Surah

Information

Surah ID #5
Total Verses 120 Ayaat
Rukus 16
Sajdah 0
Actual Order #112
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 5: Al-Ma'ida Ayat #64
وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ‌ ؕ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا‌ ۘ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ‌ ؕ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ ؕ وَاَ لۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ‌ ۙ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿64﴾
And the Jews say, "The hand of Allah is chained." Chained are their hands, and cursed are they for what they say. Rather, both His hands are extended; He spends however He wills. And that which has been revealed to you from your Lord will surely increase many of them in transgression and disbelief. And We have cast among them animosity and hatred until the Day of Resurrection. Every time they kindled the fire of war [against you], Allah extinguished it. And they strive throughout the land [causing] corruption, and Allah does not like corrupters.
اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ، بلکہ اللہ تعالٰی کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے وہ ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے اور ہم نے ان میں آپس میں ہی قیامت تک کے لئے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے ، جب کبھی لڑائی کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالٰی اسے بجھا دیتا ہے ۔ یہ ملک بھر میں شر اور فساد مچاتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالٰی فسادیوں سے محبت نہیں کرتا ۔

More translations & tafseer

و قالت اليهود يد الله مغلولة غلت ايديهم و لعنوا بما قالوا بل يده مبسوطتن ينفق كيف يشاء و ليزيدن كثيرا منهم ما انزل اليك من ربك طغيانا و كفرا و القينا بينهم العداوة و البغضاء الى يوم القيمة كلما اوقدوا نارا للحرب اطفاها الله و يسعون في الارض فسادا و الله لا يحب المفسدين
And the Jews say, "The hand of Allah is chained." Chained are their hands, and cursed are they for what they say. Rather, both His hands are extended; He spends however He wills. And that which has been revealed to you from your Lord will surely increase many of them in transgression and disbelief. And We have cast among them animosity and hatred until the Day of Resurrection. Every time they kindled the fire of war [against you], Allah extinguished it. And they strive throughout the land [causing] corruption, and Allah does not like corrupters.
Aur yahudiyon ney kaha Allah Taalaa kay haath bandhay huye hain aur inn kay iss qol ki waja say inn per laanat ki gaee bulkay Allah Taalaa kay dono haath khulay huye hain. Jiss tarah chahata hai kharach kerta hai aur jo kuch teri taraf teray rab ki janib say utara jata hai woh inn mein say aksar ko to sirkashi aur kufur mein barha deta hai aur hum ney inn mein aapas mein hi qayamat tak kay liye adawat aur bughz daal diya hai aur jab kabhi laraee ki aag ko bharkana chahatay hain to Allah Taalaa ussay bujha deta hai yeh mulk bhar mein shar-o-fasaad machatay phirtay hain aur Allah Taalaa fasaadiyon say mohabbat nahi kerta.
اور یہودی کہتے ہیں کہ : اللہ کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں ( ٤٦ ) ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں اور جو بات انہوں نے کہی ہے اس کی وجہ سے ان پر لعنت الگ پڑی ہے ، ورنہ اللہ کے دونوں ہاتھ پوری طرح کشادہ ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ اور ( اے پیغمبر ) جو وحی تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی ، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لیے عداوت اور بغض پیدا کردیا ہے ۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو بجھا دیتا ہے ( ٤٧ ) اور یہ زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں ، جبکہ اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ( ف۱٦۰ ) ان کے ہاتھ باندھے جائیں ( ف۱٦۱ ) اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں ( ف۱٦۲ ) عطا فرماتا ہے جیسے چاہے ( ف۱٦۳ ) اور اے محبوب! یہ ( ف۱٦٤ ) جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی ( ف۱٦۵ ) اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا ( ف۱٦٦ ) جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے ( ف۱٦۷ ) اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں ، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا ،
یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ 92 باندھے گئے ان کے ہاتھ ، 93 اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ 94 اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے ، 95 اور ﴿اس کی پاداش میں﴾ ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے ۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے ۔ یہ زمین میں فساد پَھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔
اور یہود کہتے ہیں کہ اﷲ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے ( یعنی معاذ اﷲ وہ بخیل ہے ) ، ان کے ( اپنے ) ہاتھ باندھے جائیں اور جو کچھ انہوں نے کہا اس کے باعث ان پر لعنت کی گئی ، بلکہ ( حق یہ ہے کہ ) اس کے دونوں ہاتھ ( جود و سخا کے لئے ) کشادہ ہیں ، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ ( یعنی بندوں پر عطائیں ) فرماتا ہے ، اور ( اے حبیب! ) جو ( کتاب ) آپ کی طرف آپ کے ربّ کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں کو ( حسداً ) سر کشی اور کفر میں اور بڑھا دے گی ، اور ہم نے ان کے درمیان روزِ قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے ، جب بھی یہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اﷲ اسے بجھا دیتا ہے اور یہ ( روئے ) زمین میں فساد انگیزی کرتے رہتے ہیں ، اور اﷲ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :92 عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے ، عطا اور بخشش سے اس کا ہاتھ رکا ہوا ہے ۔ پس یہودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے ۔ چونکہ صدیوں سے یہودی قوم ذلت و نکبت کی حالت میں مبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان انہیں نظر نہ آتا تھا ، اس لیے بالعموم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہو گیا ہے ، اس کے خزانے کا منہ بند ہے ، ہمیں دینے کے لیے اس کے پاس آفات اور مصائب کے سوا اور کچھ نہیں رہا ۔ یہ بات کچھ یہودیوں تک ہی محدود نہیں ، دوسری قوموں کے جہلاء کا بھی یہی حال ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو خدا کی طرف رجوع کرنے کے بجائے وہ جل جل کر اس قسم کی گستاخانہ باتیں کیا کرتے ہیں ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :93 یعنی بخل میں یہ خود مبتلا ہیں ۔ دنیا میں اپنے بخل اور اپنی تنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :94 یعنی اس قسم کی گستاخیاں اور طعن آمیز باتیں کر کے یہ چاہیں کہ خدا ان پر مہربان ہو جائے اور عنایات کی بارش کرنے لگے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ۔ بلکہ ان باتوں کا الٹا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی نظر عنایت سے اور زیادہ محروم اور اس کی رحمت سے اور زیادہ دور ہوتے جاتے ہیں ۔ سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :95 یعنی بجائے اس کے کہ اس کلام کو سن کر وہ کوئی مفید سبق لیتے ، اپنی غلطیوں اور غلط کاریوں پر متنبہ ہو کر ان کی تلافی کرتے ، اور اپنی گری ہوئی حالت کے اسباب معلوم کر کے اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ، ان پر اس کا الٹا اثر یہ ہوا ہے کہ ضد میں آکر انہوں نے حق و صداقت کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔ خیر و صلاح کے بھولے ہوئے سبق کو سن کر خود راہ راست پر آنا تو درکنار ، ان کی الٹی کوشش یہ ہے کہ جو آواز اس سبق کو یاد دلا رہی ہے اسے دبا دیں تاکہ کوئی دوسرا بھی اسے نہ سننے پائے ۔
