Surah

Information

Surah ID #17
Total Verses 111 Ayaat
Rukus 12
Sajdah 1
Actual Order #50
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 26, 32, 33, 57, 73-80, from Madina
Surah 17: Al-Isra' Ayat #53
وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا‏ ﴿53﴾
And tell My servants to say that which is best. Indeed, Satan induces [dissension] among them. Indeed Satan is ever, to mankind, a clear enemy.
اور میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے ۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔

More translations & tafseer

و قل لعبادي يقولوا التي هي احسن ان الشيطن ينزغ بينهم ان الشيطن كان للانسان عدوا مبينا
And tell My servants to say that which is best. Indeed, Satan induces [dissension] among them. Indeed Satan is ever, to mankind, a clear enemy.
Aur meray bandon say keh dijiye kay woh boht hi achi baat mun say nikala keren kiyon kay shetan aapas mein fasad dalwata hai. Be-shak shetan insan ka khulla dushman hai.
میرے ( مومن ) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو ۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے ۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ ( ٢٨ )
اور میرے ( ف۱۰۹ ) بندوں سے فرماؤ ( ف۱۱۰ ) وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو ( ف۱۱۱ ) بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈالتا ہے ، بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے ،
اور اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، میرے بندوں57 سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو ۔ 58 دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ 59
اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں ، بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد بپا کرتا ہے ، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :57 یعنی اہل ایمان سے ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :58 یعنی کفار و مشرکین سے اور اپنے دین کے مخلافین سے گفتگو اور مباحثے میں تیز کلامی اور مبالغے اور غلو سے کام نہ لیں ۔ مخالفین خواہ کیسی ہی ناگوار باتیں کریں مسلمانوں کو بہرحال نہ تو کوئی بات خلاف حق زبان سے نکالنی چاہیے ، اور نہ غصے میں آپے سے باہر ہو کر بیہودگی کا جواب بیہودگی سے دینا چاہیے ۔ انہیں ٹھنڈے دل سے وہی بات کہنی چاہیے جو جچی تلی ہو ، برحق ہو ، اور ان کی دعوت کے وقار کے مطابق ہو ۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :59 یعنی جب کبھی تمہیں مخالفین کی بات کا جواب دیتے وقت غصے کی آگ اپنے اندر بھڑکتی محسوس ہو ، اور طبیعت بے اختیار جوش میں آتی نظر آئے ، تو فورا سمجھ لو کہ یہ شیطان ہے جو تمہیں اکسا رہا ہے تا کہ دعوت دین کا کام خراب ہو ۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ تم بھی اپنے مخالفین کی طرح اصلاح کا کام چھوڑ کر اسی جھگڑے اور فساد میں لگ جاؤ جس میں وہ نوع انسانی کو مشغول رکھنا چاہتا ہے ۔
مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں ، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا ، لڑائی جھگڑے شروع ہو جائیں گے ۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے ، اسی لئے حدیث میں مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے ۔ ملاحظہ ہو مسند احمد ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بےعزت نہ کرے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تقوی یہاں ہے جو دو شخص آپس میں دینی دوست ہوں پھر ان میں جدائی ہو جائے اسے ان میں سے جو بیان کرے وہ بیان کرنے والا برا ہے وہ بدتر ہے وہ نہایت شریر ہے ( مسند )