Surah

Information

Surah ID #4
Total Verses 176 Ayaat
Rukus 24
Sajdah 0
Actual Order #92
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 4: An-Nisa Ayat #62
فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا‏ ﴿62﴾
So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allah , "We intended nothing but good conduct and accommodation."
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتُوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالٰی کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا

More translations & tafseer

فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدمت ايديهم ثم جاءوك يحلفون بالله ان اردنا الا احسانا و توفيقا
So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allah , "We intended nothing but good conduct and accommodation."
Phir kiya baat hai kay jab inn per inn kay kertoot kay baees koi musibat aa parti hai to phir yeh aap kay pass aa ker Allah Taalaa ki qasmen khatay hain kay humara irada to sirf bhalaee aur mail milaap hi ka tha.
پھر اس وقت ان کا کیا حال بنتا ہے جب خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے؟ اس وقت یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد بھلائی کرنے اور ملاپ کرادینے کے سوا کچھ نہ تھا ۔ ( ٤٣ )
کیسی ہوگی جب ان پر کوئی افتاد پڑے ( ف۱۷۱ ) بدلہ اسکا جو انکے ہاتھوں نے آگے بھیجا ( ف۱۷۲ ) پھر اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں ، اللہ کی قسم کھاتے کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا ( ف۱۷۳ )
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں93 اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بَھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔
پھر ( اس وقت ) ان کی حالت کیا ہوگی جب اپنی کارستانیوں کے باعث ان پر کوئی مصیبت آن پڑے تو اللہ کی قَسمیں کھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں ( اور یہ کہیں ) کہ ہم نے تو صرف بھلائی اور باہمی موافقت کا ہی ارادہ کیا تھا
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :93 غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ جب ان کی اس منافقانہ حرکت کا مسلمانوں کو علم ہو جاتا ہے اور انہیں خوف ہوتا ہے کہ اب باز پرس ہوگی اور سزا ملے گی اس وقت قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلانے لگتے ہیں ۔