Dekhlay kay inn mein aik ko aik per hum ney kiss tarah fazilat dey rakhi hai aur aakhirat to darjon mein aur bhi barh ker hai aur fazilat kay aetbaar say bhi boht bari hai.
دیکھو ہم نے کس طرح ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے ۔ ( ١١ ) اور یقین رکھو کہ آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑٰی ہے ، اور فضیلت کے اعتبار سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔
مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے ، اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے ، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی ۔ 23
دیکھئے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے ، اور یقینًا آخرت ( دنیا کے مقابلہ میں ) درجات کے لحاظ سے ( بھی ) بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے ( بھی ) بہت بڑی ہے
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :23
یعنی دنیا ہی میں یہ فرق نمایاں ہو جاتا ہے کہ آخرت کے طلبگار دنیا پرست لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں ۔ یہ فضیلت اس اعتبار سے نہیں ہے کہ ان کے کھانے اور لباس اور مکان اور سواریاں اور تمدن و تہذیب کے ٹھاٹھ ان سے کچھ بڑھ کر ہیں ۔ بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ یہ جو کچھ بھی پاتے ہیں صداقت ، دیانت اور امانت کے ساتھ پاتے ہیں ، اور وہ جو کچھ پا رہے ہیں ظلم سے ، بے ایمانیوں سے ، اور طرح طرح کی حرام خوریوں سے پا رہے ہیں ۔ پھر ان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اعتدال کے ساتھ خرچ ہوتا ہے ، اس میں سے حق داروں کے حقوق ادا ہوتے ہیں ، اس میں سائل اور محروم کا حصہ بھی نکلتا ہے ، اور اس میں سے خدا کی خوشنودی کے لیے دوسرے نیک کاموں پر بھی مال صرف کیا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس دنیا پرستوں کو جو کچھ ملتا ہے وہ بیش تر عیاشیوں اور حرام کاریوں اور طرح طرح کے فساد انگیز اور فتنہ خیز کاموں میں پانی کی طرح بہایا جاتا ہے ۔ اسی طرح تمام حیثیتوں سے آخرت کے طلبگار کی زندگی خدا ترسی اور پاکیزگی اخلاق کا ایسا نمونہ ہوتی ہے جو پیوند لگے ہوئے کپڑوں اور خس کی جھونپڑیوں میں بھی اس قدر درخشاں نظر آتا ہے کہ دنیا پرست کی زندگی اس کے مقابلے میں ہر چشم بینا کو تاریک نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے جبار بادشاہوں اور دولت مند امیروں کے لیے بھی ان کے ہم جنس انسانوں کے دلوں میں کوئی سچی عزت اور محبت اور عقیدت کبھی پیدا نہ ہوئی اور اس کے بر عکس فاقہ کش اور بوریا نشین اتقیاء کی فضیلت کو خود دنیا پرست لوگ بھی ماننے پر مجبور ہو گئے ۔ یہ کھلی کھلی علامتیں اس حقیقت کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہیں کہ آخرت کی پائدار مستقل کامیابیاں ان دونوں گروہوں میں سے کس کے حصے میں آنے والی ہیں ۔