Surah

Information

Surah ID #27
Total Verses 93 Ayaat
Rukus 7
Sajdah 1
Actual Order #48
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD)
Surah 27: An-Naml Ayat #36
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰٮنِۦَ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰٮكُمۡ‌ۚ بَلۡ اَنۡـتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ‏ ﴿36﴾
So when they came to Solomon, he said, "Do you provide me with wealth? But what Allah has given me is better than what He has given you. Rather, it is you who rejoice in your gift.
پس جب قاصد حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو؟ مجھے تو میرے رب نے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے پس تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو ۔

More translations & tafseer

فلما جاء سليمن قال اتمدونن بمال فما اتىن الله خير مما اتىكم بل انتم بهديتكم تفرحون
So when they came to Solomon, he said, "Do you provide me with wealth? But what Allah has given me is better than what He has given you. Rather, it is you who rejoice in your gift.
Pus jab qasid hazrat suleman kay pass phoncha to aap ney farmaya kiya tum maal say mujhay madad lena chahatay ho? Mujhay to meray rab ney iss say boht behtar dey rakha hai jo uss ney tumhen diya hai pus tum hi apnay tohfay say khush raho.
چنانچہ جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : کیا تم مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے ، البتہ تم ہی لوگ اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو ۔
پھر جب وہ ( ف۵٤ ) سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا ( ف۵۵ ) وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا ( ف۵٦ ) بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو ( ف۵۷ )
جب وہ ﴿ملکہ کا سفیر﴾ سلیمان ( علیہ السلام ) کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا ” کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے ۔ 41 تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے ۔
سو جب وہ ( قاصد ) سلیمان ( علیہ السلام ) کے پاس آیا ( تو سلیمان علیہ السلام نے اس سے ) فرمایا: کیا تم لوگ مال و دولت سے میری مدد کرنا چاہتے ہو ۔ سو جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے اس ( دولت ) سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں عطا کی ہے بلکہ تم ہی ہو جو اپنے تحفہ سے فرحاں ( اور ) نازاں ہو
سورة النمل حاشیہ نمبر : 41 اس جملے سے مقصود اظہار فخر و تکبر نہیں ہے ، اصل مدعا یہ ہے کہ مجھے تمہارا مال مطلوب نہیں ہے بلکہ تمہارا ایمان مطلوب ہے ، یا پھر کم سے کم جو چیز میں چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ایک صالح نظام کے تابع ہوجاؤ ، اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کسی کے لیے راضی نہیں ہو تو میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ مال و دولت کی رشوت لے کر تمہیں اس شرک اور اس فاسد نظام زندگی کے معاملہ میں آزاد چھوڑ دوں ، مجھے میرے رب نے جو کچھ دے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے کہ میں تمہارے مال کا لالچ کروں ۔
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا ۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے ۔ جب یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا ۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا ۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کر دیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے انکے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے ۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں ، واللہ اعلم ۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کردو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا ۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا ۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لئے جاتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کیے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا ۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر پاقی رہنا چاہتے ہو ؟ یہ محض ناممکن ہے مجے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے ۔ ملک ، مال ، لاؤ ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے ۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں فالحمدللہ ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپاکہ مال سے راضی ہوجاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑو یا تلوار روکو ۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اسکے قاصد پہنچیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کردئے ۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا ۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا ۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے ۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کردو اور ان سے کہدو مقابلے کی تیاری کرلیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے ۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں ۔ ہم انہیں انکی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے ۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا ۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہو گیا فورا خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہوگئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوگئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