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالی ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے ، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں ۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند و بالا ہے ۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا ۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت ( وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا ) 17 ۔ الاسراء:29 ) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے ، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا ۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی ۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا ۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری ۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں ۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں ۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں ۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں ۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے ، اس کی بخشش عام ہے ، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں ۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے ۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے ۔ فرماتا ہے آیت ( وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ ) 14 ۔ ابراہیم:34 ) ۔ تم نے جو مانگا ، اللہ نے دیا ، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کر سکتے ، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے ۔ مسند میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے ، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں ، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا ، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی ۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا ، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے ، وہی بلند اور پست کرتا ہے ۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے ۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے ۔ پھر فرمایا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی ، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ۔ ( قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ) 41 ۔ فصلت:44 ) ۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بے ایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں ۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں ۔ اور آیت میں ہے ( وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا ) 17 ۔ الاسراء:82 ) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے ۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا ، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں ۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں ، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں ، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی ۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں ، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں ، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے ، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں ، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا ۔ اگر یہ با ایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کر دیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں ۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا ، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا ، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بتاتے ہیں ۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا ، آسمان سے پانی برسائے گا ، زمین سے پیداوار اگائے گا ، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف:96 ) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے ۔ اور آیت میں ( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ) 30 ۔ الروم:41 ) ۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ، اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں ، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہو جاتے ۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے ۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے ۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ علم اٹھ جائے ، ہم نے قرآن سیکھا ، اپنی اولادوں کو سکھایا ۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے ۔ لیکن کس کام کی؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہو گی ، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں ، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے ، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا ۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے ۔ جیسے فرمان آیت ( وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف:159 ) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا ۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے ۔ آیت ( فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ ) 57 ۔ الحدید:27 ) ان میں سے با ایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے ، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے ، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ آیت ( ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ ) 35 ۔ فاطر:32 ) ۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا ، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں ، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں ، یہی بہت بڑا فضل ہے ۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں ۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہو گئے ، جن میں سے ایک تو جنتی ہے ، باقی ستر دوزخی ۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی ۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا ، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے ، لوگوں نے پوچھا ، وہ کون ہیں؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں ۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت ۔ ( وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ ) 5 ۔ المائدہ:65 ) اور ( وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف:181 ) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے ، جسے ہم نے اور جگہ بیان کر دیا ہے فالحمدللہ