Surah

Information

Surah ID #58
Total Verses 22 Ayaat
Rukus 3
Sajdah 0
Actual Order #105
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 58: Al-Mujadila Ayat #14
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمؕۡ مَّا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡۙ وَيَحۡلِفُوۡنَ عَلَى الۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿14﴾
Have you not considered those who make allies of a people with whom Allah has become angry? They are neither of you nor of them, and they swear to untruth while they know [they are lying].
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہو چکا ہے نہ یہ ( منافق ) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں ۔

More translations & tafseer

الم تر الى الذين تولوا قوما غضب الله عليهم ما هم منكم و لا منهم و يحلفون على الكذب و هم يعلمون
Have you not considered those who make allies of a people with whom Allah has become angry? They are neither of you nor of them, and they swear to untruth while they know [they are lying].
Kiya tu ney unn logon ko nahi dekha? Jinhon ney uss qom say dosti ki jin per Allah ghazab naak ho chuka hai na yeh ( munafiq ) tumharay hi hain na unn kay hain ba wajood ilm kay phir bhi jhoot per qasmen kha rahey hain.
کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن پر اللہ کا غضب ہے؟ ( ١٠ ) یہ نہ تو تمہارے ہیں اور نہ ان کے ، اور یہ جانتے بوجھتے جھوٹی باتوں پر قسمیں کھا جاتے ہیں ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے ( ف٤۵ ) وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے ( ف٤٦ ) وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں ( ف٤۷ )
کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے دوست بنا یا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے 31 ؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ ان کے32 ، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں 33 ۔
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسی جماعت کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا ، نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں اور جھوٹی قَسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں
سورة الْمُجَادِلَة حاشیہ نمبر :31 اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنہیں منافقین نے دوست بنا رکھا تھا ۔ سورة الْمُجَادِلَة حاشیہ نمبر :32 یعنی مخلصانہ تعلق ان کا نہ اہل ایمان سے ہے نہ یہود سے ۔ دونوں کے ساتھ انہوں نے محض اپنی اغراض کے لیے رشتہ جوڑ رکھا ہے ۔ سورة الْمُجَادِلَة حاشیہ نمبر :33 یعنی اس بات پر کہ وہ ایمان لائے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہادی و پیشوا مانتے ہیں اور اسلام و اہل اسلام کے وفادار ہیں ۔
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں ، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں ، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں ، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں ، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا ۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بے ادبی نہیں کی ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں ۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا ، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا ۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے ۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو ۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں ، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے ۔