Surah

Information

Surah ID #10
Total Verses 109 Ayaat
Rukus 11
Sajdah 0
Actual Order #51
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 40, 94, 95, 96, from Madina
Surah 10: Yunus Ayat #17
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ‏ ﴿17﴾
So who is more unjust than he who invents a lie about Allah or denies His signs? Indeed, the criminals will not succeed
سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلائے یقیناً ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہوگی ۔

More translations & tafseer

فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب بايته انه لا يفلح المجرمون
So who is more unjust than he who invents a lie about Allah or denies His signs? Indeed, the criminals will not succeed
So uss shaks say ziyada kaun zalim hoga jo Allah per jhoot bandhay ya uss ki aayaton ko jhoota batlaye yaqeenan aisay mujrimon ko aslan falah na hogi.
پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے ، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ یقین رکھو کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے ۔ ’’
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے ( ف٤۱ ) یا اس کی آیتیں جھٹلائے ، بیشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا ،
پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے ۔ 22 یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔ 23
پس اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلا دے ۔ بیشک مجرم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :22 یعنی اگر یہ آیات خدا کی نہیں ہیں اور میں انہیں خود تصنیف کر کے آیات الہٰی کی حیثیت سے پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں ۔ اور اگر یہ واقعی اللہ کی آیات ہیں اور تم ان کو جھٹلا رہے ہو تو پھر تم سے بڑا بھی کوئی ظالم نہیں ۔ سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :23 بعض نادان لوگ ” فلاح “ کو طویل عمر ، یا دنیوی خوشحالی ، یا دنیوی فروغ کے معنی میں لے لیتے ہیں ، اور پھر اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کر کے جیتا رہے ، یا دنیا میں پھلے پھولے ، یا اس کی دعوت کو فروغ نصیب ہو ، اسے نبی برحق مان لینا چاہیے کیونکہ اس نے فلاح پائی ۔ اگر وہ نبی برحق نہ ہوتا تو جھوٹا دعویٰ کرتے ہی مار ڈالا جاتا ، یا بھوکوں مار دیا جاتا اور دنیا میں اس کی بات چلنے ہی نہ پاتی ۔ لیکن یہ احمقانہ استدلال صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو نہ تو قرآنی اصطلاح ”فلاح“ کا مفہوم جانتا ہو ، نہ اس قانون امہال سے واقف ہو جو قرآن کے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے لیے مقرر فرمایا ہے ، اور نہ یہی سمجھتا ہو کہ اس سلسلہ بیان میں یہ فقرہ کس معنی میں آیا ہے ۔ اول تو یہ بات کہ ” مجرم فلاح نہیں پا سکتے “ اس سیاق میں اس حیثیت سے فرمائی ہی نہیں گئی ہے کہ یہ کسی کے دعوائے نبوت کو پرکھنے کا معیار ہے جس سے عام لوگ جانچ کر خود فیصلہ کرلیں کہ جو مدعی نبوت ”فلاح“ پا رہا ہو اس کے دعوے کو مانیں اور جو فلاح نہ پا رہا ہو اس کا انکار کر دیں ۔ بلکہ یہاں تو یہ بات اس معنی میں کہی گئی ہے کہ ”میں یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ مجرموں کو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی ، اس لیے میں خود تو یہ جرم نہیں کر سکتا کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کروں ، البتہ تمہارے متعلق مجھے یقین ہے کہ تم سچے نبی کو جھٹلانے کا جرم کر رہے ہو اس لیے تمہیں فلاح نصیب نہیں ہوگی“ ۔ پھر فلاح کا لفظ بھی قرآن میں دنیوی فلاح کے محدود معنی میں نہیں آیا ہے ، بلکہ اس سے مراد وہ پائیدار کامیابی ہے جو کسی خسران پر منتج ہونے والی نہ ہو ، قطع نظر اس سے کہ دنیوی زندگی کے اس ابتدائی مرحلہ میں اس کے اندر کامیابی کا کوئی پہلو ہو یا نہ ہو ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک داعی ضلالت دنیا میں مزے سے جیے ، خوب پھلے پھولے اور اس کی گمراہی کو بڑا فروغ نصیب ہو ، مگر یہ قرآن کی اصطلاح میں فلاح نہیں ، عین خسران ہے ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک داعی حق دنیا میں سخت مصیبتوں سے دو چار ہو ، شدت آلام سے نڈھال ہو کر یا ظالموں کی دست درازیوں کا شکار ہو کر دنیا سے جلدی رخصت ہو جائے ، اور کوئی اسے مان کر نہ دے ، مگر یہ قرآن کی زبان میں خسران نہیں ، عین فلاح ہے ۔ علاوہ بریں قرآن میں جگہ جگہ یہ بات پوری تشریح کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کیا کرتا بلکہ انہیں سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے ، اور اگر وہ اس مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اور زیادہ بگڑتے ہیں تو اللہ کی طرف سے ان کو ڈھیل دی جاتی ہے اور بسا اوقات ان کو نعمتوں سے نوازا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے نفس کی چھپی ہوئی تمام شرارتوں کو پوری طرح ظہور میں لے آئیں اور اپنے عمل کی بنا پر اس سزا کے مستحق ہو جائیں جس کے وہ اپنی بری صفات کی وجہ سے فی الحقیقت مستحق ہیں ۔ پس اگر کسی جھوٹے مدعی کی رسی دراز ہو رہی ہو اور اس پر دنیوی ”فلاح“ کی برسات برس رہی ہو تو سخت غلطی ہوگی اگر اس کی اس حالت کو اس کے برسر ہدایت ہونے کی دلیل سمجھا جائے ۔ خدا کا قانون امہال و استدراج جس طرح تمام مجرموں کے لیے عام ہے اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت کے لیے بھی ہے اور ان کے اس مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ پھر شیطان کو قیامت تک کے لیے جو مہلت اللہ تعالیٰ نے دی ہے اس میں بھی یہ استثنا کہیں مذکور نہیں ہے کہ تیرے اور تو سارے فریب چلنے دیے جائیں گے لیکن اگر تو اپنی طرف سے کوئی نبی کھڑا کرے گا تو یہ فریب نہ چلنے دیا جائے گا ۔ ممکن ہے کوئی شخص ہماری اس بات کے جواب میں وہ آیت پیش کرے جو سورہ الحاقہ آیات ٤٤ – ٤۷ میں ارشاد ہوئی ہے کہ وَلَوْ تَقَوَّ لَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَ قَاوِیْلِ o لَاَ خَذْنَا مِنْہُ بِا لْیَمِیْنِ o ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ۔ ” یعنی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود گھڑ کر کوئی بات ہمارے نام سے کہی ہوتی تو ہم اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ دل کاٹ ڈالتے “ ۔ لیکن اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ تو یہ ہے کہ جو شخص فی الواقع خدا کی طرف سے نبی مقرر کیا گیا ہو وہ اگر جھوٹی بات گھڑ کر وحی کی حیثیت سے پیش کرے تو فورا پکڑا جائے ۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ جو مدعی نبوت پکڑ انہیں جا رہا ہے وہ ضرور سچا ہے ۔ ایک منطقی مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ خدا کے قانون امہال و استدراج میں جو استثناء اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے وہ صرف سچے نبی کے لیے ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ بھی اس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ سرکاری ملازموں کے لیے حکومت نے جو قانون بنایا ہو اس کا اطلاق صرف انہی لوگوں پر ہوگا جو واقعی سرکاری ملازم ہوں ۔ رہے وہ لوگ جو جعلی طور پر اپنے آپ کو ایک سرکاری عہدہ دار کی حیثیت سے پیش کریں ، تو ان پر ضابطہ ملازمت کا نفاذ نہ ہوگا بلکہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ضابطہ فوجداری کے تحت عام بدمعاشوں اور مجرموں کے ساتھ کیا جا تا ہے ۔ علاوہ بریں سورہ الحاقہ کی اس آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ بھی اس غرض کے لیے نہیں فرمایا گیا کہ لوگوں کو نبی کے پرکھنے کا یہ معیار بتایا جائے کہ اگر پردہ غیب سے کوئی ہاتھ نمودار ہو کر اس کی رگ دل اچانک کاٹ لے تو سمجھیں جھوٹا ہے ورنہ مان لیں کہ سچا ہے ۔ نبی کے صادق یا کاذب ہونے کی جانچ اگر اس کی سیرت ، اس کے کام ، اور اس چیز سے جو وہ پیش کر رہا ہو ، ممکن نہ ہوتی تو ایسے غیر معقول معیار تجویز کرنے کی ضرورت پیش آسکتی تھی ۔
