Surah

Information

Surah ID #21
Total Verses 112 Ayaat
Rukus 7
Sajdah 0
Actual Order #73
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD)
Surah 21: Al-Anbiya' Ayat #65
ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِہِمۡ‌ۚ لَـقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰٓؤُلَاۤءِ يَنۡطِقُوۡنَ‏ ﴿65﴾
Then they reversed themselves, [saying], "You have already known that these do not speak!"
پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہوگئے ( اور کہنے لگے کہ ) یہ توتجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں ۔

More translations & tafseer

ثم نكسوا على رءوسهم لقد علمت ما هؤلاء ينطقون
Then they reversed themselves, [saying], "You have already known that these do not speak!"
Phir apney saron kay bal ondhay hogaye ( aur kehnay lagay kay ) yeh to tujhay bhi maloom hai kay yeh bolney chaalney walay nahi.
پھر انہوں نے اپنے سر جھکا لیے ، اور کہا : تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔ ( ٢٧ )
پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے ( ف۱۱۸ ) کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں ( ف۱۱۹ )
مگر پھر ان کی مت پلٹ گئی 61 اور بولے ” تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔ ”
پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیئے گئے ( یعنی ان کی عقلیں اوندھی ہوگئیں اور کہنے لگے: ) بیشک ( اے ابراہیم! ) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیں
سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :61 اصل میں : نُکِسُوْا عَلیٰ رُءُوْسِھِمْ ( اوندھا دیے گئے اپنے سروں کے بل ) فرمایا گیا ہے ۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہوں نے خجالت کے مارے سر جھکا لیے ۔ لیکن موقع و محل اور اسلوب بیان اس معنی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے ۔ صحیح مطلب ، جو سلسلہ کلام اور انداز کلام پر نظر کرنے سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے ، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جواب سنتے ہی پہلے تو انہوں نے اپنے دلوں میں سوچا کہ واقعی ظالم تو تم خود ہو ، کیسے بے جس اور بے اختیار معبودوں کو خدا بنائے بیٹھے ہو جو اپنی زبان سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان پر کیا بیتی اور کون انہیں مار کر رکھ گیا ، آخر یہ ہماری کیا مدد کریں گے جب کہ خود اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے ۔ لیکن اس کے بعد فوراً ہی ان پر ضد اور جہال سوار ہو گئی اور ، جیسا کہ ضد کا خاصہ ہے ، اس کے سوار ہوتے ہی ان کی عقل اوندھ گئی ۔ دماغ سیدھا سوچتے سوچتے یکایک الٹا سوچنے لگا ۔