Surah

Information

Surah ID #12
Total Verses 111 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 0
Actual Order #53
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 1, 2, 3, 7, from Madina
Surah 12: Yusuf Ayat #20
وَشَرَوۡهُ بِثَمَنٍۢ بَخۡسٍ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍ‌ ۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزّٰهِدِيۡنَ‏ ﴿20﴾
And they sold him for a reduced price - a few dirhams - and they were, concerning him, of those content with little.
اورانہوں نے اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر بیچ ڈالا ، وہ تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے ۔

More translations & tafseer

و شروه بثمن بخس دراهم معدودة و كانوا فيه من الزاهدين
And they sold him for a reduced price - a few dirhams - and they were, concerning him, of those content with little.
Aur unhon ney issay boht hi halki qeemat per ginti kay chand dirhamon per hi baich dala woh to yousuf kay baray mein boht hi bey raghbat thay.
اور ( پھر ) انہوں نے یوسف کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا جو گنتی کے چند درہموں کی شکل میں تھی ، اور ان کو یوسف سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ( ١٢ )
اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا ( ف٤۷ ) اور انھیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی ( ف٤۸ )
آخرکار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا 15 اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے ۔ ؏ ۲
اور یوسف ( علیہ السلام ) کے بھائیوں نے ( جو موقع پر آگئے تھے اسے اپنا بھگوڑا غلام کہہ کر انہی کے ہاتھوں ) بہت کم قیمت گنتی کے چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا کیونکہ وہ راہ گیر اس ( یوسف علیہ السلام کے خریدنے ) کے بارے میں ( پہلے ہی ) بے رغبت تھے ( پھر راہ گیروں نے اسے مصر لے جا کر بیچ دیا )
سورة یُوْسُف حاشیہ نمبر :15 اس معاملہ کی سادہ صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ برادران یوسف علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینک کر چلے گئے تھے بعد میں قافلے والوں نے آکر ان کو وہاں سے نکالا اور مصر لے جاکر بیچ دیا ۔ مگر بائیبل کا بیان ہے کہ برادران یوسف علیہ السلام نے بعد میں اسماعیلیوں کے ایک قافلے کو دیکھا اور چاہا کہ یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال ان کے ہاتھ بیچ دیں ۔ لیکن اس پہلے ہی مدین کے سوداگر انہیں کنویں سے نکال چکے تھے ۔ ان سوداگروں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بیس روپے میں اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا ۔ پھر آگے چل کر بائیبل کے مصنفین یہ بھول جاتے ہیں کہ اوپر وہ اسماعیلیوں کے ہاتھ حضرت یوسف علیہ السلام کو فروخت کرا چکے ہیں ۔ چنانچہ وہ اسماعیلیوں کے بجائے پھر مدین ہی کے سوداگروں سے مصر میں انہیں دوبارہ فروخت کراتے ہیں ( ملاحظہ ہو کتاب پیدائش باب ۳۷ ۔ آیت ۲۵ تا ۲۸ و آیت ۳٦ ) ۔ اس کے برعکس تلمود کا بیان ہے کہ مدین کے سوداگروں نے یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکال کر اپنا غلام بنا لیا ۔ پھر برادران یوسف علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے قبضہ میں دیکھ کر ان سے جھگڑا کیا ۔ آخرکار انہوں نے ۲۰ درہم قیمت ادا کر کے برادران یوسف علیہ السلام کو راضی کیا ۔ پھر انہوں نے بیس ہی درہم میں یوسف علیہ السلام کو اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ دیا اور اسماعیلیوں نے مصر لے جاکر انہیں فروخت کیا ۔ یہیں سے مسلمانوں میں یہ روایت مشہور ہوئی ہے کہ برادران یوسف علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو فروخت کیا تھا ۔ لیکن واضح رہنا چاہیے کہ قرآن اس روایت کی تائید نہیں کرتا ۔