فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ ۚؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡىِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴿98﴾
چنا نچہ کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ ایمان لانا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس ( علیہ السلام ) کی قوم کے جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت ( خاص ) تک کے لئے زندگی سے فائدہ اٹھانے ( کا موقع ) دیا ۔
فلو لا كانت قرية امنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما امنوا كشفنا عنهم عذاب الخزي في الحيوة الدنيا و متعنهم الى حين
Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment for a time.
Chunacha koi basti eman na laee kay eman lana uss ko nafey hota siwaye younus ( alh-e-salam ) ki qom kay. Jab woh eman ley aaye to hum ney ruswaee kay azab ko dunyawi zindagi mein unn per say taal diya aur unn ko aik waqt ( khas ) tak kay liye zindagi say faeeda uthaney ( ka moqa ) diya.
بھلا کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایسے وقت ایمان لے آتی کہ اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچا سکتا؟ البتہ صرف یونس کی قوم کے لوگ ایسے تھے ۔ ( ٣٩ ) جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے اٹھا لیا ، مور ان کو ایک مدت تک زندگی کا لطف اٹھانے دیا ۔
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی ( ف۲۰۵ ) کہ ایمان لاتی ( ف۲۰٦ ) تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم ، جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انھیں برتنے دیا ( ف۲۰۷ )
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو ؟ یونس کی قوم کے سوا 98 ﴿ اس کی کوئی نظیر نہیں﴾ ۔ وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا 99 اور اس کو ایک مدّت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا ۔ 100
پھر قومِ یونس ( کی بستی ) کے سوا کوئی اور ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو اور اسے اس کے ایمان لانے نے فائدہ دیا ہو ۔ جب ( قومِ یونس کے لوگ نزولِ عذاب سے قبل صرف اس کی نشانی دیکھ کر ) ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیوی زندگی میں ( ہی ) رسوائی کا عذاب دور کردیا اور ہم نے انہیں ایک مدت تک منافع سے بہرہ مند رکھا
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :98
یونس علیہ السلام جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ سن 784 سے سن 860 ء قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے! اگرچہ اسرائیلی نبی تھے ، مگر ان کو اشور ( اسیریا ) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا اور ا سی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے ۔ اس قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینوی کا مشہور شہر تھا جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں اور اسی علاقے میں یونس علیہ السلام نبی کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے ۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس کا دارالسلطنت نینوی تقریبا 60 میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا ۔
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :99
قرآن میں اس قصہ کی طرف تین جگہ صرف اشارات کیے گئے ہیں ، کوئی تفصیل نہیں دی گئی ( ملاحظہ ہو سورہ انبیاء آیات 87 ، 88 ۔ الصافات 139 ، 148القلم 48 تا 50 ) اس لیے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ قوم کن خاص وجوہ کی بنا پر خدا کے اس قانون سے مستثنی کی گئی کہ عذاب کا فیصلہ ہو جانے کے بعد کسی کا ایمان اس کے لیے نافع نہیں ہوتا ، بائیبل میں یوناہ کے نام سے جو مختصر سا صحیفہ ہے اس میں کچھ تفصیل تو ملتی ہے مگر وہ چنداں قابل اعتماد نہیں ہے ۔ کیونکہ اول تو نہ وہ آسمانی صحیفہ ہے ، نہ خود یونس علیہ السلام کا اپنا لکھا ہوا ہے ، بلکہ ان کے چار پانچ سو برس بعد کسی نامعلوم شخص نے اسے تاریخ یونس کے طور پر لکھ کر مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل کر دیا ہے ۔ دوسرے اس میں بعض صریح مہملات بھی پائے جاتے ہیں جو ماننے کے قابل نہیں ہیں ۔ تاہم قرآن کے اشارات اور صحیفہ یونس کی تفصیلات پر غور کرنے سے وہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ جو مفسرین قرآن نے بیان کی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام چونکہ عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ تعالی کی اجازت کے بغیر اپنا مستقر چھوڑ کر چلے گئے تھے ، اس لیے جب آثار عذاب دیکھ کر آشوریوں نے توبہ واستغفار کی تو اللہ تعالی نے انہیں معاف کر دیا ۔ قرآن مجید میں خدائی دستور کے جو اصول وکلیات بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک مستقل دفعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس پر اپنی حجت پوری نہیں کر لیتا ۔ پس جب نبی نے اس قوم کی مہلت کے آخری لمحے تک نصیحت کا سلسلہ جاری نہ رکھا اور اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے بطور خود ہی وہ ہجرت کر گیا ، تو اللہ تعالی کے انصاف نے اس کی قوم کو عذاب دینا گوارا نہ کیا کیونکہ اس پر اتمام حجت کی قانونی شرائط پوری نہیں ہوئی تھیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ الصافات ، حاشیہ نمبر85 )
سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :100
مطلب یہ ہے کہ آخرکار معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی ۔ اس لیے بالفرض اگر کوئی شخص دنیا میں اپنے نفاق کو چھپانے میں کامیاب ہو جائے اور انسان جن جن معیاروں پر کسی کے ایمان و اخلاص کو پرکھ سکتے ہیں ان سب پر بھی پورا اتر جائے تو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ نفاق کی سزا پانے سے بچ نکلا ہے ۔
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی
کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی پر کبھی ایمان نہیں لائے ۔ یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے ۔ سورہ یٰسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا ۔ ایک آیت میں ہے ان سے پہلے رسول آئے ، انہیں لوگوں نے جادوگر یا مجنون کا ہی خطاب دیا ۔ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکشوں ساہو کاروں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھ پر انبیاء پیش کئے گئے کسی نبی کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا ۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا ۔ پھر آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کی کثرت کا بیان کیا ۔ پھر اپنی امت کا ، اس سے بھی زیادہ ہونا ۔ زمین کے مشرق مغرب کی سمت کو ڈھانپ لینا بیان فرمایا ۔ الغرض تمام انبیاء میں سے کسی کی ساری امت نے انہیں نبی نہیں مانا ۔ سوائے اہل نینویٰ کے جو حضرت یونس علیہ السلام کی امت کے لوگ تھے ۔ یہ بھی اس وقت جب نبی علیہ السلام کی زبان سے عذاب کی خبر معلوم ہوگئی ۔ پھر اس کے ابتدائی آثار بھی دیکھ لیے ۔ ان کے نبی علیہ السلام انہیں چھوڑ کر چلے بھی گئے ۔ اس وقت یہ سارے کے سارے اللہ کے سامنے جھک گئے اس سے فریاد شروع کی ، اس کی جناب میں عاجزی اور گریہ و زاری کرنے لگے ، اپنی مسکینی ظاہر کرنے لگے ۔ اور دامن رحمت سے لپٹ گئے ۔ سارے کے سارے میدان میں نکل کھڑے ہوئے اپنی بیویوں ، بچوں اور جانوروں کو بھی ساتھ اٹھا کر لے گئے ۔ اور آنسوؤں کی جھڑیاں لگا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے دعائیں مانگنے لگے کہ یا رب عذاب ہٹا لے ۔ رحمت رب جوش میں آئی ، پروردگار نے ان سے عذاب ہٹا لیا اور دنیا کی رسوائی کے عذاب سے انہیں بچالیا ۔ اور ان کی عمر تک کی انہیں مہلت دے دی اور اس دنیا کا فائدہ انہیں پہنچایا ۔ یہاں جو فرمایا کہ دنیا کا عذاب ان سے ہٹا لیا ۔ اس سے بعض نے کہا ہے کہ اُخروی عذاب دور نہیں ۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لے کے دوسری آیت میں ہے ( فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ ١٤٨ۭ ) 37- الصافات:148 ) وہ ایمان لائے اور ہم نے انہیں زندگی کا فائدہ دیا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ ایمان لائے ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان آخرت کے عذاب سے نجات دینے والا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ کس بستی اہل کفر کا عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا ان کے لیے نفع بخش ثابت نہیں ہوا ۔ سوائے قوم یونس علیہ السلام کی قوم کے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نبی ان میں سے نکل گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے ، اس وقت توبہ استغفار کرنے لگے ٹاٹ پہن کر خشوع و خضوع سے میلے کچیلے میدان میں آکھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے دور کردیا ۔ جانوروں کے تھنوں سے ان کے بچوں کو الگ کر دیا ۔ اب جو رونا دھونا اور فریاد شروع کی تو چالیس دن رات اسی طرح گزار دیئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی سچائی دیکھ لی ۔ ان کی توبہ و ندامت قبول فرمائی اور ان سے عذاب دور کردیا ، یہ لوگ موصل کے شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے ۔ فلو لا کی فھلا قرأت بھی ہے ان کے سروں پر عذاب رات کی سیاہی کے ٹکڑوں کی طرح گھوم رہا تھا ان کے علماء نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جنگل میں نکل کھڑے ہو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اپنے عذاب کو دور کر دے اور یہ کہو یاحی حین لاحی یاحی محیی الموتی یاحی لا الہ الا انت قوم یونس کا پورہ قصہ سورہ الصافات کی تفسیر میں انشاء اللہ العزیز ہم بیان کریں گے ۔