سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :13
یعنی اس عظیم الشان کائنات میں اس نے بے حد و حساب چیزیں بنائی ہیں ، مگر کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو بے ڈھنگی اور بے تکی ہو ۔ ہر شے اپنا ایک الگ حسن رکھتی ہے ۔ ہر شے اپنی جگہ متناسب اور موزوں ہے ۔ جو چیز جس کام کے لیے بھی اس نے بنائی ہے اس کے لیے موزوں ترین شکل پر ، مناسب ترین صفات کے ساتھ بنائی ہے ۔ دیکھنے کے لیے آنکھ اور سننے کے لیے کان کی ساخت سے زیادہ موزوں کسی ساخت کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ۔ ہوا اور پانی جن مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں ان کے لئے ہوا ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے ، اور پانی وہی اوصاف رکھتا ہے جیسے ہونے چاہییں ۔ تم خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے تقشے میں کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کر سکتے ہو ۔
بہترین خالق بہترین مصور ومدور
فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے ۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے ۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو ۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے ۔ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے پیدائے ہوئے ۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے ۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی ۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے ۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے ۔ جل شانہ وعزاسمہ