Surah

Information

Surah ID #6
Total Verses 165 Ayaat
Rukus 20
Sajdah 0
Actual Order #55
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 6: Al-An'am Ayat #148
سَيَـقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا لَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشۡرَكۡنَا وَلَاۤ اٰبَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِنۡ شَىۡءٍ‌ ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ حَتّٰى ذَاقُوۡا بَاۡسَنَا‌ ؕ قُلۡ هَلۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ عِلۡمٍ فَتُخۡرِجُوۡهُ لَـنَا ؕ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَخۡرُصُوۡنَ‏ ﴿148﴾
Those who associated with Allah will say, "If Allah had willed, we would not have associated [anything] and neither would our fathers, nor would we have prohibited anything." Likewise did those before deny until they tasted Our punishment. Say, "Do you have any knowledge that you can produce for us? You follow not except assumption, and you are not but falsifying."
یہ مشرکین ( یوں ) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے اس طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو چکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا آپ کہیے کیا کہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے روبرو ظاہر کرو تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو ۔

More translations & tafseer

سيقول الذين اشركوا لو شاء الله ما اشركنا و لا اباؤنا و لا حرمنا من شيء كذلك كذب الذين من قبلهم حتى ذاقوا باسنا قل هل عندكم من علم فتخرجوه لنا ان تتبعون الا الظن و ان انتم الا تخرصون
Those who associated with Allah will say, "If Allah had willed, we would not have associated [anything] and neither would our fathers, nor would we have prohibited anything." Likewise did those before deny until they tasted Our punishment. Say, "Do you have any knowledge that you can produce for us? You follow not except assumption, and you are not but falsifying."
Yeh mushrikeen ( yun ) kahen gay kay agar Allah Taalaa ko manzoor hota to na hum shirk kertay aur na humaray baap dada aur na hum kissi cheez ko haram keh saktay. Issi tarah jo log inn say pehlay ho chukay hain unhon ney bhi takzeeb ki thi yahan tak kay unhon ney humaray azab ka maza chakha. Aap kahiye kay kiya tumharay pass koi daleel hai to iss ko humaray roo baroo zahir kero. Tum log mehaz khayali baaton per chaltay ho aur tum bilkul atkal say baaten banatay ho.
جن لوگوں نے شرک اپنایا ہوا ہے وہ یہ کہیں گے کہ : اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے ، نہ ہمارے باپ دادا ، اور نہ ہم کسی بھی چیز کو حرام قرار دیتے ، ( ٧٩ ) ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اسی طرح ( رسولوں کو ) جھٹلایا تھا ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا ۔ تم ان سے کہو کہ : کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جو ہمارے سامنے نکال کر پیش کرسکو؟ تم تو جس چیز کے پیچھے چل رہے ہو وہ گمان کے سوا کچھ نہیں ، اور تمہارا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہمی اندازے لگاتے رہو ۔
اب کہیں گے مشرک کہ ( ف۳۰۵ ) اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے ( ف۳۰٦ ) ایسا ہی ان کے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا ( ف۳۰۷ ) تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو ، تم تو نرے گمان ( خام خیال ) کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو ( ف۳۰۸ )
یہ مشرک لوگ ﴿تمہاری ان باتوں کے جواب میں﴾ ضرور کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا ، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے ۔ 124 ایسی ہی باتیں بنا بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا ۔ ان سے کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔
جلد ہی مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اﷲ چاہتا تو نہ ( ہی ) ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء و اجداد اور نہ کسی چیز کو ( بلا سند ) حرام قرار دیتے ۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے حتٰی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا ۔ فرما دیجئے: کیا تمہارے پاس کوئی ( قابلِ حجت ) علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ ( تو اسے پیش کرو ) ، تم ( علمِ یقینی کو چھوڑ کر ) صرف گمان ہی کی پیروی کرتے ہو اور تم محض ( تخمینہ کی بنیاد پر ) دروغ گوئی کرتے ہو
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :124 یعنی وہ اپنے جرم اور اپنی غلط کاری کے لیے وہی پرانا عذر پیش کریں گے جو ہمیشہ سے مجرم اور غلط کار لوگ پیش کرتے رہے ہیں ۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے حق میں اللہ کی مشیت یہی ہے کہ ہم شرک کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حرام ٹھہرا رکھا ہے انہیں حرام ٹھیرائیں ۔ ورنہ اگر خدا نہ چاہتا کہ ہم ایسا کریں تو کیوں کر ممکن تھا کہ یہ افعال ہم سے صادر ہوتے ۔ پس چونکہ ہم اللہ کی مشیت کے مطابق یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس لیے درست کر رہے ہیں ، اس کا الزام اگر ہے تو ہم پر نہیں ، اللہ پر ہے ۔ اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں ایسا ہی کرنے پر مجبور ہیں کہ اس کے سوا کچھ اور کرنا ہماری قدرت سے باہر ہے ۔
غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے ۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے ، جیسے ان کا یہی قول آیت ( لوشاء الرحمن ) میں اور سورۃ نحل میں ہے ۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے ؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضامندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو ۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو ۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے ، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے ، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے ، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے ، فرمان ہے آیت ( وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ ) 35- الانعام:6 ) اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا اور آیت میں ہے اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ، یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے ، تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کر دو ۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا ۔ ان منکرین قیامت ، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آ جانا ۔