کرنے کا حکم دیا جارہا ہے ان کے لیے اللہ تعالی بعد میں کوئی سبیل پیدا کرے گا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سورہ نور کا یہ دوسرا حکم وہی چیز ہے جس کا وعدہ سورہ نساء کی مذکورہ بالا آیت میں کیا گیا تھا ۔ دوسری آیت میں شادی شدہ لونڈی کے ارتکاب زنا کی سزا بیان کی گئی ہے ۔ یہاں ایک ہی آیت اور ایک ہی سلسلہ بیان میں دو جگہ محصنات کا لفظ استعمال ہوا ہے اور لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ دونوں جگہ اس کے ایک ہی معنی ہیں ۔ اب آغاز کے فقرے کو دیکھیے تو وہاں کہا جارہا ہے کہ جو لوگ محصنات سے نکاح کرنے کی مقدرت نہ رکھتے ہوں ۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد شادی شدہ عورت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک آزاد خاندان کی بن بیاہی عورت ہی ہوسکتی ہے ۔ اس کے بعد اختتام کے فقرے میں فرمایا جاتا ہے کہ لونڈی منکوحہ ہونے کے بعد اگر زنا کرے تو اس کو اس سزا سے آدھی سزا دی جائے جو محصنات کو اس جرم پر ملنی چاہیے ۔ سیاق عبارت صاف بتاتا ہے کہ اس فقرے میں بھی محصنات کے معنی وہی ہیں جو پہلے فقرے میں تھے ، یعنی شادی شدہ عورت نہیں بلکہ آزاد خاندان کی حفاظت میں رہنے والی بن بیاہی عورت ۔ اس طرح سورہ نساء کی یہ دونوں آیتیں مل کر اس امر کی طرف اشارہ کردیتی ہیں کہ سورہ نور کا یہ حکم ، جس کا وہاں وعدہ کیا گیا تھا ، غیر شادی شدہ لوگوں کے ارتکاب زنا کی سزا بیان کرتا ہے ۔ ( مزید توضیح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول ، النساء حاشیہ 46 ) ( ۷ ) یہ امر کہ زنا بعد احصان کی سزا کیا ہے ، قرآن مجید نہیں بتاتا بلکہ اس کا علم ہمیں حدیث سے حاصل ہوتا ہے بکثرت معتبر روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف قولاً اس کی سزا رجم ( سنگساری ) بیان فرمائی ہے ، بلکہ عملاً آپ نے متعدد مقدمات میں یہی سزا نافذ بھی کی ہے ۔ پھر آپ کے بعد چاروں خلفاۓ راشدین نے اپنے اپنے دور میں یہی سزا نافذ کی اور اسی کے قانونی سزا ہونے کا بار بار اعلان کیا ۔ صحابہ کرام اور تابعین میں یہ مسئلہ بالکل متفق علیہ تھا ۔ کسی ایک شخص کا بھی کوئی قول ایسا موجود نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے کہ قرن اول میں کسی کو اس کے ایک ثابت شدہ حکم شرعی ہونے میں کوئی شک تھا ۔ ان کے بعد تمام زمانوں اور ملکوں کے فقہاۓ اسلام اس بات پر متفق رہے ہیں کہ یہ ایک سنت ثابتہ ہے ، کیونکہ اس کی صحت کے اتنے متواتر اور قوی ثبوت موجود ہیں جن کے ہوتے کوئی صاحب علم اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔ امت کی پوری تاریخ میں بجز خوارج اور بعض معتزلہ کے کسی نے بھی اس سے انکار نہیں کیا ہے ، اور ان کے انکار کی بنیاد بھی یہ نہیں تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس حکم کے ثبوت میں وہ کسی کمزوری کی نشان دہی کر سکے ہوں ، بلکہ وہ اسے قرآن کے خلاف قرار دیتے تھے ۔ حالانکہ یہ ان کے اپنے فہم قرآن کو قصور تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن : الزّانی و الذّانیۃ کے مطلق الفاظ استعمال کر کے اس کی سزا سو کوڑے بیان کرتا ہے ، لہٰذا قرآن کی رو سے ہر قسم کے زانی اور زانیہ کی سزا یہی ہے اور اس سے زانی محصِن کو الگ کر کے اس کی کوئی سزا تجویز کرنا قانون خداوند کی خلاف ورزی ہے ، مگر انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ قرآن کے الفاظ جو قانونی وزن رکھتے ہیں وہی قانونی وزن ان کی اس تشریح کا بھی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کی ہو ، بشرطیکہ وہ آپ سے ثابت ہو ۔ قرآن نے ایسے ہی مطلق الفاظ میں : السّارق و السّارقۃ کا حکم بھی قطع ید بیان کیا ہے ۔ اس حکم کو اگر ان تشریحات سے مقید نہ کیا جاۓ جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں تو اس کے الفاظ کی عمومیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ایک بیر کی چوری پر بھی آدمی کو سارق قرار دیں اور پھر پکڑ کر اس کا ہاتھ شانے کے پاس سے کاٹ دیں ۔ دوسری طرف لاکھوں روپے کی چوری کرنے والا بھی اگر گرفتار ہوتے ہی کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کی اصلاح کر لی ہے اور اب میں چوری سے توبہ کرتا ہوں تو آپ کو اسے چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ قرآن کہتا ہے : فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللہَ یَتُوْ بُ عَلَیْہِ ( المائدہ ۔ آیت 39 ) ۔ اسی طرح قرآن صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کی حرمت بیان کرتا ہے ، رضاعی بیٹی کی حرمت اس استدلال کی رو سے قرآن کے خلاف ہونی چاہیے ۔ قرآن صرف دو بہنوں کے جمع کرنے سے منع کرتا ہے ۔ خالہ اور بھانجی ، اور پھوپھی اور بھتیجی کے جمع کرنے کو شخص حرام کہے اس پر قرآن کے خلاف حکم لگانے کا الزام عائد ہونا چاہیے ۔ قرآن صرف اس حالت میں سوتیلی بیٹی کو حرام کرتا ہے جب کہ اس نے سوتیلے باپ کے گھر میں پرورش پائی ہو ۔ مطلقاً اس کی حرمت خلاف قرآن قرار پانی چاہیے ۔ قرآن صرف اس وقت رہن کی اجازت دیتا ہے جب کہ آدمی سفر میں ہو اور قرض کی دستاویز لکھنے والا کاتب میسر نہ آۓ ۔ حضر میں ، اور کاتب کے قابل حصول ہونے کی صورت میں رہن کا جواز قرآن کے خلاف ہونا چاہیے ۔ قرآن عام لفظوں میں حکم دیتا ہے : وَاَشْھِدُوْآ اِذَا تَبَایَعْتُمْ ( گواہ بناؤ جب کہ آپس میں خرید و فروخت کرو ) ۔ اب وہ تمام خرید و فروخت ناجائز ہونی چاہیے جو رات دن ہماری دکانوں پر گواہی کے بغیر ہو رہی ہے ۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جن پر ایک نگاہ ڈال لینے سے ہی ان لوگوں کے استدلال کی غلطی معلوم ہو جاتی ہے جو رجم کے حکم کو خلاف قرآن کہتے ہیں ۔ نظام شریعت میں نبی کا یہ منصب ناقابل انکار ہے کہ وہ خدا کا حکم پہنچانے کے بعد ہمیں بتاۓ کہ اس حکم کا منشا کیا ہے ، اس پر عمل کرنے کا طریقہ کیا ہے ، کن معاملات پر اس کا اطلاق ہوگا ، اور کن معاملات کے لیے دوسرا حکم ہے ۔ اس منصب کا انکار صرف اصول دین ہی کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس سے اتنی عملی قباحتیں لازم آتی ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا ۔ ( ۸ ) زنا کی قانونی تعریف میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ حنفیہ اس کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ ایک مرد کا کسی ایسی عورت سے قُبُل میں مباشرت کرنا جو نہ تو اس کے نکاح یا ملک یمین میں ہو اور نہ اس امر کا شبہ کی کوئی معقول وجہ ہو کہ اس نے منکوحہ یا مملوکہ سمجھتے ہوۓ اس سے مباشرت کی ہے ۔ اس تعریف کی رو سے وطی فی الدُبُر ، عمل قوم لوط ، بہائم سے مجامعت وغیرہ ، ماہیتِ زنا سے خارج ہو جاتے ہیں اور صرف عورت سے قُبُل میں مباشرت ہی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جب کہ شرعی حق یا اس کے شبہ کے بغیر یہ فعل کیا گیا ہو ۔ بخلاف اس کے شافعیہ اس کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں شرمگاہ کو ایسی شرمگاہ میں داخل کرنا جو شرعاً حرام ہو مگر طبعاً جس کی طرف رغبت کی جا سکتی ہو ۔ اور مالکیہ کے نزدیک اس کی تعریف یہ ہے شرعی حق یا اس کے شبہ کے بغیر قُبُل یا دُبُر میں مرد یا عورت سے وطی کرنا ۔ ان دونوں تعریفوں کی رو سے عمل قوم لوط بھی زنا میں شمار ہو جاتا ہے ۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ دونوں تعریفیں لفظ زنا کے معروف معنوں سے ہٹی ہوئی ہیں ۔ قرآن مجید ہمیشہ الفاظ کو ان کے معروف اور عام فہم معنی میں استعمال کرتا ہے ۔ الا یہ کہ وہ کسی لفظ کو اپنی اصطلاح خاص بنا رہا ہو ، اور اصطلاح خاص بنانے کی صورت میں وہ خود اپنے مفہوم خاص کو ظاہر کر دیتا ہے ۔ یہاں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے کہ لفظ زنا کو کسی مخصوص معنی میں استعمال کیا گیا ہو ، لہٰذا اسے معروف معنی ہی میں لیا جاۓ گا ، اور وہ عورت سے فطری مگر نا جائز تعلق تک ہی محدود ہے ، شہوت رانی کی دوسری صورتوں تک وسیع نہیں ہوتا ۔ علاوہ بریں یہ بات معلوم ہے کہ عمل قوم لوط کی سزا کے بارے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا ہے ۔ اگر اس فعل کا شمار بھی اسلامی اصطلاح کی رو سے زنا میں ہوتا تو ظاہر ہے کہ اختلاف راۓ کی کوئی وجہ نہ تھی ۔ ( ۹ ) قانوناً ایک فعل زنا کو مستلزم سزا قرار دینے کے لیے صرف اِدخال حشفہ کافی ہے ۔ پورا ادخال یا تکمیل فعل اس کے لیے ضروری نہیں ہے ۔ اس کے برعکس اگر ادخال حشفہ نہ ہو تو محض ایک بستر پر یکجا پایا جانا ، یا ملاعبت کرتے ہوۓ دیکھا جانا ، یا برہنہ پایا جانا کسی کو زانی قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اور اسلامی شریعت اس حد تک بھی نہیں جاتی کہ کوئی جوڑا ایسی حالت میں پایا جاۓ تو اس کا ڈاکٹری معائنہ کرا کے زنا کا ثبوت بہم پہنچایا جاۓ اور پھر اس پر حد زنا جاری کی جاۓ ۔ جو لوگ اس طرح کی بے حیائی میں مبتلا پاۓ جائیں ان پر صرف تعزیر ہے ۔ جس کا فیصلہ حالات کے لحاظ سے حاکم عدالت خود کرے گا ، یا جس کے لیے اسلامی حکومت کی مجلس شوریٰ کوئی سزا تجویز کرنے کی مجاز ہوگی ۔ یہ تعزیر اگر کوڑوں کی شکل میں ہو تو دس کوڑوں سے زیادہ نہیں لگاۓ جا سکتے ، کیونکہ حدیث میں تصریح ہے کہ : لا یجلد فوق عشر جلداتٍ اِلَّا فی حدٍّ من حدود اللہ ۔ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے سوا کسی اور جرم میں دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں ( بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ) ۔ اور اگر کوئی شخص پکڑا نہ گیا ہو بلکہ خود نادم ہو کر ایسے کسی قصور کا اعتراف کرے تو اس کے لیے صرف توبہ کی تلقین کافی ہے ۔ عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ شہر کے باہر میں ایک عورت سے سب کچھ کر گزرا بجز جماع کے ۔ اب حضور جو چاہیں مجھے سزا دیں ۔ حضرت عمر نے کہا جب خدا نے پردہ ڈال دیا تھا تو تو بھی پردہ پڑا رہنے دیتا ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہے اور وہ شخص چلا گیا ۔ پھر آپ نے اسے واپس بلایا اور یہ آیت پڑھی : اَقِمِ الصَّلوٰۃ طَرَفَی النَّھَارِ وَ زُلَفاً مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبُنَ السَّیِّاٰتِ ۔ نماز قائم کر دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر ، نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ( ہود ، آیت 114 ) ۔ ایک شخص نے پوچھا کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے ؟ حضور نے فرمایا نہیں ، سب کے لیے ہے ( مسلم ، ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی ) ۔ یہی نہیں بلکہ شریعت اس کو بھی جائز نہیں رکھتی کہ کوئی شخص اگر جرم کی تصریح کے بغیر اپنے مجرم ہونے کا اعتراف کرے تو کھوج لگا کر اس سے پوچھا جاۓ کہ تو نے کون سا جرم کیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میں حد کا مستحق ہوگیا ہوں ، مجھ پر حد جاری فرمائیے مگر آپ نے اس سے نہیں پوچھا کہ تو کس حد کا مستحق ہوا ہے ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر وہ شخص پھر اٹھا اور کہنے لگا کہ میں مجرم ہوں مجھے سزا دیجیے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تو نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے ؟ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ۔ فرمایا بس تو اللہ نے تیرا قصور معاف کر دیا ۔ ( بخاری ، مسلم ، احمد ) ۔ ( ۱۰ ) کسی شخص ( مرد یا عورت ) کو مجرم قرار دینے لیے صرف یہ امر کافی نہیں ہے کہ اس سے فعل زنا صادر ہوا ہے ، بلکہ اس کے لیے مجرم میں کچھ شرطیں پائی جانی چاہییں ۔ یہ شرطیں زناۓ محض کے معاملے میں اور ہیں ، اور زنا بعد احصان کے معاملہ میں اور ۔ زناۓ محض کے معاملے میں شرط یہ ہے کہ مجرم عاقل ہو اور بالغ ہو ۔ اگر کسی مجنون یا کسی بچے سے یہ فعل سرزد ہو تو وہ حد زنا کا مستحق نہیں ہے ۔ اور زنا بعد اِحصان کے لیے عقل اور بلوغ کے علاوہ چند مزید شرطیں بھی ہیں جن کو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں : پہلی شرط یہ ہے کہ مجرم آزاد ہو ۔ اس شرط پر سب کا اتفاق ہے ، کیونکہ قرآن خود اشارہ کرتا ہے کہ غلام کو رجم کی سزا نہیں دی جاۓ گی ۔ ابھی یہ بات گزر چکی ہے کہ لونڈی اگر نکاح کے بعد زنا کی مرتکب ہو تو اسے غیر شادی شدہ آزاد عورت کی بہ نسبت آدھی سزا دینی چاہیے ۔ فقہاء نے تسلیم کیا ہے کہ قرآن کا یہی قانون غلام پر بھی نافذ ہو گا ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ مجرم باقاعدہ شادی شدہ ہو ۔ یہ شرط بھی متفق علیہ ہے ، اور اس شرط کی رو سے کوئی ایسا شخص جو ملک یمین کی بنا پر تمتع کر چکا ہو ، یا جس کا نکاح کسی فاسد طریقے سے ہوا ہو ، شادی شدہ قرار نہیں دیا جاۓ گا ، یعنی اس سے اگر زنا کا صدور ہو تو اس کو رجم کی نہیں بلکہ کوڑوں کی سزا دی جاۓ گی ۔ تیسری شرط یہ ہے کہ اس کا محض نکاح ہی نہ ہوا ہو بلکہ نکاح کے بعد خلوت صحیحہ بھی ہو چکی ہو ۔ صرف عقد نکاح کسی مرد کو محصِن ، یا عورت کو مُحصَنہ نہیں بنا دیتا کہ زنا کے ارتکاب کی صورت میں اس کو رجم کر دیا جاۓ ۔ اس شرط پر بھی اکثر فقہا متفق ہیں ۔ مگر امام ابو حنیفہ اور امام محمد اس میں اتنا اضافہ اور کرتے ہیں کہ ایک مرد یا ایک عورت کو محصن صرف اسی صورت میں قرار دیا جاۓ گا جب کہ نکاح اور خلوت صحیحہ کے وقت زوجین آزاد ، بالغ اور عاقل ہوں ۔ اس مزید شرط سے جو فرق واقع ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک مرد کا نکاح ایسی عورت سے ہوا ہو جو لونڈی ہو ، یا نابالغ ہو ، یا مجنون ہو ، تو خواہ وہ اس حالت میں اپنی بیوی سے لذت اندوز ہو بھی چکا ہو ، پھر بھی وہ مرتکب زنا ہونے کی صورت میں رجم کا مستحق نہ ہو گا ۔ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے اگر اس کو اپنے نابالغ یا مجنون یا غلام شوہر سے لذت اندوز ہونے کا موقع مل چکا ہو ، پھر بھی وہ مرتکب زنا ہونے کی صورت میں رجم کی مستحق نہ ہو گی ۔ غور کیا جاۓ تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی معقول اضافہ ہے جو ان دونوں بالغ النظر بزرگوں نے کیا ہے ۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ مجرم مسلمان ہو ۔ اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ امام شافعی ، امام ابو یوسف اور امام احمد ( رحمہم اللہ ) اس کو نہیں مانتے ۔ ان کے نزدیک ذِمّی بھی اگر زنا بعد احصان کا مرتکب ہو گا تو رجم کیا جاۓ گا ۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک اس امر پر متفق ہیں کہ زنا بعد احصان کی سزا رجم صرف مسلمان کے لیے ہے ۔ اس کے دلائل میں سے سب سے زیادہ معقول اور وزنی دلیل یہ ہے کہ ایک آدمی کو سنگساری جیسی خوفناک سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکمل احصان کی حالت میں ہو اور پھر بھی زنا کے ارتکاب سے باز نہ آۓ ۔ احصان کا مطلب ہے اخلاقی قلعہ بندی ، اور اس کی تکمیل تین حصاروں سے ہوتی ہے ۔ اولین حصار یہ ہے کہ آدمی خدا پر ایمان رکھتا ہو ، آخرت کی جواب دہی کا قائل ہو اور شریعت خداوندی کو تسلیم کرتا ہو ۔ دوسرا حصار یہ ہے کہ وہ معاشرے کا آزاد فرد ہو ، کسی دوسرے کی غلامی میں نہ ہو جس کی پابندیاں اسے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے جائز تدابیر اختیار کرنے میں مانع ہوتی ہیں ، اور لا چاری و مجبوری اس سے گناہ کرا سکتی ہے ، اور کوئی خاندان اسے اپنے اخلاق اور اپنی عزت کی حفاظت میں مدد دینے والا نہیں ہوتا ۔ تیسرا حصار یہ ہے کہ اس کا نکاح ہو چکا ہو اور اسے تسکین نفس کا جائز ذریعہ حاصل ہو ۔ یہ تینوں حصار جب پاۓ جاتے ہوں تب قلع بندی مکمل ہوتی ہے اور تب ہی وہ شخص بجا طور پر سنگساری کا مستحق قرار پا سکتا ہے جس نے نا جائز شہوت رانی کی خاطر تین تین حصار توڑ ڈالے ۔ لیکن جہاں پہلا اور سب سے بڑا حصار ، یعنی خدا اور آخرت اور قانون خداوندی پر ایمان ہی موجود نہ ہو وہاں یقیناً قلعہ بندی مکمل نہیں ہے اور اس بنا پر فجور کا جرم بھی اس شدت کو پہنچا ہوا نہیں ہے جو اسے انتہائی سزا کا مستحق بنا دے ۔ اس دلیل کی تائید ابن عمر کی وہ روایت کرتی ہے جسے اسحاق بن راہویہ نے اپنی مُسند میں اور دار قطنی نے اپنی سُنَن میں نقل کیا ہے کہ : من اشرک باللہ فلیس بمحصن جس نے خدا کے ساتھ شرک کیا وہ محصن نہیں ہے ۔ اگرچہ اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا ابن عمر نے اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا قول نقل کیا ہے ، یا یہ ان کا اپنا فتویٰ ہے ۔ لیکن اس کمزوری کے باوجود اس کا مضمون اپنے معنی کے لحاظ سے نہایت قوی ہے ۔ اس کے جواب میں اگر یہودیوں کے اس مقدمے سے استدلال کیا جاۓ جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رجم کا حکم نافذ فرمایا تھا ، تو ہم کہیں گے کہ یہ استدلال صحیح نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اس مقدمے کے متعلق تمام معتبر روایات کو جمع کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر اسلام کا ملکی قانون ( Law of the land ) نہیں بلکہ ان کا اپنا مذہبی قانون ( Personal law ) نافذ فرمایا تھا ۔ بخاری و مسلم کی متفقہ روایت ہے کہ جب یہ مقدمہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے یہودیوں سے پوچھا کہ : ما تجدون فی التوراۃ فی شان الرجم یا ما تجدون فی کتابکم ، یعنی تمہاری کتاب توراۃ میں اس کا کیا حکم ہے ؟ پھر جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کے ہاں رجم کا حکم ہے تو حضور نے فرمایا : فانی احکم بما فی التوراۃ میں وہی فیصلہ کرتا ہوں جو توراۃ میں ہے ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوۓ فرمایا اللھم انی اول من احیا امرک اذا ماتوہ ، خداوندا ، میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جب کہ انہوں نے اسے مردہ کر دیا تھا ۔ ( مسلم ، ابو داؤد ، احمد ) ۔ ( ۱۱ ) فعل زنا کے مرتکب کو مجرم قرار دینے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے اپنی آزاد مرضی سے یہ فعل کیا ہو ۔ جبر و اکراہ سے اگر کسی شخص کو اس فعل کے ارتکاب پر مجبور کیا گیا ہو تو وہ نہ مجرم ہے نہ سزا کا مستحق ۔ اس معاملے پر شریعت کا صرف یہ عام قاعدہ ہی منطبق نہیں ہوتا کہ آدمی جبراً کراۓ ہوۓ کاموں کی ذمہ داری سے بری ہے ۔ بلکہ آگے چل کر اسی سورے میں خود قرآن ان عورتوں کی معافی کا اعلان کرتا ہے جن کو زنا پر مجبور کیا گیا ہو ۔ نیز متعدد احادیث میں تصریح ہے کہ زنا بالجبر کی صورت میں صرف زانی جابر کو سزا دی گئی اور جس پر جبر کیا گیا تھا اسے چھوڑ دیا گیا ۔ ترمذی و ابو داؤد کی روایت ہے کہ ایک عورت اندھیرے میں نماز کے لیے نکلی ۔ راستے میں ایک شخص نے اس کو گرا لیا اور زبردستی اس کی عصمت دری کر دی ۔ اس کے شور مچانے پر لوگ آ گۓ اور زانی پکڑا گیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو رجم کرا دیا اور عورت کو چھوڑ دیا ۔ بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں ایک شخص نے ایک لڑکی سے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ۔ آپ نے اسے کوڑے لگواۓ اور لڑکی کو چھوڑ دیا ۔ ان دلائل کی بنا پر عورت کے معاملہ میں تو قانون متفق علیہ ہے ۔ لیکن اختلاف اس امر میں ہوا ہے کہ آیا مرد کے معاملے میں بھی جبر و اکراہ معتبر ہے یا نہیں ۔ امام ابو یوسف ، امام محمد ، امام شافعی اور امام حسن بن صالح ( رحمہم اللہ ) کہتے ہیں کہ مرد بھی اگر زنا کرنے پر مجبور کیا گیا ہو تو معاف کیا جاۓ گا ۔ امام زُفَر کہتے ہیں کہ اسے معاف نہیں کیا جاۓ گا ، کیونکہ وہ انتشار عضو کے بغیر اس فعل کا ارتکاب نہیں کر سکتا ، اور انتشار عضو اس امر کی دلیل ہے کہ اس کی اپنی شہوت اس کی محرک ہوئی تھی ۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت یا اس کے کسی حاکم نے آدمی کو زنا پر مجبور کیا ہو تو سزا نہیں دی جاۓ گی ، کیونکہ جب خود حکومت ہی جرم پر مجبور کرنے والی ہو تو اسے سزا دینے کا حق نہیں رہتا ۔ لیکن اگر حکومت کے سوا کسی اور نے مجبور کیا ہو تو زانی کو سزا دی جاۓ گی ، کیونکہ ارتکاب زنا بہر حال وہ اپنی شہوت کے بغیر نہ کر سکتا تھا اور شہوت جبراً پیدا نہیں کی جا سکتی ۔ ان تینوں اقوال میں سے پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے ، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انتشار عضو چاہے شہوت کی دلیل ہو مگر رضا و رغبت کی لازمی دلیل نہیں ہے ۔ فرض کیجیے کہ ایک ظالم کسی شریف آدمی کو زبردستی پکڑ کر قید کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ ایک جوان ، خوبصورت عورت کو بھی برہنہ کر کے ایک ہی کمرے میں بند رکھتا ہے اور اسے اس وقت تک رہا نہیں کرتا جب تک کہ وہ زنا کا مرتکب نہ ہو جاۓ ۔ اس حالت میں اگر یہ دونوں زنا کے مرتکب ہو جائیں اور وہ ظالم اس کے چار گواہ بنا کر انہیں عدالت میں پیش کر دے تو کیا یہ انصاف ہوگا کہ ان کے حالات کو نظر انداز کر کے انہیں سنگسار کر دیا جاۓ یا ان پر کوڑے برساۓ جائیں ؟ اس طرح کے حالات میں عقلاً یا عادتاً ممکن ہیں جن میں شہوت لاحق ہو سکتی ہے ، بغیر اس کے کہ اس میں آدمی کی اپنی رضا و رغبت کا دخل ہو ۔ اگر کسی شخص کو قید کر کے شراب کے سوا پینے کو کچھ نہ دیا جاۓ ، اور اس حالت میں وہ شراب پی لے تو کیا محض اس دلیل سے اس کو سزا دی جا سکتی ہے کہ حالات تو واقعی اس کے لیے مجبوری کے تھے مگر حلق سے شراب کا گھونٹ وہ اپنے ارادے کے بغیر نہ اتار سکتا تھا ؟ جرم کے متحقق ہونے کے لیے محض ارادے کا پایا جانا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے آزاد ارادہ ضروری ہے ۔ جو شخص زبردستی ایسے حالات میں مبتلا کیا گیا ہو کہ وہ جرم کا ارادہ کرنے پر مجبور ہو جاۓ وہ بعض صورتوں میں تو قطعی مجرم نہیں ہوتا ، اور بعض صورتوں میں اس کا جرم بہت ہلکا ہو جاتا ہے ۔ ( ۱۲ ) اسلامی قانون حکومت کے سوا کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ زانی اور زانیہ کے خلاف کار روائی کرے ، اور عدالت کے سوا کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس پر سزا دے ۔ اس امر پر تمام امت کے فقہاء کا اتفاق ہے کہ آیت زیر بحث میں حکم فاجلدوا ( ان کو کوڑے مارو ) کے مخاطب عوام نہیں ہیں بلکہ اسلامی حکومت کے حکام اور قاضی ہیں ۔ البتہ غلام کے معاملے میں اختلاف ہے کہ اس پر اس کا آقا حد جاری کرنے کا مجاز ہے یا نہیں ۔ مذہب حنفی کے تمام ائمہ اس پر متفق ہیں کہ وہ اس کا مجاز نہیں ہے ۔ شافعیہ کہتے ہیں وہ مجاز ہے ۔ اور مالکیہ کہتے ہیں کہ آقا کو سرقہ میں ہاتھ کاٹنے کا تو حق نہیں ہے مگر زنا ، قذف اور شراب نوشی پر وہ حد جاری کر سکتا ہے ۔ ( ۱۳ ) اسلامی قانون زنا کی سزا کو قانون مملکت کا ایک حصہ قرار دیتا ہے اس لیے مملکت کی تمام رعایا پر یہ حکم جاری ہوگا خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ۔ اس سے امام مالک کے سوا غالباً ائمہ میں سے کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے ۔ رجم کی سزا غیر مسلموں پر جاری کرنے میں امام ابو حنیفہ کا اختلاف اس بنیاد پر نہیں ہے کہ یہ قانون مملکت نہیں ہے ، بلکہ اس بنیاد پر ہے کہ ان کے نزدیک رجم کی شرائط میں سے ایک شرط زانی کا پورا محصن ہونا ہے اور احصان کی تکمیل اسلام کے بغیر نہیں ہوتی ، اس وجہ سے وہ غیر مسلم زانی کو رجم کی سزا سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ۔ بخلاف اس کے امام مالک کے نزدیک اس حکم کے مخاطب مسلمان ہیں نہ کہ کافر ، اس لیے وہ حد زنا کو مسلمانوں کے شخصی قانون ( پرسنل لا ) کا ایک جز قرار دیتے ہیں ۔ رہا مستامن ( جو کسی دوسرے ملک سے دار الاسلام میں اجازت لے کر آیا ہو ) تو امام شافعی اور امام ابو یوسف کے نزدیک وہ بھی اگر دار الاسلام میں زنا کرے تو اس پر حد جاری کی جاۓ گی ۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام محمد کہتے ہیں کہ ہم اس پر حد جاری نہیں کر سکتے ۔ ( ۱۴ ) اسلامی قانون یہ لازم نہیں کرتا کہ کوئی شخص اپنے جرم کا خود اقرار کرے ، یا جو لوگ کسی شخص کے جرم زنا پر مطلع ہوں وہ ضرور ہی اس کی خبر حکام تک پہنچائیں ۔ البتہ جب حکام اس پر مطلع ہو جائیں تو پھر اس جرم کے لیے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : من اتی شیئا من ھٰذہ القاذورات فلیستتر بستر اللہ فان ابدیٰ لنا صفحۃ اقمنا علیہ کتاب اللہ ( احکام القرآن ، للجصاص ) ۔ تم میں سے جو شخص ان گندے کاموں میں سے کسی کا مرتکب ہو جاۓ تو اللہ کے ڈالے ہوۓ پردے میں چھپا رہے ۔ لیکن اگر وہ ہمارے سامنے اپنا پردہ کھولے گا تو ہم اس پر کتاب اللہ کا قانون نافذ کر کے چھوڑیں گے ۔ ابو داؤد میں ہے کہ ماعِز بن مالک اسلمی سے جب زنا کا جرم سرزد ہوگیا تو ہزّال بن نعَیم نے ان سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اپنے اس جرم کا اقرار کرو ۔ چنانچہ انہوں نے جا کر حضور سے اپنا جرم بیان کر دیا ۔ اس پر حضور نے ایک طرف تو انہیں رجم کی سزا دی اور دوسری طرف ہزّال سے فرمایا : لو سترتہ بثوبک کان خیراً لک کاش تم اس کا پردہ ڈھانک دیتے تو تمہارے لیے زیادہ اچھا تھا ۔ ابوداؤد اور نسائی میں ایک اور حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا : تعافوا الحدود فی ما بینکم فما بلغنی من حد فقد وجب ، حدود کو آپس ہی میں معاف کر دیا کرو ۔ مگر جس حد ( یعنی جرم مستلزم حد ) کا معاملہ مجھ تک پہنچ جاۓ گا پھر وہ واجب ہو جاۓ گی ۔ ( ۱۵ ) اسلامی قانون میں یہ جرم قابل راضی نامہ نہیں ہے ۔ قریب قریب تمام کتب حدیث میں یہ واقعہ موجود ہے کہ ایک لڑکا ایک شخص کے ہاں اجرت پر کام کرتا تھا اور وہ اس کی بیوی سے زنا کا مرتکب ہوگیا ۔ لڑکے کے باپ نے سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر اس شخص کو راضی کیا ۔ مگر جب یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اما غنمک و جاریتک فردٌّ علیک ۔ تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھی کو واپس ، اور پھر آپ نے زانی اور زانیہ دونوں پر حد جاری فرما دی اس سے صرف یہی نہیں معلوم ہوتا کہ اس جرم میں راضی نامہ کی کوئی گنجائش نہیں ، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قانون میں عصمتوں کا معاوضہ مالی تاوانوں کی شکل میں نہیں دلوایا جا سکتا ۔ آبرو کی قیمت کا یہ دیّوثانہ تصور مغربی قوانین ہی کو مبارک رہے ۔ ( ۱۶ ) اسلامی حکومت کسی شخص کے خلاف زنا کے جرم میں کوئی کارروائی نہ کرے گی جب تک کہ اس کے جرم کا ثبوت مل جاۓ ۔ ثبوت جرم کے بغیر کسی کی بد کاری خواہ کتنے ہی ذرائع سے حکام کے علم میں ہو ، وہ بہرحال اس پر حد جاری نہیں کر سکتے ۔ مدینے میں ایک عورت تھی جس کے متعلق روایات ہیں کہ وہ کھلی کھلی فاحشہ تھی ۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے : کانت تظھر فی الاسلام السوء ، دوسری روایت میں ہے : کانت قد اعلنت فی الاسلام ۔ ابن ماجہ کی روایت ہے فقد ظھر منھا الرّیبۃ فیْ منطقہا و ھیئتھا ومن یدخل علیھا ، لیکن چونکہ اس کے خلاف بد کاری کا ثبوت نہ تھا اس لیے اسے کوئی سزا نہ دی گئی ، حالانکہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ تک نکل گۓ تھے کہ : لوکنت راجماً احداً بغیر بینۃ لرجمتھا ، اگر میں ثبوت کے بغیر رجم کرنے والا ہوتا تو اس عورت کو ضرور رجم کرا دیتا ۔ ( ۱۷ ) جرم زنا کا پہلا ممکن ثبوت یہ ہے کہ شہادت اس پر قائم ہو ۔ اس کے متعلق قانون کے اہم اجزاء یہ ہیں : الف : قرآن تصریح کرتا ہے کہ زنا کے لیے کم سے کم چار عینی شاہد ہونے چاہییں ۔ اس کی صراحت سورہ نساء آیت 15 میں بھی گزر چکی ہے اور آگے اسی سورہ نور میں بھی دو جگہ آ رہی ہے ۔ شہادت کے بغیر قاضی محض اپنے علم کی بنا پر فیصلہ نہیں کر سکتا خواہ وہ اپنی آنکھوں سے ارتکاب جرم ہوتے دیکھ چکا ہو ۔ ب: گواہ ایسے لوگ ہونے چاہییں جو اسلامی قانون شہادت کی رو سے قابل اعتماد ہوں ، مثلاً یہ کہ وہ پہلے کسی مقدمے میں جھوٹے گواہ ثابت نہ ہو چکے ہوں ، خائن نہ ہوں ، پہلے کے سزا یافتہ نہ ہوں ، ملزم سے ان کی دشمنی ثابت نہ ہو ، وغیرہ ۔ بہرحال ناقابل اعتماد شہادت کی بنا پر نہ تو کسی کو رجم کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی کی بیٹھ پر کوڑے برساۓ جا سکتے ہیں ۔ ج : گواہوں کو اس بات کی شہادت دینی چاہیے کہ انہوں نے ملزم اور ملزمہ کو عین حالت مباشرت میں دیکھا ہے ، یعنی : کالمیل فی المکحلۃ و الرشاء فی البئر ( اس طرح جیسے سرمہ دانی میں سلائی اور کنویں میں رسی ) ۔ د : گواہوں کو اس امر میں متفق ہونا چاہیے کہ انہوں نے کب ، کہاں ، کس کو ، کس سے زنا کرتے دیکھا ہے ۔ ان بنیادی امور میں اختلاف ان کی شہادت کو ساقط کر دیتا ہے ۔ شہادت کی یہ شرائط خود ظاہر کر رہی ہیں کہ اسلامی قانون کا منشا یہ نہیں ہے کہ ٹکٹکیاں لگی ہوں اور روز لوگوں کی پیٹھوں پر کوڑے برستے رہیں ۔ بلکہ وہ ایسی حالت ہی میں یہ سخت سزا دیتا ہے جب کہ تمام اصلاحی اور انسدادی تدابیر کے باوجود اسلامی معاشرے میں کوئی جوڑا ایسا بے حیا ہو کہ چار چار آدمی اس کو جرم کرتے دیکھ لیں ۔ ( ۱۸ ) اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا محض حمل کا پایا جانا ، جب کہ عورت کا کوئی شوہر ، یا لونڈی کا کوئی آقا معلوم و معروف نہ ہو ، ثبوت زنا کے لیے کافی شہادت بالقرینہ ہے یا نہیں ۔ حضرت عمر کی راۓ یہ ہے کہ یہ کافی شہادت ہے اور اسی کو مالکیہ نے اختیار کیا ہے ۔ مگر جمہور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ محض حمل اتنا مضبوط قرینہ نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر کسی کو رجم کر دیا جاۓ یا کسی کی بیٹھ پر سو کوڑے برسا دیے جائیں ۔ اتنی بڑی سزا کے لیے ناگزیر ہے کہ یا تو شہادت موجود ہو ، یا پھر اقرار ۔ اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ شبہ سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ معاف کرنے کے لیے محرک ہونا چاہیے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ : ادفعوا الحدود ما وجدتم لھا مدفعا ، سزاؤں کو دفع کرو جہاں تک بھی ان کو دفع کرنے کی گنجائش پاؤ ( ابن ماجہ ) ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے : ادرؤا الحدود عن المسلمین ما استطعتم فان کان لہ مخرجٌ فخلوا سبیلہ فان الامام ان یخطئ فی العفو خیر من ان یخطئ فی العقوبۃ ، مسلمانوں سے سزاؤں کو دور رکھو جہاں تک بھی ممکن ہو ۔ اگر کسی ملزم کے لیے سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو اسے چھوڑ دو ۔ کیونکہ حاکم کا معاف کر دینے میں غلطی کر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کر جاۓ ( ترمذی ) ۔ اس قاعدے کے لحاظ سے حمل کی موجودگی ، چاہے شبہ کے لیے کتنی ہی قوی بنیاد ہو ، زنا کا یقینی ثبوت بہرحال نہیں ہے ، اس لیے کہ لاکھ میں ایک درجے کی حد تک اس امر کا بھی امکان ہے کہ مباشرت کے بغیر کسی عورت کے رحم میں کسی مرد کے نطفے کا کوئی جز پہنچ جاۓ اور وہ حاملہ ہو جاۓ ۔ اتنے خفیف شبہ کا امکان بھی اس کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ ملزمہ کو زنا کی ہولناک سزا سے معاف رکھا جاۓ ۔ ( ۱۹ ) اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ اگر زنا کے گواہوں میں اختلاف ہو جاۓ ، یا اور کسی وجہ سے ان کی شہادتوں سے جرم ثابت نہ ہو تو کیا الٹے گواہ جھوٹے الزام کی سزا پائیں گے ؟ فقہاء کا ایک گروہ کہتا ہے کہ اس صورت میں وہ قاذف قرار پائیں گے اور انہیں 80 کوڑوں کی سزا دی جاۓ گی ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ان کو سزا نہیں دی جاۓ گی کیونکہ وہ گواہ کی حیثیت سے آۓ ہیں نہ کہ مدعی کی حیثیت سے ۔ اور اگر اس طرح گواہوں کو سزا دی جاۓ تو پھر زنا کی شہادت بہم پہنچنے کا دروازہ ہی بند ہو جاۓ گا ۔ آخر کس کی شامت نے دھکا دیا ہے کہ سزا کا خطرہ مول لے کر شہادت دینے آۓ جب کہ اس مار کا یقین کسی کو بھی نہیں ہو سکتا کہ چاروں گواہوں میں سے کوئی ٹوٹ نہ جاۓ گا ۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری راۓ معقول ہے ، کیونکہ شبہ کا فائدہ جس طرح ملزم کو ملنا چاہیے ، اسی طرح گواہوں کو بھی ملنا چاہیے ۔ اگر ان کی شہادت کی کمزوری اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ ملزم کو زنا کی خوفناک سزا دے ڈالی جاۓ ، تو اسے اس بات کے لیے بھی کافی نہ ہونا چاہیے کہ گواہوں پر قذف کی خوفناک سزا برسا دی جاۓ ، اِلّا یہ کہ ان کا صریح جھوٹا ہونا ثابت ہو جاۓ ۔ پہلے قول کی تائید میں دو بڑی دلیلیں دی جاتی ہیں ۔ اول یہ کہ قرآن زنا کی جھوٹی تہمت کو مستوجب سزا قرار دیتا ہے لیکن یہ دلیل اس لیے غلط ہے کہ قرآن خود قاذف ( تہمت لگانے والے ) اور شاہد کے درمیان فرق کر رہا ہے ، اور شاہد محض اس بنا پر قاذف قرار نہیں پا سکتا کہ عدالت نے اس کی شہادت کو ثبوت جرم کے لیے کافی نہیں پایا ۔ دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ مغیرہ بن شعبہ کے مقدمے میں حضرت عمر نے ابو بکْرَہ اور ان کے دو ساتھی شاہدوں کو قذف کی سزا دی تھی ۔ لیکن اس مقدمے کی پوری تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ نظیر ہر اس مقدمے پر چسپاں نہیں ہوتی جس میں ثبوت جرم کے لیے شہادتیں نا کافی پائی جائیں ۔ مقدمے کے واقعات یہ ہیں کہ بصرے کے گورنر مُغیرہ بن شعبہ سے ابو بکرہ کے تعلقات پہلے سے خراب تھے ۔ دونوں کے مکان ایک ہی سڑک پر آمنے سامنے واقع تھے ۔ ایک روز یکایک ہوا کے زور سے دونوں کے کمروں کی کھڑکیاں کھل گئیں ۔ ابو بکرہ اپنی کھڑکی بند کرنے کے لیے اٹھے تو ان کی نگاہ سامنے کے کمرے پر پڑی اور انہوں نے حضرت مغیرہ کو مباشرت میں مشغول دیکھا ۔ ابو بکرہ کے پاس ان کے تین دوست ( نافع بن کَلَدَہ ، زیاد ، اور شبل بن مَعْبَد ) بیٹھے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ آؤ ، دیکھو اور گواہ رہو کہ مغیرہ کیا کر رہے ہیں ۔ دوستوں نے پوچھا یہ عورت کون ہے ۔ ابو بکرہ نے کہا ام جمیل ۔ دوسرے روز اس کی شکایت حضرت عمر کے پاس بھیجی گئی ۔ انہوں نے فوراً حضرت مغیرہ کو معطل کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بصرے کا گورنر مقرر کیا اور ملزم کو گواہوں سمیت مدینے طلب کر لیا ۔ پیشی پر ابو بکرہ اور دو گواہوں نے کہا کہ ہم نے مغیرہ کو ام جمیل کے ساتھ بالفعل مباشرت کرتے دیکھا ۔ مگر زیاد نے کہا کہ عورت صاف نظر نہیں آتی تھی اور میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ ام جمیل تھی ۔ مغیرہ بن شعبہ نے جرح میں یہ ثابت کر دیا کہ جس رخ سے یہ لوگ انہیں دیکھ رہے تھے اس سے دیکھنے والا عورت کو اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ ان کی بیوی اور ام جمیل باہم بہت مشابہ ہیں ۔ قرائن خود بتا رہے تھے کہ حضرت عمر کی حکومت میں ایک صوبے کا گورنر ، خود اپنے سرکاری مکان میں ، جہاں اس کی بیوی اس کے ساتھ رہتی تھی ، ایک غیر عورت کو بلا کر زنا نہیں کر سکتا تھا ۔ اس لیے ابو بکرہ اور ان کے ساتھیوں کا یہ سمجھنا کہ مغیرہ اپنے گھر میں اپنی بیوی کے بجاۓ ام جمیل سے مباشرت کر رہے ہیں ۔ ایک نہایت بے جا بد گمانی کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر نے صرف ملزم کو بری کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ابو بکرہ نافع اور شبل پر حدّ قذف بھی جاری فرمائی ۔ یہ فیصلہ اس مقدمے کے مخصوص حالات کی بنا پر تھا نہ کہ اس قاعدہ کلیہ کی بنا پر کہ جب کبھی شہادتوں سے جرم زنا ثابت نہ ہو تو گواہ ضرور پیٹ ڈالے جائیں ۔ ( مقدمے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو احکام القرآن ابن العربی جلد 2 ۔ صفحہ 88 ۔ 89 ) ۔ ( ۲۰ ) شہادت کے سوا دوسری چیز جس سے جرم زنا ثابت ہو سکتا ہے وہ مجرم کا اپنا اقرار ہے ۔ یہ اقرار صاف اور صریح الفاظ میں فعل زنا کے ارتکاب کو ہونا چاہیے ، یعنی اسے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ اس نے ایک ایسی عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی کالمیل فی المکحلۃ یہ فعل کیا ہے ۔ اور عدالت کو پوری طرح یہ اطمینان کر لینا چاہیے کہ مجرم کسی خارجہ دباؤ کے بغیر بطور خود بحالت ہوش و حواس یہ اقرار کر رہا ہے ۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ایک اقرار کافی نہیں ہے بلکہ مجرم کو چار مرتبہ الگ الگ اقرار کرنا چاہیے ( یہ امام ابو حنیفہ ، امام احمد ، ابن ابی لیلیٰ ، اسحاق بن راہَوْیہ اور حسن بن صالح کا مسلک ہے ) ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ایک ہی اقرار کافی ہے ( امام مالک ، امام شافعی ، عثمان البتی اور حسن بصری وغیرہ اس کے قائل ہیں ) پھر ایسی صورت میں جبکہ کسی دوسرے تائیدی ثبوت کے بغیر صرف مجرم کے اپنے ہی اقرار پر فیصلہ کیا گیا ہو اگر عین سزا کے دوران میں بھی مجرم اپنے اقرار سے پھر جاۓ تو سزا کو روک دینا چاہیے ، خواہ یہ بات صریحاً ہی کیوں نہ ظاہر ہو رہی ہو کہ وہ مار کی تکلیف سے بچنے کے لیے اقرار سے رجوع کر رہا ہے ۔
