Surah

Information

Surah ID #2
Total Verses 286 Ayaat
Rukus 40
Sajdah 0
Actual Order #87
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 281 from Mina at the time of the Last Hajj
Surah 2: Al-Baqara Ayat #83
وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰکِيۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡکُمۡ وَاَنۡـتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ‏ ﴿83﴾
And [recall] when We took the covenant from the Children of Israel, [enjoining upon them], "Do not worship except Allah ; and to parents do good and to relatives, orphans, and the needy. And speak to people good [words] and establish prayer and give zakah." Then you turned away, except a few of you, and you were refusing.
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے و عدہ لیا کہ تم اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اسی طرح قرابتداروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا ، نمازیں قائم رکھنا اور زکوۃ دیتے رہا کرنا ، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ تم سب پھر گئے اور منہ موڑ لیا ۔

More translations & tafseer

و اذ اخذنا ميثاق بني اسراءيل لا تعبدون الا الله و بالوالدين احسانا و ذي القربى و اليتمى و المسكين و قولوا للناس حسنا و اقيموا الصلوة و اتوا الزكوة ثم توليتم الا قليلا منكم و انتم معرضون
And [recall] when We took the covenant from the Children of Israel, [enjoining upon them], "Do not worship except Allah ; and to parents do good and to relatives, orphans, and the needy. And speak to people good [words] and establish prayer and give zakah." Then you turned away, except a few of you, and you were refusing.
Aur jab hum ney bani israeel say wada liya kay tum Allah Taalaa kay siwa doosray ki ibadat na kerna aur maa baap kay sath acha sulook kerna issi tarah qarabat daron yateemon aur miskeenon kay sath aur logon ko achi baaten kehna namazen qaeem rakhna aur zakat detay raha kerna lekin thoray say logon kay ilawa tum sab phir gaye aur mun mor liya.
اور ( وہ وقت یاد کرو ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا عہد لیا تھا کہ : تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے ، اور والدین سے اچھا سلوک کرو گے ، اور رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں اور مسکینوں سے بھی ۔ اور لوگوں سے بھلی بات کہنا ، اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا ۔ ( مگر ) پھر تم میں سے تھوڑے سے لوگوں کے سوا باقی سب ( اس عہد سے ) منہ موڑ کر پھر گئے ۔
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ، ( ف۱۳٤ ) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو ( ف۱۳۵ ) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر تم پھر گئے ( ف۱۳٦ ) مگر تم میں کے تھوڑے ( ف۱۳۷ ) اور تم رد گردان ہو ۔ ( ف۱۳۸ )
یاد کرو ، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، ماں باپ کے ساتھ ، رشتے داروں کے ساتھ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا ، لوگوں سے بھلی بات کہنا ، نماز قائم کرنا اور زکوٰة دینا ، مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو ۔
اور ( یاد کرو ) جب ہم نے اولادِ یعقوب سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا ( کسی اور کی ) عبادت نہ کرنا ، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی ( بھلائی کرنا ) اور عام لوگوں سے ( بھی نرمی اور خوش خُلقی کے ساتھ ) نیکی کی بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا ، پھر تم میں سے چند لوگوں کے سوا سارے ( اس عہد سے ) رُوگرداں ہو گئے اور تم ( حق سے ) گریز ہی کرنے والے ہو
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :92 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبیلوں ( اَوْس اور خَزْرَج ) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے ۔ جب ایک عرب قبیلہ دُوسرے قبیلے سے برسرِ جنگ ہوتا ، تو دونوں کے حلیف یہُودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ایک دُوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے ۔ یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بُوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے ۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہُودی قبیلے کے اسیرانِ جنگ دُوسرے یہُودی قبیلے کے ہاتھ آتے تھے ، تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھُڑاتا تھا ، اور اس فدیے کے لیے دین کو جائز ٹھہرانے کے لیے کتاب اللہ سے استدلال کیا جاتا تھا ۔ گویا وہ کتاب اللہ کی اس اجازت کو تو سر آنکھوں پر رکھتے تھے کہ اسیرانِ جنگ کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے ، مگر اس حکم کو ٹھکرا دیتے تھے کہ آپس میں جنگ ہی نہ کی جائے ۔
