Surah

Information

Surah ID #48
Total Verses 29 Ayaat
Rukus 4
Sajdah 0
Actual Order #111
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD).Revealed while returning from Hudaybiyya
Surah 48: Al-Fath Ayat #9
لِّـتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا‏ ﴿9﴾
That you [people] may believe in Allah and His Messenger and honor him and respect the Prophet and exalt Allah morning and afternoon.
تاکہ ( اے مسلمانو ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کا ادب کرو اور اللہ کی پاکی بیان کرو صبح و شام ۔

More translations & tafseer

لتؤمنوا بالله و رسوله و تعزروه و توقروه و تسبحوه بكرة و اصيلا
That you [people] may believe in Allah and His Messenger and honor him and respect the Prophet and exalt Allah morning and afternoon.
Takay ( aey musalmano ) , tum Allah aur uss kay rasool per eman lao aur uss ki madad kero aur uss ka adab kero aur Allah ki paki biyan kero subah-o-shaam.
تاکہ ( اے لوگو ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ، اور اس کی مدد کرو ، اور اس کی تعظیم کرو ، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں ۔
تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو ( ف۱٤ )
تاکہ اے لوگو ، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا ساتھ دو ، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو16 ۔
تاکہ ( اے لوگو! ) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان ( کے دین ) کی مدد کرو اور ان کی بے حد تعظیم و تکریم کرو ، اور ( ساتھ ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کرو
سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :16 بعض مفسرین تُعَزِّرُوْہُ اور تُوَقِّرُوْہُ کی ضمیروں کا مرجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اور تُسَبِّحُوہُ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالی کو قرار دیا ہے ۔ یعنی ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم رسول کا ساتھ دو اور اس کی تعظیم و توقیر کرو ، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو ۔ لیکن ایک ہی سلسلہ کلام میں ضمیروں کے دو الگ الگ مرجع قرار دینا ، جبکہ اس کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ، درست نہیں معلوم ہوتا ۔ اسی لیے مفسرین کے ایک دوسرے گروہ نے تمام ضمیروں کا مرجع اللہ تعالی ہی کو قرار دیا ہے اور ان کے نزدیک عبارت کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کا ساتھ دو ، اسکی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہے ۔ صبح و شام تسبیح کرنےسے مراد صرف صبح و شام ہی نہیں بلکہ ہمہ وقت تسبیح کرتے رہنا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں بات کا شہرہ مشرق و مغرب میں پھیلا ہوا ہے ، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ صرف مشرق اور مغرب کے لوگ اس بات کو جانتے ہیں ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا میں اس کا چرچا ہو رہا ہے ۔