Surah

Information

Surah ID #22
Total Verses 78 Ayaat
Rukus 10
Sajdah 2
Actual Order #103
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 52-55, revealed between Makkah and Madina
Surah 22: Al-Hajj Ayat #45
فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ‏ ﴿45﴾
And how many a city did We destroy while it was committing wrong - so it is [now] fallen into ruin - and [how many] an abandoned well and [how many] a lofty palace.
بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ و بالا کر دیا اس لئے کہ وہ ظالم تھے پس وہ اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں ۔

More translations & tafseer

فكاين من قرية اهلكنها و هي ظالمة فهي خاوية على عروشها و بر معطلة و قصر مشيد
And how many a city did We destroy while it was committing wrong - so it is [now] fallen into ruin - and [how many] an abandoned well and [how many] a lofty palace.
Boht si bastiyan hain jinhen hum ney teh-o-bala kerdiya iss liye kay woh zalim thay pus woh apni chaton kay bal ondhi hui pari hain aur boht say abad koonwen beykaar paray hain aur boht say pakkay aur buland mehal weeran paray hain.
غرض کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے اس وقت ہلاک کیا جب وہ ظلم کر رہی تھیں ، چنانچہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں ، اور کتنے ہی کنویں جو اب بیکار ہوئے پڑے ہیں ، اور کتنے پکے بنے ہوئے محل ( جو کھنڈر بن چکے ہیں ) ۔
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں ( ہلاک کردیں ) ( ف۱۲۲ ) کہ وہ ستمگار تھیں ( ف۱۲۳ ) تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی ( گری ) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے ( ف۱۲٤ ) اور کتنے محل گچ کیے ہوئے ( ف۱۲۵ )
کتنی ہی خطا کار بستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ، کتنے ہی کنوئیں 90 بےکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں ۔
پھر کتنی ہی ( ایسی ) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور ( ان کی ہلاکت سے ) کتنے کنویں بے کار ( ہوگئے ) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے ( ہیں )
سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :90 عرب میں کنواں اور بستی قریب قریب ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں ۔ کسی قبیلے کی بستی کا نام لینا ہو تو کہتے ہیں : ماء بنی فلان یعنی فلاں قبیلے کا کنواں ۔ ایک عرب کے سامنے جب یہ کہا جائے گا کہ کنوئیں بیکار پڑے ہیں تو اس کے ذہن میں اس کا یہ مطلب آئے گا کہ بستیاں اجڑی پڑی ہیں ۔