Surah

Information

Surah ID #11
Total Verses 123 Ayaat
Rukus 10
Sajdah 0
Actual Order #52
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 12, 17, 114, from Madina
Surah 11: Hud Ayat #107
خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ‏ ﴿107﴾
[They will be] abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord should will. Indeed, your Lord is an effecter of what He intends.
وہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان و زمین برقرار رہیں سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے ۔

More translations & tafseer

خلدين فيها ما دامت السموت و الارض الا ما شاء ربك ان ربك فعال لما يريد
[They will be] abiding therein as long as the heavens and the earth endure, except what your Lord should will. Indeed, your Lord is an effecter of what He intends.
Woh wahin hamesha rehney walay hain jab tak aasman-o-zamin bar qarar rahen siwaye uss waqt kay jo tumhara rab chahaye yaqeenan tera rab jo kuch chahaye ker guzarta hai.
یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ ( ٦٠ ) الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو ( ٦١ ) یقینا تمہارا رب جو ارادہ کرلے ، اس پر اچھی طرح عمل کرتا ہے ۔
وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا ( ف۲۱٦ ) بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے ،
اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں 107 ، الا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے ۔ بے شک تیرا ربّ پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ۔ 108
وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین ( جو اس وقت ہوں گے ) قائم رہیں مگر یہ کہ جو آپ کا رب چاہے ۔ بیشک آپ کا رب جو ارادہ فرماتا ہے کر گزرتا ہے
سورة هُوْد حاشیہ نمبر :107 متن میں لفظ یَتَوَفّٰکُمْ ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ”جو تمہیں موت دیتا ہے“ ۔ لیکن اس لفظی ترجمہ سے اصل روح ظاہر نہیں ہوتی ۔ اس ارشاد کی روح یہ ہے کہ ”وہ جس کے قبضے میں تمہاری جان ہے ، جو تم پر ایسا مکمل حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے کہ جب تک اس کی مرضی ہو اسی وقت تک تم جی سکتے ہو اور جس وقت اس کا اشارہ ہو جائے اسی آن تمہیں اپنی جان اس جان آفرین کے حوالے کردینی پڑتی ہے ، میں صرف اسی کی پرستش اور اسی کی بندگی و غلامی اور اسی کی اطاعت و رمانبرداری کا قائل ہوں “ ۔ یہاں اتنا اور سمجھ لینا چاہیے کہ مشرکینِ مکہ یہ مانتے تھے اور آج بھی ہر قسم کے مشرک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موت صرف اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے ، اس پر کسی دوسرے کا قابو نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ جن بزرگوں کو یہ مشرکین خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھیراتے ہیں ان کے متعلق بھی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خود اپنی موت کا وقت نہیں ٹال سکا ہے ۔ پس بیان مدعا کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات میں سے کسی دوسری صفت کا ذکر کرنے کے بجائے یہ خاص صفت کہ”وہ جو تمہیں موت دیتا ہے “ یہاں اس لیے انتخاب کی گئی ہے کہ اپنا مسلک بیان کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح ہونے کی دلیل بھی دے دی جائے ۔ یعنی سب کو چھوڑ کر میں اس کی بندگی اس لیے کرتا ہوں کہ زندگی و موت پر تنہا اسی کا اقتدار ہے ۔ اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی آخر کیوں کروں جب کہ وہ خود اپنی زندگی وموت پر بھی اختیار نہیں رکھتے کجا کہ کسی اور کی زندگی و موت کے مختار ہوں ۔ پھر کمال بلاغت یہ ہے کہ ”وہ مجھے موت دینے والا ہے“ کہنے کے بجائے”وہ جو تمہیں موت دیتا ہے“ فرمایا ۔ اس طرح ایک ہی لفظ میں بیانِ مدعا ، دلیل مدعا ، اور دعوت الی المدعیٰ ، تینوں فائدے جمع کر دیے گئے ہیں ۔ اگر یہ فرمایا جا تا کہ”میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو مجھے موت دینے والا ہے“ تو اس سے صرف یہی معنی نکلتے کہ”مجھے اس کی بندگی کرنی ہی چاہیے“ ۔ اب جو یہ فرمایا کہ”میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمہیں موت دینے والا ہے“ ، تو اس سے یہ معنی نکلے کہ مجھے ہی نہیں ، تم کو بھی اسی کی بندگی کرنی ہی چاہیے اور تم یہ غلطی کر رہے ہو کہ اس کے سوا دوسروں کی بندگی کیے جاتے ہو ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :108 اس مطالبے کی شدت قابل غور ہے ۔ بات ان الفاظ میں بھی ادا ہو سکتی تھی کہ تو”اس دین کو اختیار کر لے“ یا ”اس دین پر چل“یا” اس دین کا پیرو بن جا“ ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو بیان کے یہ سب پیرایے ڈھیلے ڈھالے نظر آئے ۔ اس دین کی جیسی سخت اور ٹھکی اور کسی ہوئی پیروی مطلوب ہے اس کا اظہار ان کمزور الفاظ سے نہ ہو سکتا تھا ۔ لہٰذا اپنا مطالبہ ان الفاظ میں پیش فرمایا کہ ”اَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا “ ۔ اقم وجھک کے لفظی معنی ہیں”اپنا چہرہ جما دے“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تیرا رخ ایک ہی طرف قائم ہو ۔ ڈگمگاتا اور ہِلتا ڈُلتا نہ ہو ۔ کبھی پیچھے اور کبھی آگے اور کبھی دائیں وار کبھی بائیں نہ مڑتا رہے ۔ بالکل ناک کی سیدھ اسی راستے پر نظر جمائے ہوئے چل جو تجھے دکھا دیا گیا ہے ۔ یہ بندش بجائے خود بہت چُست تھی ، مگر اس پر بھی اکتفا نہ کیا گیا ۔ اس پر ایک اور قید حنیفا کی بڑھا ئی گئی ۔ حنیف اس کو کہتے ہیں جو سب طرف سے مڑ کر ایک طرف کا ہو رہا ہو ۔ پس مطالبہ یہ ہے کہ اس دین کو ، اس بندگی خدا کے طریقے کو ، اس طرزِ زندگی کو کہ پرستش ، بندگی ، غلامی ، اطاعت ، فرمانبرداری سب کچھ صرف اللہ رب العالمین ہی کی کی جائے ، ایسی یکسوئی کے ساتھ اختیار کر کہ کِسی دوسرے طریقے کی طرف ذرہ برابر میلان و رحجان بھی نہ ہو ۔ ، اس راہ پر آکر ان غلط راہوں سے کچھ بھی لگاؤ باقی نہ رہے جنہیں تو چھوڑ کر آیا ہے اور ان ٹیڑھے راستوں پر ایک غلط انداز نگاہ بھی نہ پڑے جن پر دنیا چلی جا رہی ہے ۔