Surah

Information

Surah ID #11
Total Verses 123 Ayaat
Rukus 10
Sajdah 0
Actual Order #52
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 12, 17, 114, from Madina
Surah 11: Hud Ayat #17
اَفَمَنۡ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ وَيَتۡلُوۡهُ شَاهِدٌ مِّنۡهُ وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً‌  ؕ اُولٰٓٮِٕكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُهٗ‌ ۚ فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡهُ‌ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿17﴾
So is one who [stands] upon a clear evidence from his Lord [like the aforementioned]? And a witness from Him follows it, and before it was the Scripture of Moses to lead and as mercy. Those [believers in the former revelations] believe in the Qur'an. But whoever disbelieves in it from the [various] factions - the Fire is his promised destination. So be not in doubt about it. Indeed, it is the truth from your Lord, but most of the people do not believe.
کیا وہ شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواہ ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ( گواہ ہو ) جو پیشوا و رحمت ہے ( اوروں کے برابر ہو سکتا ہے؟ ) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ رہ یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے ، لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہوتے ۔

More translations & tafseer

افمن كان على بينة من ربه و يتلوه شاهد منه و من قبله كتب موسى اماما و رحمة اولىك يؤمنون به و من يكفر به من الاحزاب فالنار موعده فلا تك في مرية منه انه الحق من ربك و لكن اكثر الناس لا يؤمنون
So is one who [stands] upon a clear evidence from his Lord [like the aforementioned]? And a witness from Him follows it, and before it was the Scripture of Moses to lead and as mercy. Those [believers in the former revelations] believe in the Qur'an. But whoever disbelieves in it from the [various] factions - the Fire is his promised destination. So be not in doubt about it. Indeed, it is the truth from your Lord, but most of the people do not believe.
Kiya woh shaks jo apney rab kay pass ki daleel per ho aur uss kay sath Allah ki taraf gawah ho aur iss say pehlay musa ki kitab ( gawah ho ) jo paishwa aur rehmat hai ( auron kay barabar ho sakta hai? ) . yehi log hain jo iss per eman rakhtay hain aur tamam firqon mein say jo bhi iss ka munkir ho uss kay aakhri waday ki jagah jahannum hai pus tu iss mein kissi qisam kay shubay mein na reh yaqeenan yeh teray rab ki janib say sirasir bar haq hai lekin aksat log eman laney walay nahi hotay.
بھلا بتاؤ کہ وہ شخص ( ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ) جو اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی روشن ہدایت ( یعنی قرآن ) پر قائم ہو ، جس کے پیچھے اس کی حقانیت کا ایک ثبوت تو خود اسی میں آیا ہے ، ( ١٢ ) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی ( اس کی حقانیت کا ثبوت ہے ) جو لوگوں کے لیے قابل اتباع اور باعث رحمت تھی ۔ ایسے لوگ اس ( قرآن پر ) ایمان رکھتے ہیں ۔ اور ان گروہوں میں سے جو شخص اس کا انکار کرے ، تو دوزخ ہی اس کی طے شدہ جگہ ہے ۔ لہذا اس ( قرآن ) کے بارے میں شک میں نہ پڑو ۔ یقین رکھو کہ یہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے ، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لارہے ۔
تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو ( ف۳٦ ) اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے ( ف۳۷ ) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ( ف۳۸ ) پیشوا اور رحمت وہ اس پر ( ف۳۹ ) ایمان لاتے ہیں ، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں ( ف٤۰ ) تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو ، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے ،
