Surah

Information

Surah # 10 | Verses: 109 | Ruku: 11 | Sajdah: 0 | Chronological # 51 | Classification: Makkan
Revelation location & period: Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 40, 94, 95, 96, from Madina
وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ‌ؕ اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَلَوۡ كَانُوۡا لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿42﴾
اور ان میں بعض ایسے ہیں آپ کی طرف کان لگائے بیٹھے ہیں کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو؟
و منهم من يستمعون اليك افانت تسمع الصم و لو كانوا لا يعقلون
And among them are those who listen to you. But can you cause the deaf to hear, although they will not use reason?
Aur inn mein say baaz aisay hain jo aap ki taraf kaan lagaye bethay hain. Kiya aap behron ko sunatay hain go unn ko samajh bhi na ho?
اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تمہاری باتوں کو ( بظاہر ) کان لگا کر سنتے ہیں ( مگر دل میں حق کی طلب نہیں رکھتے ، اس لیے درحقیقت بہرے ہیں ) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، چاہے وہ سمجھتے نہ ہوں؟
اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں ( ف۱۰۷ ) تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے اگرچہ انہیں عقل نہ ہو ( ف۱۰۸ )
ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں ، مگر کیا تو بہروں کو سنائے گا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟ 50
اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو ( ظاہراً ) آپ کی طرف کان لگاتے ہیں ، تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے خواہ وہ کچھ عقل بھی نہ رکھتے ہوں
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :50 ایک سننا تو اس طرح کا ہوتا ہے جیسے جانور بھی آواز سن لیتے ہیں ۔ دوسرا سننا وہ ہوتا ہے جس میں معنی کی طرف توجہ ہو اور یہ آمادگی پائی جاتی ہو کہ بات اگر معقول ہوگی تو اسے مان لیا جائے گا ۔ جو لوگ کسی تعصب میں مبتلا ہوں ، اور جنہوں نے پہلے سے فیصلہ کر لیا ہو کہ اپنے موروثی عقیدوں اور طریقوں کے خلاف اور اپنے نفس کی رغبتوں اور دلچسپیوں کے خلاف کوئی بات ، خواہ وہ کیسی ہی معقول ہو ، مان کر نہ دیں گے ، وہ سب کچھ سن کر بھی نہیں سنتے ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کچھ سن کر نہیں دیتے جو دنیا میں جانوروں کی طرح غفلت کی زندگی بسر کر تے ہیں اور چرنے چگنے کے سوا کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ، یا نفس کی لذتوں اور خواہشوں کے پیچھے ایسے مست ہوتے ہیں کہ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ہم یہ جو کچھ کر رہے ہیں یہ صحیح بھی ہے یا نہیں ۔ ایسے لوگ کانوں کے تو بہرے نہیں ہوتے مگر دل کے بہرے ہوتے ہیں ۔