Surah

Information

Surah ID #29
Total Verses 69 Ayaat
Rukus 7
Sajdah 0
Actual Order #85
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 1-11, from Madina
Surah 29: Al-Ankabut Ayat #10
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوۡذِىَ فِى اللّٰهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِؕ وَلَٮِٕنۡ جَآءَ نَـصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكَ لَيَـقُوۡلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡ‌ؕ اَوَلَـيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِىۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿10﴾
And of the people are some who say, "We believe in Allah ," but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allah , they consider the trial of the people as [if it were] the punishment of Allah . But if victory comes from your Lord, they say, "Indeed, We were with you." Is not Allah most knowing of what is within the breasts of all creatures?
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن جب اللہ کی راہ میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذاء دہی کو اللہ تعالٰی کے عذاب کی طرح بنا لتے ہیں ، ہاں اگر اللہ کی مدد آجائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اس سے اللہ تعالٰی دانا نہیں ہے؟

More translations & tafseer

و من الناس من يقول امنا بالله فاذا اوذي في الله جعل فتنة الناس كعذاب الله و لىن جاء نصر من ربك ليقولن انا كنا معكم او ليس الله باعلم بما في صدور العلمين
And of the people are some who say, "We believe in Allah ," but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allah , they consider the trial of the people as [if it were] the punishment of Allah . But if victory comes from your Lord, they say, "Indeed, We were with you." Is not Allah most knowing of what is within the breasts of all creatures?
Aur baaz log aisay bhi hain jo zabani kehtay hain kay hum eman laye hain lekin jab Allah ki raah mein koi mushkil aan parti hai to logon ko ezza dahi ko Allah Taalaa kay azab ki tarah bana letay hain haan haan agar Allah ki madad aajaye to pukar uthtay hain kay hum to tumharay sathi hi hain kiya duniya jahaan kay seeno mein jo kuch hai usay Allah Taalaa janta nahi hai?
اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ : ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں ۔ پھر جب ان کو اللہ کے راستے میں کوئی تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو ایسا سمجھتے ہیں جیسا اللہ کا عذاب ( ٤ ) اور اگر کبھی تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد ان ( مسلمانوں ) کے پاس آگئی ہے تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے ساتھ تھے ۔ ( ٥ ) بھلا کیا اللہ کو وہ باتیں اچھی معلوم نہیں ہیں جو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے سینوں میں چھپی ہیں؟
اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انھیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے ( ف۱۹ ) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں ( ف۲۰ ) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے ( ف۲۱ ) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے ( ف۲۲ ) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے ( ف۲۳ )
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر ۔ 13 مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا ۔ 14 اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے ”15 کیا دنیا والوں کےدلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟
اور لوگوں میں ایسے شخص ( بھی ) ہوتے ہیں جو ( زبان سے ) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ، پھر جب انہیں اللہ کی راہ میں ( کوئی ) تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی آزمائش کواللہ کے عذاب کی مانند قرار دیتے ہیں ، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے کوئی مدد آپہنچتی ہے تو وہ یقیناً یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہی تھے ، کیا اللہ ان ( باتوں ) کو نہیں جانتا جو جہان والوں کے سینوں میں ( پوشیدہ ) ہیں
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 13 اگرچہ کہنے والا ایک شخص ہے ، مگر میں ایمان لایا کہنے کے بجائے کہہ رہا ہے ہم ایمان لائے امام رازی نے اس میں ایک لطیف نکتے کی نشاندہی کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ منافق اپنے آپ کو ہمیشہ زمرہ اہل ایمان میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے ایمان کا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ بھی ویسا ہی مومن ہے جیسے دوسرے ہیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بزدل اگر کسی فوج کے ساتھ گیا ہے اور اس فوج کے بہادر سپاہیوں نے لڑ کر دشمنوں کو مار بھگایا ہے ، تو چاہے اس نے خود کوئی کارنامہ انجام نہ دیا ہو ، مگر وہ آکر یوں کہے گا کہ ہم گئے اور ہم خوب لڑے اور ہم نے دشمن کو شکست فاش دے دی ، گویا آپ بھی انہی بہادروں میں سے ہیں جنہوں نے داد شجاوت دی ہے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 14 یعنی جس طرح اللہ کے عذاب سے ڈر کر کفر و معصیت سے باز آنا چاہیے ، یہ شخص بندوں کی دی ہوئی تکلیفوں میں سے ڈر کر ایمان اور نیکی سے باز آگیا ۔ ایمان لانے کے بعد کفار کی دھمکیوں اور مار پیٹ اور قید و بند سے جب اسے سابقہ پیش آیا تو اس نے سمجھا کہ اللہ کی وہ دوزخ بھی بس اتنی ہی کچھ ہوگی جس سے مرنے کے بعد کفر کی پاداش میں سابقہ پیش آنا ہے ۔ اس لیےء اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ عذاب تو بعد میں بھگت لوں گا ، یہ نقد عذاب جو اب مل رہا ہے اس سے بچنے کےلیے مجھے ایمان چھوڑ کر پھر زمرہ کفار میں جا ملنا چاہیے تاکہ دنیا کی زندگی تو خیریت سے گزر جائے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 15 یعنی آج تو وہ اپنی کھال بچانے کے لیے کافروں میں جا ملا ہے اور اہل ایمان کا ساتھ اس نے چھوڑ دیا ہے ، کیونکہ دین حق کو فروغ دینے کے لیے وہ اپنی نکیر تک پھڑوانے کو تیار نہیں ہے ۔ مگر جب اس دین کی خاطر سر دھڑ کی بازی گلا دینے والوں کو اللہ تعالی فتح و کامرانی بخشے گا تو یہ شخص فتح کے ثمرات میں حصہ بٹانے کے لیے آموجود ہوگا اور مسلمانوں سے کہے گا کہ دل سے تو ہم تمہارے ہی ساتھ تھے ، تمہاری کامیابی کے لیے دعائیں مانگا کرتے تھے ، تمہاری جانفشانیوں اور قربانیوں کی بڑی قدر ہماری نگاہ میں تھی ۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ ناقابل برداشت اذیت یا نقصان ، یا شدید خوف کی حالت میں کسی شخص کا کلمہ کفر کہہ کر اپنے آپ کو بچا لینا شرعا جائز ہے بشرطیکہ آدمی سچے دل سے ایمان پر ثابت قدم رہے ۔ لیکن بہت بڑا فرق ہے اس مخلص مسلمان میں جو بحالت مجبوری جان بچانے کے لیے کفر کا اظہار کرے اور اس مصلحت پرست انسان میں جو نظریہ کے اعتبار سے اسلام ہی کو حق جانتا اور مانتا ہو مگر ایمانی زندگی کے خطرات و مہالک دیکھ کر کفار سے جا ملے ۔ بظاہر ان دونوں کی حالت ایک دوسرے سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتی ، مگر درحقیقت جو چیز ان کے درمیان زمین و آسمان کا فرق کردیتی ہے وہ یہ ہے کہ مجبوراً کفر ظاہر کرنے والا مخلص مسلمان نہ صرف عقیدے کے اعتبار سے اسلام کا گرویدہ رہتا ہے ، بلکہ عملا بھی اس کی دلی ہمدردیاں دین و اہل دین کے ساتھ رہتی ہیں ۔ ان کی کامیابی سے وہ کوش اور ان کو زک پہنچنے سے وہ بے چین ہوجاتا ہے ۔ مجبوری کی حالت میں بھی وہ مسلمانوں کا ساتھ دینے کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس تاک میں رہتا ہے کہ جب بھی اس پر سے اعدائے دین کی گرفت ڈھیلی ہو وہ اپنے اہل دین کے ساتھ جا ملے ۔ اس کے برعکس مصلحت پرست آدمی جب دین کی راہ کٹھن دیکھتا ہے اور خوب ناپ تول کر دیکھ لیتا ہے کہ دین حق کا ساتھ دینے کے نقصانات کفار کے ساتھ جا ملنے کے فوائد سے زیادہ ہیں تو وہ خالص عافیت اور منفعت کی خاطر دین اور اہل دین سے منہ موڑ لیتا ہے ، کافروں سے رشتہ دوستی استوار کرتا ہے اور اپنے مفاد کی خاطر ان کی کوئی ایسی خدمت بجا لانے سے بھی باز نہیں رہتا جو دین کے سخت خلاف اور اہل دین کے لیے نہایت نقصان دہ ہو ۔ لیکن اس کے ساتھ وہ اس امکان سے بھی آنکھیں بند نہیں کرلیتا کہ شاید کسی وقت دین حق ہی کا بول بالا ہوجائے ۔ اس لیے جب کبھی اسے مسلمانوں سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے وہ ان کے نظریے کو حق ماننے اور ان کے سامنے اپنے ایمان کا اقرار کرنے اور راہ حق میں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین ادا کرنے میں ذرہ برابر بخل نہیں کرتا ، تاکہ یہ زبانی اعترافات سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں ۔ قرآن کریم ایک دوسرے موقع پر ان منافقین کی اسی سوداگرانہ ذہنیت کو یوں بیان کرتا ہے: الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ ( آیت 141 ) یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں ( کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور ہم نے پھر بھی تمہیں مسلمانوں سے بچایا ؟ ۔
مرتد ہونے والے ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرلیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہوجاتے ہیں ۔ یہی معنی حضرت ابن عباس وغیرہ نے کئے ہیں جیسے اور آیت میں ہے ( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ 11؀ ) 22- الحج:11 ) یعنی بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہوگئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیر لیا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اگر حضور کو کوئی غنیمت ملی کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ڮ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ ١٤١؁ۧ ) 4- النسآء:141 ) وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا ورتمہیں بچالیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہوجائیں ۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کیا انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے ۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن ومنافق کو الگ الگ کردے گا ۔ نفس کے پرستار نفع کے خواہاں یکسو ہوجائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہوجائیں گے ۔ جیسے فرمایا ( وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ 31؀ ) 47-محمد:31 ) ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کردیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں ۔ احد کے امتحان کا ذکر کرکے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے رکھنے والا نہ تھاجب کہ خبیث وطیب کی تمیز نہ کریں ۔