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا 17 ، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے ﴿ اس شہادت کی تائید میں﴾ آگیا ، 18 اور پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی ﴿ کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کر سکتا ہے؟﴾ ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے 19 ۔ اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے ۔ پس اے پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے ۔
وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہے اور اﷲ کی جانب سے ایک گواہ ( قرآن ) بھی اس شخص کی تائید و تقویت کے لئے آگیا ہے اور اس سے قبل موسٰی ( علیہ السلام ) کی کتاب ( تورات ) بھی جو رہنما اور رحمت تھی ( آچکی ہو ) یہی لوگ اس ( قرآن ) پر ایمان لاتے ہیں ، کیا ( یہ ) اور ( کافر ) فرقوں میں سے وہ شخص جو اس ( قرآن ) کا منکر ہے ( برابر ہوسکتے ہیں ) جبکہ آتشِ دوزخ اس کا ٹھکانا ہے ، سو ( اے سننے والے! ) تجھے چاہئے کہ تو اس سے متعلق ذرا بھی شک میں نہ رہے ، بیشک یہ ( قرآن ) تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
سورة هُوْد حاشیہ نمبر :17 یعنی جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت میں اور کائنات کے نظم و نسق میں اس امر کی کھلی شہادت مل رہی تھی کہ اس دنیا کا خالق ، مالک ، پروردگار اور حاکم و فرمانروا صرف ایک خدا ہے ، اور پھر انہی شہادتوں کو دیکھ کر جس کا دل یہ گواہی بھی پہلے ہی دے رہا تھا کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ضرور ہونی چاہیے جس میں انسان اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دے اور اپنے کیے کی جزا اور سزا پائے ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :18 یعنی قرآن ، جس نے آکر اس فطری و عقلی شہادت کی تائید کی اور اسے بتایا کہ فی الواقع حقیقت وہی ہے جس کا نشان آفاق و انفس کے آثار میں تونے پایا ہے ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :19 سلسلہ کلام کےلحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیوی زندگی کے ظاہری پہلو پر اور اس کی خوش نمائیوں پر فریفتہ ہیں ان کے لیے تو قرآن کی دعوت کو رد کر دینا آسان ہے ۔ مگر وہ شخص جو اپنی ہستی اور کائنات کے نظام میں پہلے سے توحید و آخرت کی کھلی شہادت پا رہا تھا ، پھر قرآن نے آکر ٹھیک وہی بات کہی جس کی شہادت وہ پہلے سے اپنے اندر بھی پا رہا تھا اور باہر بھی ، اور پھر اس کی مزید تائید قرآن سے پہلے آئی ہوئی کتاب آسمانی میں بھی اسے مل گئی ، آخر وہ کس طرح اتنی زبردست شہادتوں کی طرف سے آنکھیں بند کر کے ان منکرین کا ہم نوا ہو سکتا ہے ؟ اس ارشاد سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نزول قرآن سے پہلے ایمان بالغیب کی منزل سے گزر چکے تھے ۔ جس طرح سورہ انعام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ نبی ہونے سے پہلے آثار کائنات کے مشاہدے سے توحید کی معرفت حاصل کر چکے تھے ، اسی طرح یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی غور و فکر سے اس حقیقت کو پا لیا تھا اور اس کے بعد قرآن نے آپ کو حقیقت کا براہ راست کی بلکہ آکر اس کی نہ صرف تصدیق و توثیق کا علم بھی عطا کر دیا گیا ۔
مومن کون ہیں؟ ان مومنوں کا وصف بیان ہو رہا ہے جو فطرت پر قائم ہیں جو اللہ کی وحدانیت کو دل سے مانتے ہیں ۔ جیسے حکم الٰہی ہے کہ ( فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30؀ڎ ) 30- الروم:30 ) اپنا منہ دین حنیف پر قائم کر دے اللہ کی فطرت جس پر اس نے انسانی فطرت پیدا کی ہے بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے کہ جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں پھر لوگ ان کے کان کاٹ ڈالتے ہیں ۔ مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے تمام بندوں کو موحد پیدا کیا ہے لیکن پھر شیطان آکر انہیں ان کے دین سے بہکا دیتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ میرے ساتھ انہیں شریک کریں جن کی کوئی دلیل میں نے نہیں اتاری ۔ مسند اور سنن میں ہے کہ ہر بچہ اسی ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان کھلے ، الخ ۔ پس مومن فطرت رب پر ہی باقی رہا ہے ۔ پس ایک تو فطرت اس کی صحیح سالم ہوتی ہے پھر اس کے پاس اللہ کا شاہد آتا ہے یعنی اللہ کی شریعت پییغبمر کے ذریعے پہنچتی ہے جو شریعت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ساتھ ختم ہوئی ۔ پس شاہد سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی رسالت اولاً حضرت جبرائیل علیہ السلام لائے اور آپ کے واسطے سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ایک قول میں کہا گیا ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں لیکن وہ قول ضعیف ہے ۔ اس کا کوئی قائل ثابت ہی نہیں ۔ حق بات پہلی ہی ہے ۔ پس مومن کی فطرت اللہ کی وحی سے مل جاتی ہے ۔ اجمالی طور پر اسے پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے ، پھر شریعت کی تفصیلات کو مان لیتا ہے ۔ اس کی فطرت ایک ایک مسئلے کی تصدیق کرتی جاتی ہے ۔ پس فطرت سلیم ، اس کے ساتھ قرآن کی تعلیم ، جسے حضرت جبرائیل نے اللہ کے نبی کو پہنچایا اور آپ نے اپنی امت کو پھر اس سے پہلے کی ایک اور تائید بھی موجود ہے ، وہ کتاب موسی یعنی تورات جیسے اللہ نے اس زمانے کی امت کے لیے پیشوائی کے قابل بنا کر بھیجی تھی اور جو اللہ کی طرف سے رحمت تھی اس پر جن کا پورا ایمان ہے وہ لامحالہ اس نبی اور اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اس کتاب نے اس کتاب پر ایمان لانے کی رہنمائی کی ہے ۔ پس یہ لوگ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں ۔ پھر پورے قرآن کو یا اس کے کسی حصے کو نہ ماننے والوں کی سزا کا بیان فرمایا کہ دنیا والوں میں سے جو گروہ جو فرقہ اسے نہ مانے خواہ یہودی ہو ، خواہ نصرانی کہیں کا ہو ، کوئی ہو ، کسی رنگت اور شکل وصورت کا ہو ، قرآن پہنچا اور نہ ماناہ وہ جہنمی ہے ۔ جیسے رب العالمین نے اپنے نبی کی زبانی اسی قرآن کریم میں فرمایا ہے ۔ ( لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ) 6- الانعام:19 ) کہ میں اس سے تمہیں بھی آگاہ کر رہا ہوں اور انہیں بھی جنہیں یہ پہنچ جائے اور آیت میں ہے ( قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ) 7- الاعراف:158 ) لوگوں میں اعلان کردو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس امت میں سے جو بھی مجھے سن لے اور پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں میں جو صحیح حدیث سنتا ہوں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ضرور پاتا ہوں ۔ مندرجہ بالا حدیث سن کر میں اس تلاش میں لگا کہ اس کی تصدیق قرآن کی کسی آیت سے ہوتی ہے تو مجھے یہ آیت ملی پس تمام دین والے اس سے مراد ہیں ۔ پھر جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ اس قرآن کے اللہ کی طرف سے سراسر حق ہو نے میں تجھے کوئی شک و شبہ نہ کرنا چاہیے جیسے ارشاد ہے کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہو نے میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ اور جگہ ہے ( آیت ذالک الکتاب لا ریب فیہ ) اس کتاب میں کوئی شک نہیں ۔ پھر ارشاد ہے کہ اکثر لوگ ایمان سے کورے ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے ( وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ١٠٣؁ ) 12- یوسف:103 ) یعنی گو تیری چاہت ہو لیکن یقین کر لے کہ اکثر لوگ مومن نہیں ہونگے ۔ اور آیت میں ہے ( وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ ١١٦؁ ) 6- الانعام:116 ) اگر تو دنیا والوں کی اکثریت کی پیروی کرے گا تو وہ تو تجھے راہ حق سے بھٹکا دیں گے اور آیت میں ہے ( وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 20؀ ) 34- سبأ:20 ) یعنی ان پر ابلیس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا اور سوائے مومنوں کی ایک مختصر سی جماعت کے باقی سب اسی کے پیچھے لگ گئے ۔