Surah

Information

Surah ID #23
Total Verses 118 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #74
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD)
Surah 23: Al-Mu'minoon Ayat #76
وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ وَمَا يَتَضَرَّعُوۡنَ‏ ﴿76﴾
And We had gripped them with suffering [as a warning], but they did not yield to their Lord, nor did they humbly supplicate, [and will continue thus]
اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی ۔

More translations & tafseer

و لقد اخذنهم بالعذاب فما استكانوا لربهم و ما يتضرعون
And We had gripped them with suffering [as a warning], but they did not yield to their Lord, nor did they humbly supplicate, [and will continue thus]
Aur hum ney enhen azab mein bhi pakra ta-hum yeh log na to apnay perwerdigar kay samney jhukay aur na hi aajzi ikhtiyar ki.
واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو ( ایک مرتبہ ) عذاب میں پکڑا تھا ، تو اس وقت بھی یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے نہیں جھکے ۔ اور یہ تو عاجزی کی روش اختیار کرتے ہی نہیں ہیں ۔
اور بیشک ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا ( ف۱۲۵ ) تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں ( ف۱۲٦ )
ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا ، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں ۔
اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا پھر ( بھی ) انہوں نے اپنے رب کے لئے عاجزی اختیار نہ کی اور نہ وہ ( اس کے حضور ) گڑگڑائے
جرائم کی سزا پانے کی باوجود نیک نہ بن سکے فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں ان کی برائیوں کی وجہ سے سختیوں اور مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا لیکن تاہم نہ تو انہوں نے اپنا کفر چھوڑا نہ اللہ کی طرف جھکے بلکہ کفر و ضلالت پر اڑے رہے ۔ نہ ان کے دل نرم ہوئے نہ یہ سچے دل سے ہماری طرف متوجہ ہوئے نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 43؀ ) 6- الانعام:43 ) ہمارا عذاب دیکھ کر یہ ہماری طرف عاجزی سے کیوں نہ جھکے ؟ بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس آیت میں اس قحط سالی کا ذکر ہے جو قریشیوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے صلے میں آئی تھی ، جس کی شکایت لے کر ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ کو اللہ کی قسمیں دے کر ، رشتے داریوں کے واسطے دے کر کہا تھا کہ ہم تو اب لید اور خون کھانے لگے ہیں ۔ ( نسائی ) بخاری ومسلم میں ہے کہ قریش کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعا کی تھی کہ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں سات سال کی قحط سالی آئی تھی ، ایسے ہی قحط سے اے اللہ تو ان پر میری مدد فرما ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کو قید کردیا گیا ۔ وہاں ایک نوعمر شخص نے کہا میں آپ کو جی بہلانے کے لئے اشعار سناؤں ؟ تو آپ نے فرمایا اس وقت ہم عذاب اللہ میں ہیں اور قرآن نے ان کی شکایت کی ہے جو ایسے وقت بھی اللہ کی طرف نہ جھکیں پھر آپ نے تین روزے برابر رکھے ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ بیچ میں افطار کئے بغیر روزے کیسے ؟ تو جواب دیا کہ ایک نئی چیز ادھر سے ہوئی یعنی قید ، تو ایک نئی چیز ہم نے کی یعنی زیادتی عبادت ۔ یہاں تک کہ حکم الٰہی آ پہنچا اچانک وقت آگیا اور جس عذاب کا وہم وگمان بھی نہ تھا وہ آپڑا تو تمام خیر سے مایوس ہوگئے آس ٹوٹ گئی اور حیرت زدہ رہ گئے اللہ کی نعمتوں کو دیکھو ، اس نے کان دئیے ، آنکھیں دیں ، دل دیا ، عقل فہم عطا فرمائی کہ غور وفکر کرسکو ، اللہ کی وحدانیت کو اس کے اختیار کو سمجھ سکو ۔ لیکن جیسے جیسے نعمتیں بڑھیں شکر کم ہوئے جیسے فرمان ہے تو گوحرص کر لیکن ان میں سے اکثر بے ایمان ہیں پھر اپنی عظیم الشان سلطنت اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ اس نے مخلوق کو پیدا کرکے وسیع زمین پر پھیلا دیا ہے پھر قیامت کے دن بکھرے ہوؤں کو سمیٹ کر اپنے پاس جمع کرے گا اب بھی اسی نے پیدا کیا ہے پھر بھی وہی جلائے گا کوئی چھوٹا بڑا آگے پیچھے کا باقی نہ بچے گا ۔ وہی بوسیدہ اور کھوکھلی ہڈیوں کا زندہ کرنے والا اور لوگوں کو مار ڈالنے والا ہے اسی کے حکم سے دن چڑھتا ہے رات آتی ہے ایک ہی نظام کے مطابق ایک کے بعد ایک آتا جاتا ہے نہ سورج چاند سے آگے نکلے نہ رات دن پر سبقت کرے کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ؟ کہ اتنے بڑے نشانات دیکھ کر اپنے اللہ کو پہچان لو ؟ اور اس کے غلبے اور اس کے علم کے قائل بن جاؤ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے کافر ہوں یا گذشتہ زمانوں کے ان سب کے دل یکساں ہیں زبانیں بھی ایک ہی ہیں وہی بکواس جو گذشتہ لوگوں کی تھی وہی ان کی ہے کہ مر کر مٹی ہوجانے اور صرف بوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جانے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کئے جائیں یہ سمجھ سے باہر ہے ہم سے بھی یہی کہا گیا ہمارے باپ دادوں کو بھی اس سے دھمکایا گیا لیکن ہم نے تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا ہمارے خیال میں تو یہ صرف بکواس ہے ۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اس وقت بھی پھر زندہ کئے جائیں گے؟ جناب باری نے فرمایا جسے تم انہونی بات سمجھ رہے ہو وہ تو ایک آواز کے ساتھ ہوجائے گی اور ساری دنیا اپنی قبروں سے نکل کر ایک میدان میں ہمارے سامنے آجائے گی ۔ سورۃ یاسین میں بھی یہ اعتراض اور جواب ہے ۔ کہ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ ضدی جھگڑالو بن بیٹھا اور اپنی پیدائش کو بھول بسرگیا اور ہم پر اعتراض کرتے ہوئے مثالیں دینے لگا کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم انہیں جواب دو کہ انہیں نئے سرے سے وہ اللہ پیدا کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا ہے اور جو ہر چیز کی پیدائش کا عالم ہے ۔