Surah

Information

Surah ID #30
Total Verses 60 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #84
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 17, from Madina
Surah 30: Ar-Rum Ayat #3
فِىۡۤ اَدۡنَى الۡاَرۡضِ وَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيَغۡلِبُوۡنَۙ‏ ﴿3﴾
In the nearest land. But they, after their defeat, will overcome.
نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے ۔

More translations & tafseer

في ادنى الارض و هم من بعد غلبهم سيغلبون
In the nearest land. But they, after their defeat, will overcome.
Nazdeek ki zamin per aur woh maghloon honey kay baad un-qareeb ghalib aajayen gay.
قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے ۔ ( ١ )
پاس کی زمین میں ( ف۳ ) اور اپنی مغلوبی کے عنقریب غالب ہوں گے ( ف٤ )
اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے ۔ 1
نزدیک کے ملک میں ، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے
سورة الروم حاشیہ نمبر :1 ابن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ و تابعین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ روم و ایران کی اس لڑائی میں مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کے ساتھ اور کفار مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں ۔ اس کے کئی وجوہ تھے ۔ ایک یہ کہ ایرانیوں نے اس لڑائی کو مجوسیت اور مسیحیت کی لڑائی کا رنگ دے دیا تھا اور وہ ملک گیری کے مقصد سے تجاوز کر کے اسے مجوسیت پھیلانے کا ذریعہ بنا رہے تھے ۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد خسرو پرویز نے جو خط قیصر روم کو لکھا تھا اس میں صاف طور پر وہ اپنی فتح کو مجوسیت کے برحق ہونے کی دلیل قرار دیتا ہے اصولی اعتبار سے مجوسیں کا مذہب مشرکین مکہ کے مذہب سے ملتا جلتا تھا ، کیونکہ وہ بھی توحید کے منکر تھے ، دو خداؤں کا مانتے تھے اور آگ کی پرستش کرتے تھے ۔ اس لیے مشرکین کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں ۔ ان کے مقابلہ میں مسیحی خواہ کتنے ہی مبتلائے شرک ہوگئے ہوں ، مگر وہ خدا کی توحید کو اصل دین مانتے تھے ، آخرت کے قائل تھے ، اور وحی و رسالت کو سرچشمہ ہدایت تسلیم کرتے تھے ۔ اس بنا پر ان کا دین اپنی اصل کے اعتبار سے مسلمانوں کے دین سے مشابہت رکھتا تھا ، اور اسی لیے مسلمان قدرتی طور پر ان سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان پر مشرک قوم کا غلبہ انہیں ناگوار تھا ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایک نبی کی آمد سے پہلے جو لوگ سابق نبی کو مانتے ہوں وہ اصولا مسلمان ہی کی تعریف میں آتے ہیں اور جب تک بعد کے آنے والے نبی کی دعوت انہیں نہ پہنچے اور وہ اس اک انکار نہ کردیں ، ان کا شمار مسلمانوں ہی میں رہتا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ قصص ، حاشیہ 73 ) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر صرف پانچ چھ برس ہی گزرے تھے ، اور حضور کی دعوت ابھی تک باہر نہیں پہنچی تھی ، اس لیے مسلمان عیسائیوں کا شمار کافروں میں نہیں کرتے تھے ۔ البتہ یہودی ان کی نگاہ میں کافر تھے ، کیونکہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرچکے تھے ، تیسری وجہ یہ تھی کہ آغاز اسلام میں عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی ہی کا برتاؤ ہوا تھا جیسا کہ سورہ قصص آیات 52 تا 55 اور سورہ مائدہ آیات 82 تا 85 میں بیان ہوا ہے ۔ بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ کھلے دل سے دعوت حق قبول کر رہے تھے ۔ پھر ہجرت حبشہ کے موقع پر جس طرح حبش کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کو پناہ دی اور ان کی واپسی کے لیے کفار مکہ کے مطالبے کو ٹھکرا دیا اس کا بھی یہ تقاضا تھا کہ مسلمان مجوسیوں کے مقابلہ میں عیسائیوں کے خیر خواہ ہوں ۔