Surah

Information

Surah ID #4
Total Verses 176 Ayaat
Rukus 24
Sajdah 0
Actual Order #92
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 4: An-Nisa Ayat #149
اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا‏ ﴿149﴾
If [instead] you show [some] good or conceal it or pardon an offense - indeed, Allah is ever Pardoning and Competent.
اگر تم کسی نیکی کو اعلانیہ کرو یا پوشیدہ ، کسی برائی سے درگزر کرو ، پس یقیناً اللہ تعالٰی پوری معافی کرنے والا اور پوری قدرت والا ہے ۔

More translations & tafseer

ان تبدوا خيرا او تخفوه او تعفوا عن سوء فان الله كان عفوا قديرا
If [instead] you show [some] good or conceal it or pardon an offense - indeed, Allah is ever Pardoning and Competent.
Agar tum kissi neki ko aelaaniya kero ya posheeda ya kiss buraee say dar guzar kero pus yaqeenan Allah Taalaa poori moafi kerney wala aur poori qudrat wala hai.
اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو یا خفیہ طور پر کرو ، یا کسی برائی کو معا ف کرو تو ( بہتر ہے کیونکہ ) اللہ بہت معاف کرنے والا ہے ( اگرچہ سزا دینے پر ) پوری قدرت رکھتا ہے ۔ ( ٨٦ )
اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے ( ف۳۷٦ )
﴿مظلوم ہونے کی صورت میں اگرچہ تم کو بدگوئی کا حق ہے ﴾ لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ ، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو ، تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ 177
اگر تم کسی کارِ خیر کو ظاہر کرو یا اسے مخفی رکھو یا کسی ( کی ) برائی سے در گزر کرو تو بیشک اﷲ بڑا معاف فرمانے والا بڑی قدرت والا ہے
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :177 اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت بلند درجہ کی اخلاقی تعلیم دی گئی ہے ۔ منافق اور یہودی اور بت پرست سب کے سب اس وقت ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی راہ میں روڑے اٹکانے اور اس کی پیروی قبول کرنے والوں کو ستانے اور پریشان کر نے پر تلے ہوئے تھے ۔ کوئی بدتر سے بدتر تدبیر ایسی نہ تھی جو وہ اس نئی تحریک کے خلاف استعمال نہ کر رہے ہوں ۔ اس پر مسلمانوں کے اندر نفرت اور غصہ کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اس قسم کے جذبات کا طوفان اٹھتے دیکھ کر فرمایا کہ بدگوئی پر زبان کھولنا تمہارے خدا کے نزدیک کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ تم مظلوم ہو اور اگر مظلوم ظالم کے خلاف بد گوئی پر زبان کھولے تو اسے حق پہنچتا ہے ۔ لیکن پھر بھی افضل یہی ہے کہ خفیہ ہو یا علانیہ ہر حال میں بھلائی کیے جاؤ اور برائیوں سے درگزر کرو ، کیونکہ تم کو اپنے اخلاق میں خدا کے اخلاق سے قریب تر ہونا چاہیے ۔ جس خدا کا قرب تم چاہتے ہو اس کی شان یہ ہے کہ نہایت حلیم اور بردبار ہے ، سخت سے سخت مجرموں تک کو رزق دیتا ہے اور بڑے سے بڑے قصوروں پر بھی در گزر کیے چلا جاتا ہے ۔ لہٰذا اس سے قریب تر ہونے کے لیے تم بھی عالی حوصلہ اور وسیع الظرف بنو ۔