Surah

Information

Surah ID #8
Total Verses 75 Ayaat
Rukus 10
Sajdah 0
Actual Order #88
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 30-36 from Makkah
Surah 8: Al-Anfal Ayat #37
لِيَمِيۡزَ اللّٰهُ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَ يَجۡعَلَ الۡخَبِيۡثَ بَعۡضَهٗ عَلٰى بَعۡضٍ فَيَرۡكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِىۡ جَهَـنَّمَ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿37﴾
[This is] so that Allah may distinguish the wicked from the good and place the wicked some of them upon others and heap them all together and put them into Hell. It is those who are the losers.
تاکہ اللہ تعالٰی ناپاک کو پاک سے الگ کردے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملادے پس ان سب کو اکٹھا ڈھیر کردے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں ۔

More translations & tafseer

ليميز الله الخبيث من الطيب و يجعل الخبيث بعضه على بعض فيركمه جميعا فيجعله في جهنم اولىك هم الخسرون
[This is] so that Allah may distinguish the wicked from the good and place the wicked some of them upon others and heap them all together and put them into Hell. It is those who are the losers.
Takay Allah Taalaa na pak ko pak say alag ker dey aur na pakon kay aik doosray say mila dey pus inn sab ko ikatha dher ker dey phir inn sab ko jahannum mein daal dey. Aisay log pooray khasaray mein hain.
تاکہ اللہ ناپاک ( لوگوں ) کو پاک ( لوگوں ) سے الگ کردے ، اور ایک ناپاک کو دوسرے ناپاک پر رکھ کر سب کا ایک ڈھیر بنائے ، اور اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے ۔ یہی لوگ ہیں جو سراسر خسارے میں ہیں ۔
اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے ( ف٦۲ ) اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں ( ف٦۳ )
تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے ، یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں ۔ 30 ؏ ٤
تاکہ اللہ ( تعالیٰ ) ناپاک کو پاکیزہ سے جدا فرما دے اور ناپاک ( یعنی نجاست بھرے کرداروں ) کو ایک دوسرے کے اوپر تلے رکھ دے پھر سب کو اکٹھا ڈھیر بنا دے گا پھر اس ( ڈھیر ) کو دوزخ میں ڈال دے گا ، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں
سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :30 اس سے بڑھ کر دیوالیہ پن اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسان جس راہ میں اپنا تمام وقت ، تمام محنت ، تمام قابلیت ، اور پورا سرمایہ زندگی کھپا دے اس کی انتہا پر پہنچ کر اسے معلوم ہو کہ وہ اسے سیدھی تباہی کی طرف لے آئی ہے اور اس راہ میں جو کچھ اس نے کھپایا ہے اس پر کوئی سود یا منافع پانے کے بجائے اسے اُلٹا جرمانہ بھگتنا پڑے گا ۔