لعان سے مراد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے ۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہو جائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی ۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہو جائے گی ۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی ۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے ۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو ۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لئے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے ۔ اس لئے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے ۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں ۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے ، اپنی شرع میں ، اپنے حکموں میں ، اپنی ممانعت میں اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے ۔ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاریو سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں ۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا ۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے ایک غیر مرد ہے خود آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں ۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا ۔ سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں ۔ حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کردے گا ۔ کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں ، اللہ خوب جانتا ہے ۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کرسکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی ۔ صحابہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے ۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھ کر فرمایا ، اے ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشادگی اور چھٹی نازل فرما دی ۔ حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے الحمدللہ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی ۔ پھر آپ نے حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال فرمانے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں ۔ اس عورت نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو ۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو ۔ حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈر جا ۔ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا تو آپ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا ، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا ۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کردیئے ۔ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے ۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا ۔ رکی ، جھجکی ، زبان کو سنبھالا ، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کرلے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی ۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو ۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے ۔ نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے ۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے ، وہ حد لگایا جائے گا ، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے ۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی ۔ ( ابوداؤد ) اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں ۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے ۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ حضرت ہلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے ۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کردو پھر اسے نصیحت کی ۔ اور فرمایا اللہ کی لعنت سے ہر چیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت کے زمانہ کا ۔ مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بےغیرتی کی خاموشی ہے ۔ آپ سن کر خاموش ہو رہے ۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی ۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بےغیرتی اور بڑی بےحیائی ہے ۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا ۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما ۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت عویمر نے حضرت عاصم بن عدی سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ؟ چنانچہ عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے ۔ جب عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاصم سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ؟ اور آپ نے کیا جواب دیا ؟ عاصم نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا ۔ عویمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی ۔ پس آپ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کردیا ۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا ۔ اس لئے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی ۔ ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے ۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کرسکتے ہیں جو دیوث ہوں ، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا ۔