Surah

Information

Surah ID #12
Total Verses 111 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 0
Actual Order #53
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 1, 2, 3, 7, from Madina
Surah 12: Yusuf Ayat #37
قَالَ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَـبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا‌ ؕ ذٰ لِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِىۡ رَبِّىۡ ؕ اِنِّىۡ تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ‏ ﴿37﴾
He said, "You will not receive food that is provided to you except that I will inform you of its interpretation before it comes to you. That is from what my Lord has taught me. Indeed, I have left the religion of a people who do not believe in Allah , and they, in the Hereafter, are disbelievers.
یوسف نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو میرے رب نے سکھایا ہے میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ۔

More translations & tafseer

قال لا ياتيكما طعام ترزقنه الا نباتكما بتاويله قبل ان ياتيكما ذلكما مما علمني ربي اني تركت ملة قوم لا يؤمنون بالله و هم بالاخرة هم كفرون
He said, "You will not receive food that is provided to you except that I will inform you of its interpretation before it comes to you. That is from what my Lord has taught me. Indeed, I have left the religion of a people who do not believe in Allah , and they, in the Hereafter, are disbelievers.
Yousuf ney kaha tumhen jo khana diya jata hai uss kay tumharay pass phonchney say pehlay hi mein tumhen iss ki tabeer batla doon ga. Yeh sab uss ilm ki badolat hai jo mujhay meray rab ney sikhaya hai mein ney unn logon ka mazhab chor diya hai jo Allah per eman nahi rakhtay aur aakhirat kay bhi munkir hain.
یوسف نے کہا : جو کھانا تمہیں ( قید خانے میں ) دیا جاتا ہے ، وہ ابھی آنے نہیں پائے گا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت بتا دوں گا ( ٢٥ ) یہ اس علم کا ایک حصہ ہے جو میرے پروردگار نے مجھے عطا فرمایا ہے ۔ ( مگر اس سے پہلے میری ایک بات سنو ) بات یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ، اور جو آخرت کے منکر ہیں ۔ ( ٢٦ )
یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا ( ف۱۰۰ ) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے ، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں ،
یوسف ( علیہ السلام ) نے کہا: یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا ۔ یہ علم ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ،
یوسف ( علیہ السلام ) نے کہا: جو کھانا ( روز ) تمہیں کھلایا جاتا ہے وہ تمہارے پاس آنے بھی نہ پائے گا کہ میں تم دونوں کو اس کی تعبیر تمہارے پاس اس کے آنے سے قبل بتا دوں گا ، یہ ( تعبیر ) ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں ۔ بیشک میں نے اس قوم کا مذہب ( شروع ہی سے ) چھوڑ رکھا ہے جو اﷲ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید حضرت یوسف علیہ السلام اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں ۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہو نے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتا دوں گا ۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو ۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے ۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں ۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے ۔ ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام ۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے ۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے ، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے ۔ اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کر دیتا ہے ۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے ۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کر دیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے ۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے ۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کرلیں ۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے ۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے ۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی ۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں ۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں ۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو حضرت یوسف کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ۔