مجرم اور ظالموں کا سرغنہ اس سے زیادہ ظالم ، اس سے زیادہ مجرم ، اسے زیادہ سرکش اور کون ہوگا ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو ۔ رسالت کا دعویٰ کر دے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو ۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں ۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی اس سے غافل رہیں؟ یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کر دیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے ایک طرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو رکھئے تو اتنا ہی فرق معلوم ہوگا ۔ جتنا آدھی رات اور دوپہر کے وقت میں دونوں کے اخلاق عادات ، حالات کا معائنہ کرنے والا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اس کی غلط گوئی میں کوئی شک نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح سجاح اور اسود عنسی کا دعوی ہے کہ نظر ڈالنے کے بعد کسی کو ان کے جھوٹ میں شک نہیں رہتا ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے لوگ آپ کے دیکھنے کے لیے گئے ۔ میں بھی گیا آپ کے چہرے پر نظریں پڑتے ہی میں نے سمجھ لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا نہیں ۔ پاس گیا تو سب سے پہلے آپ کی زبان مبارک سے یہ کلام سنا کہ لوگو سلام پھیلاؤ ، کھانا کھلاتے رہا کرو ۔ صلہ رحمی قائم رکھو ۔ راتوں کو لوگوں کی نیند کے وقت تہجد کی نماز پڑھا کرو تو سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے ۔ اسی طرح جب سعد بن بکر کے قبیلے کے وفد میں ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پوچھا کہ اس آسمان کا بلند کرنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس نے پوچھا ان پہاڑوں کا گاڑھنے ولا کون ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ اس نے پوچھا اس زمین کا پھیلانے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ ۔ تو اس نے کہا میں آپ کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں ۔ جس نے ان آسمانوں کو بلند کیا ۔ ان پہاڑوں کو گاڑ دیا اس زمین کو پھیلا دیا کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو اپنا رسول بنا کر ہماری طرف بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اسی اللہ کی قسم ہاں ۔ اسی طرح نماز ، زکوٰۃ ، حج اور روزے کی بابت بھی اس نے ایسی ہی تاکیدی قسم دلا کر سوال کیا اور آپ نے بھی قسم کھا کر جواب دیا ۔ تب اس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں ۔ اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ نہ میں اس پر بڑھاؤں گا اور نہ کم کروں گا ۔ پس اس شخص نے صرف اسی پر قناعت کر لی ۔ اور جو دلائل آپ کی صداقت کے اس کے سامنے تھے ان پر اسے اعتبار آگیا ۔ حضرت حسان نے آپ کی تعریف میں کتنا اچھا شعر کہا ہے لو لم تکن فیہ ایات مبینتہ کانت بدیھتہ تاتیک بالخیر یعنی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اگر اور ظاہر اور کھلی نشانیاں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی ایک بات کافی تھی کہ چہرہ دیکھتے ہی بھلائی اور خوبی تیری طرف لپکتی ہے ۔ فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ برخلاف آپ کے کذاب مسیلمہ کے جس نے اسے بیک نگاہ دیکھ لیا اس کا جھوٹ اس پر کھل گیا ۔ خصوصاً جس نے اس کے فضول اقوال اور بدترین افعال دیکھ لئے ۔ اسے اس کے جھوٹ میں ذرا سا شائبہ بھی نہ رہا ۔ جسے وہ اللہ کا کلام کہہ رہا تھا اس کلام کی بدمزگی ، اس کی بےکاری ، تو اتنی ظاہر ہے کہ کلام کے سامنے پیش کئے جانے کے بھی قابل نہیں ۔ لو اب تم ہی انصاف کرو ۔ آیت الکرسی کے مقابلے میں اس ملعون نے یہ آیت بنائی تھی ۔ یاضفدع بنت ضفد عین نقی کم تنقین لا للماء تکدرین ولا الشاورب تمنعین یعنی اے مینڈکوں کے بچے میں مینڈک تو ٹراتا رہ ۔ نہ تو پانی خراب کر سکے نہ پینے والوں کو روک سکے ۔ اس طرح اس کے ناپاک کلام کے نمونے میں اس کی بنائی ایک اور آیت ہے کہ لقد انعم اللہ علی الجبلی اذا خرج منھا نسمۃ تسعی من بین صفاق وحشی اللہ نے حاملہ پر بڑی مہربانی فرمائی کہ اس کے پیٹ سے چلتی پھرتی جان برآمد کی ، جھلی اور آنتوں کے درمیان سے ۔ سورۃ الفیل کے مقابلے میں وہ پاجی کہتا ہے الفیل وما ادراک ما الفیل لہ خرطوم طویل یعنی ہاتھی اور کیا جانے تو کیا ہے ہاتھی؟ اس کی بڑی لمبی سونڈھ ہوتی ہے ۔ والنازعات کا معارضہ کرتے ہوئے یہ کمینہ کہتا ہے والعاجنات عجنا والخابزات خبزا والاقمات لقما اھالتہ و سمعان ان قریشا قوم یعتدون یعنی آٹا گوندھنے والا اور روٹی پکانے والیاں ، اور لقمے بنانے والیاں ، سالن اور گھی سے ۔ قریش لوگ بہت آگے نکل گئے ۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے یا نہیں؟ شریف انسان تو سوائے مذاق کے ایسی بات منہ سے بھی نہیں نکال سکتا پھر اس کا انجام دیکھئے لڑائی میں مارا گیا ۔ اس کا گروہ مٹ گیا ۔ اس کے ساتھیوں پر لعنت برسی ۔ حضرت صدیق اکبر کے پاس خائب و خاسر ہو کر منہ پر مٹی مل کر پیش ہوئے اور رو دھو کر توبہ کر کے جوں جوں کر کے جان بچائی ۔ پھر تو اللہ کے سچے دین کی چاشنی سے ہونٹ چوسنے لگے ۔ ایک روز ان سے خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسیلمہ کا قرآن تو سناؤ تو بہت سٹ پٹائے بیحد شرمائے اور کہنے لگے حضرت ہمیں اس ناپاک کلام کے زبان سے نکالنے پر مجبور نہ کیجئے ہمیں تو اس سے شرم معلوم ہوتی ہے ۔ آپ نے فرمایا نہیں تو ضرور سناؤ تاکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو بھی اس کی رکاکت اور بےہودگی معلوم ہو جائے ۔ آخر مجبور ہو کر انہوں نہایت ہی شرماتے ہوئے کچھ پڑھا جس کا نمونہ اوپر گزرا کہ کہیں میں مینڈک کا ذکر کہیں ہاتھی کا کہیں روٹی کا کہیں حمل کا ۔ اور وہ سارے ہی ذکر بےسود بےمزہ اور بےکار ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آخر میں فرمایا یہ تو بتاؤ تمہاری عقلیں کہاں ماری گئیں تھیں؟ واللہ اسے تو کوئی بیوقوف بھی ایک لمحہ کے لیے کلام اللہ نہیں کہہ سکتا ۔ مذکور ہے کہ عمرو بن العاص اپنے کفر کے زمانے میں مسیلمہ کے پاس پہنچا ۔ یہ دونوں بچپن کے دوست تھے اس سے پوچھا کہو عمرو تمہارے ہاں کے نبی پر آج کل جو وحی اتری ہو اس میں سے کچھ سنا سکتے ہو؟ اس نے کہا ہاں ان کے اصحاب ایک مختصر سورت پڑھتے تھے جو میری زبان پر بھی چڑھ گئی لیکن بھائی اپنی مضمون کے لحاظ سے وہ سورت بہت بڑی اور بہت ہی اعلیٰ ہے اور لفظوں کے اعتبار سے بہت ہی مختصر اور بڑی جامع ہے ۔ پھر اس نے سورہ والعصر پڑھ سنائی ۔ مسیلمہ چپکا ہو گیا بہت دیر کے بعد کہنے لگا مجھ پر اسی جیسی سورت اتری ہے ۔ اس نے کہا ہاں تو بھی سنا دے تو اس نے پڑھا یا وبر یا وبر انما انت اذنان و صدر و سائرک حقر لغر یعنی اے وبر جانور تیرے تو بس دو کان ہیں اور سینہ ہے ، اور باقی جسم تو تیرا بالکل حقیر اور عیب دار ہے ۔ یہ سنا کر عمرو سے پوچھتا ہے کہو دوست کیسی کہی؟ اس نے کہا دوست اپنے جھوٹ پر مہر لگا دی اور کیسی کہی؟ پس جب کہ ایک مشرک پر بھی سچے جھوٹے کی تمیز مشکل نہ ہوئی تو ایک صاحب عقل تمیز دار اور بایمان پر کیسے یہ بات چھپ سکتی ہے؟ اس کا بیان ( وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ ) 6- الانعام:93 ) میں ہے یعنی اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے یا اس کے طرف وحی نہ آنے کے باوجود وحی آنے کا دعویٰ کرنے والے سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ۔ اسی طرح جو کہے کہ میں بھی اللہ کی طرح کا کلام اتار سکتا ہوں ۔ مندرجہ بالا آیت میں بھی یہی فرمان ہے ۔ پس وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ، وہ بڑا ہی ظالم ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے ۔ حجت ظاہر ہو جانے پر بھی نہ مانے ۔ حدیث میں ہے سب سے بڑا سرکش اور بدنصیب وہ ہے جو کسی نبی کو قتل کرے یا نبی اسے قتل کرے ۔