Surah

Information

Surah ID #30
Total Verses 60 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #84
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 17, from Madina
Surah 30: Ar-Rum Ayat #9
اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ‌ؕ كَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الۡاَرۡضَ وَعَمَرُوۡهَاۤ اَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوۡهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ‌ ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ؕ‏ ﴿9﴾
Have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? They were greater than them in power, and they plowed the earth and built it up more than they have built it up, and their messengers came to them with clear evidences. And Allah would not ever have wronged them, but they were wronging themselves.
کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا ( برا ) ہو ؟ وہ ان سے بہت زیادہ توانا اور ( طاقتور ) تھے اور انہوں نے ( بھی ) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیادہ آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالٰی ان پر ظلم کرتا لیکن ( دراصل ) وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

More translations & tafseer

او لم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم كانوا اشد منهم قوة و اثاروا الارض و عمروها اكثر مما عمروها و جاءتهم رسلهم بالبينت فما كان الله ليظلمهم و لكن كانوا انفسهم يظلمون
Have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? They were greater than them in power, and they plowed the earth and built it up more than they have built it up, and their messengers came to them with clear evidences. And Allah would not ever have wronged them, but they were wronging themselves.
Kiya enhon ney zamin mein chal phir ker yeh nahi dekha kay inn say pehlay logon ka anjam kaisa ( bura ) hua? Woh inn say boht zada tawana ( aur taqatwar ) thay aur unhon ney ( bhi ) zamin boee joti thi aur inn say ziyada abad ki thi aur unn kay pass unkay rasool roshan dalaeel ley ker aaye thay. Yeh to na mumkin tha kayAllah Taalaa unn per zulm kerta lekin ( dar asal ) woh khud apni jano per zulm kertay thay.
کیا یہ لوگ میں میں چلے پھرے نہیں ہیں ، تاکہ وہ یہ دیکھتے کہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟ وہ طاقت میں ان سے زیادہ مضبوط تھے ، اور انہوں نے زمین کو بھی جوتا تھا ، اور جتنا ان لوگوں نے اسے آباد کیا ہے ، اس سے زیادہ انہوں نے اس کو آباد کیا تھا ، اور ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے ، چنانچہ اللہ تو ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرے ، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا ( ف۱٤ ) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان ( ف۱۵ ) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے ( ف۱٦ ) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا ( ف۱۷ ) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ( ف۱۸ )
اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟8 وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا 9 اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ 10 ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے ۔ 11 پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے ۔ 12
کیا ان لوگوں نے زمین میں سَیر و سیاحت نہیں کی تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے ، وہ لوگ اِن سے زیادہ طاقتور تھے ، اور انہوں نے زمین میں زراعت کی تھی اور اسے آباد کیا تھا ، اس سے کہیں بڑھ کر جس قدر اِنہوں نے زمین کو آباد کیا ہے ، پھر ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر آئے تھے ، سو اﷲ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا ، لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے
سورة الروم حاشیہ نمبر : 8 یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دو چار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے ۔ انسانی تاریخ کے دوران میں کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں ۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، اس سے غافل ہوکر رہی ہیں ، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کرلیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے ۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکار آخرت جس صورت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر شتر بے مہار بن گئے ، انہوں نے ظلم و فساد اور فسق و فجور کی حد کردی ، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی چلی گئیں ۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ ، جو پے در پے انسانی نسلوں کو پیش آتا رہا ہے ، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان کشش ثقل کا اسی لیے تو قائل ہوا ہے کہ تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے ۔ انسان نے زہر کو زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا ۔ اسی طرح جب آخرت کا انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کا موجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں زندگی بسر کرنا غلط ہے؟ سورة الروم حاشیہ نمبر : 9 اصل میں لفظ ّاَثَارُوا الْاَرْضَ استعمال ہوا ہے ۔ اس کا اطلاق زراعت کے لیے ہل چلانے پر بھی ہوسکتا ہے اور زمین کھود کر زمین پانی ، نہریں ، کاریزیں اور معدنیات وغیرہ نکالنے پر بھی ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 10 اس میں ان لوگوں کے استدلال کا جواب موجود ہے جو محض مادی ترقی کو کسی قسم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال ( Exploit ) کیا ہے ، جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدن کو جنم دیا ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے ۔ قرآن اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ تعمیری کام پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں ، پھر کیا تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہزیب اور اپنے تمدن سمیت پیوند خاک ہوگئیں اور ان کی تعمیر کا قصر فلک بوس زمین پر آرہا ؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ حق اور اخلاق صالحہ کے بغیر محض مادی تعمیر کی یہ قدر کی ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی خدا کا قانون دوسرے جہان میں انہیں واصل جہنم نہ کرے ؟ سورة الروم حاشیہ نمبر : 11 یعنی ایسی نشانیاں لے کر آئے جو ان کے نبی صادق ہونے کا یقین دلانے کے لیے کافی تھیں ۔ اس سیاق و سباق میں انبیاء کی آمد کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف انسان کے اپنے وجود میں ، اور اس سے باہر ساری کائنات کے نظام میں ، اور انسانی تاریخ کے مسلسل تجربے میں آخرت کی شہادتیں موجود تھیں ، اور دوسری طرف پے در پے ایسے انبیاء بھی آئے جن کے ساتھ ان کی نبوت کے برحق ہونے کی کھلی کھلی علامتیں پائی جاتی تھیں اور انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ فی الواقع آخرت آنے والی ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 12 یعنی اس کے بعد جو تباہی ان قوموں پر آئی وہ ان پر خدا کا ظلم نہ تھا بلکہ وہ ان کا اپنا طلم تھا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا ۔ جو شخص یا گروہ نہ خود صحیح سوچے اور نہ کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے صحیح رویہ اختیار کرے اس پر اگر تباہی آتی ہے تو وہ آپ ہی اپنے برے انجام کا ذمہ دار ہے ۔ خدا پر اس کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا ۔ خدا نے تو اپنی کتابوں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ سے انسان کو حقیقت کا علم دینے کا انتظام بھی کیا ہے ، اور وہ علمی و عقلی وسائل بھی عطا کیے ہیں جن سے کام لے کر وہ ہر وقت انبیاء اور کتب آسمانی کے دیے ہوئے علم کی صحت جانچ سکتا ہے ۔ اس رہنمائی اور ان ذرائع سے اگر خدا نے انسان کو محروم رکھا ہوتا اور اس حالت میں انسان کو غلط روی کے نتائج سے دو چار ہونا پڑتا تب بلا شبہ خدا پر ظلم کے الزام کی گنجائش نکل سکتی تھی ۔