معبودان باطل سے بچو بنی اسرائیل کو جو حکم احکام دیئے گئے اور ان سے جن چیزوں پر عہد لیا گیا ان کا ذکر ہو رہا ہے ان کی عہد شکنی کا ذکر ہو رہا ہے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ توحید کو تسلیم کریں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں ، یہ حکم نہ صرف بنو اسرائیل کو ہی دیا گیا بلکہ تمام مخلوق کو دیا گیا ہے فرمان ہے آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) 21 ۔ الانبیآء:25 ) یعنی تمام رسولوں کو ہم نے یہی حکم دیا کہ وہ اعلان کر دیں کہ قابل عبادت میرے سوا اور کوئی نہیں سب لوگ میری ہی عبادت کریں اور فرمایا آیت ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) 16 ۔ النحل:36 ) یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسکے سوا دوسرے معبودان باطل سے بچو ۔ سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور اسکے تمام حقوق میں بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور دوسرے کسی کی عبادت نہ کی جائے اب حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا بیان ہو رہا ہے بندوں کے حقوق میں ماں باپ کا حق سب سے بڑا ہے اسی لئے پہلے ان کا حق بیان کیا گیا ہے ارشاد ہے آیت ( اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ) 31 ۔ لقمان:14 ) میرا شکر کرو اور اپنے ماں باپ کا بھی احسان مان اور جگہ فرمایا آیت ( وقضی ربک الخ تیرے رب کا فیصلہ ہے کہ اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کیساتھ احسان اور سلوک کرتے رہو ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا نماز کو وقت پر ادا کرنا پوچھا اس کے بعد فرمایا ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرنا پوچھا پھر کونسا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک اور صحیح حدیث میں ہے کسی نے پوچھا حضور میں کس کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ ، پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ ، پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ فرمایا! اپنے باپ کے ساتھ اور قریب والے کے ساتھ پھر اور قریب والے کے ساتھ آیت میں لا تعبدون فرمایا اس لئے کہ اس میں بہ نسبت لاتعبدوا کے مبالغہ زیادہ ہے طلب یہ خبر معنی میں ہے بعض لوگوں نے ان لا تعبدوا ان لا تعبدوا بھی پڑھا ہے ابی اور ابن مسعود سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ لا تعبدوا پڑھتے تھے یتیم ان چھوٹے بچوں کو کہتے ہیں جن کا سرپرست آپ نہ ہو ۔ مسکین ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنی اور اپنے بال بچوں کی پرورش اور دیگر ضروریات پوری طرح مہیا نہ کر سکتے ہوں اس کی مزید تشریح انشاء اللہ العظیم سورۃ نساء کی اس معنی کی آیات میں آئے گی پھر فرمایا لوگوں کو اچھی باتیں کہا کرو ۔ یعنی ان کے ساتھ نرم کلامی اور کشادہ پیشانی کے ساتھ پیش آیا کرو بھلی باتوں کا حکم اور برائی سے روکا کرو ۔ حضرت حسن فرماتے ہیں بھلائی کا حکم دو ۔ برائی سے روکو ۔ بردباری ، درگزر اور خطاؤں کی معافی کو اپنا شعاربنا لو یہی اچھا خلق ہے جسے اختیار کرنا چاہئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اچھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگر اور کچھ نہ ہو سکے تو اپنے بھائیوں سے ہنستے ہوئے چہرے سے ملاقات تو کر لیا کرو ( مسند احمد ) پس قرآن کریم نے پہلے اپنی عبادت کا حکم دیا پھر لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے ۔ پھر اچھی باتیں کہنے کا ۔ پھر بعض اہم چیزوں کا ذکر بھی کر دیا نماز پڑھو زکوٰۃ دو ۔ پھر خبر دی کہ ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور عموماً نافرمان بن گئے مگر تھوڑے سے پابند عہد رہے ۔ اس امت کو بھی یہی حکم دیا گیا فرمایا آیت ( وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ) 4 ۔ النسآء:36 ) اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔ ماں باپ کے ساتھ رشتہ داروں کے ساتھ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ ، قرابت دار پڑوسیوں کے ساتھ ، اجنبی پڑوسیوں کے ساتھ ، ہم مشرب مسلک کے ساتھ مسافروں کے ساتھ لونڈی غلاموں کے ساتھ ، سلوک احسان اور بھلائی کیا کرو ۔ یاد رکھو تکبر اور فخر کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا الحمد اللہ کہ یہ امت بہ نسبت اور امتوں کے ان فرمانوں کے ماننے میں اور ان پر عمل پیرا ہونے میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی اسد بن وداعہ سے مروی ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کو سلام کیا کرتے تھے اور یہ دلیل دیتے تھے کہ فرمان باری ہے آیت ( وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) 2 ۔ البقرۃ:83 ) لیکن یہ اثر غریب ہے اور حدیث کے خلاف ہے حدیث میں صاف موجود ہے کہ یہود نصاریٰ کو ابتداً سلام علیک نہ کیا کرو ۔ واللہ اعلم ۔