Surah

Information

Surah ID #25
Total Verses 77 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 1
Actual Order #42
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 68-70, from Madina
Surah 25: Al-Furqan Ayat #75
اُولٰٓٮِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ۙ‏ ﴿75﴾
Those will be awarded the Chamber for what they patiently endured, and they will be received therein with greetings and [words of] peace.
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و بالا خانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا ۔

More translations & tafseer

اولىك يجزون الغرفة بما صبروا و يلقون فيها تحية و سلما
Those will be awarded the Chamber for what they patiently endured, and they will be received therein with greetings and [words of] peace.
Yehi woh log hain jinhen unn kay sabar kay badlay jannat kay buland-o-bala khaney diye jayen gay jahan unhen dua salam phonchaya jayega.
یہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بالاخانے عطا ہوں گے ، اور وہاں دعاؤں اور سلام سے ان کا استقبال کیا جائے گا ۔
ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے اور سلام کے ساتھ ان کی پیشوائی ہوگی ( ف۱۳٦ )
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر 94 کا پھل منزل بلند کی شکل 95 میں پائیں گے ۔ آداب و تسلیمات سے ان کا استقبال ہوگا ۔
انہی لوگوں کو ( جنت میں ) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گا
سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :94 صبر کا لفظ یہاں اپنے وسیع ترین مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ دشمنان حق کے مظالم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا ۔ دین حق کو قائم اور سربلندی کرنے کی جدو جہد میں ہر قسم کے مصائب اور تکلیفوں کو سہہ جانا ۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہنا ۔ شیطان کی تمام ترغیبات اور نفس کی ساری خواہشات کے علی الرغم فرض کو بچا لانا ، حرام سے پرہیز کرنا اور حدود اللہ پر قائم رہنا ۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دینا اور نیکی و راستی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جانا ۔ غرض اس ایک لفظ کے اندر دین اور دینی رویے اور دینی اخلاق کی ایک دنیا کی دنیا سمو کر رکھ دی گئی ہے ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :95 اصل میں لفظ غُرْفَہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی بلند و بالا عمارت کے ہیں ۔ اس کا ترجمہ عام طور پر بالا خانہ کیا جاتا ہے جس سے آدمی کے ذہن میں ایک دو منزلہ کوٹھے کی سی تصویر آ جاتی ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسان جو بڑی سے بڑی اور اونچی سے اونچی عمارتیں بناتا ہے ، حتّیٰ کہ ہندوستان کا روضہ تاج اور امریکہ کے ’‘ فلک شگاف ( Sky-scrapers ) تک جنت کے ان محلات کی محض ایک بھونڈی سی نقل ہیں جن کا ایک دھندلا سا نقشہ اولاد آدم کے لا شعور میں محفوظ چلا آتا ہے ۔
مومنوں کے اعمال اور اللہ کے انعامات مومنوں کی پاک صفتیں ان کے بھلے اقوال عمدہ افعال بیان فرما کر ان کا بدلہ بیان ہو رہا ہے کہ انہیں جنت ملے گی ۔ جو بلند تر جگہ ہے اس وجہ سے یہ ان اوصاف پر جمے رہے وہاں ان کی عزت ہوگی اکرام ہوگا ادب تعظیم ہوگی ۔ احترام اور توقیر ہوگی ۔ ان کے لئے سلامتی ہے ان پر سلامتی ہے ہر ایک دروازہ جنت سے فرشتے حاضر خدمت ہوتے ہیں اور سلام کرکے کہتے ہیں کہ تمہارا انجام بہتر ہوگیا کیونکہ تم صبر کرنے والے تھے ۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے نہ نکلیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں نہ راحتیں فناہوں یہ سعید بخت ہیں جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے ان کے رہنے سہنے راحت وآرام کرنے کی جگہ بڑی سہانی پاک صاف طیب وطاہر دیکھنے میں خوش منظر رہنے میں آرام دہ ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت اور تسبیح وتہلیل کے لئے پیدا کیا ہے اگر مخلوق یہ نہ بجا لائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہایت حقیر ہے ۔ اللہ کے نزدیک یہ کسی گنتی میں ہی نہیں ۔ کافرو! تم نے جھٹلایا اب تم نہ سمجھو کہ بس معاملہ ختم ہوگیا ۔ نہیں اس کا وبال دنیا اور آخرت میں تمہارے ساتھ ساتھ ہے تم برباد ہوگے اور عذاب اللہ تم سے چمٹے ہوئے ہیں اسی سلسلے کی ایک کڑی بدر کے دن کفار کی ہزیمت اور شکست تھی جیسے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے مروی ہے قیامت کے دن کی سزا ابھی باقی ہے الحمدللہ کہ سورۃ فرقان کی تفسیر ختم ہوئی فالحمدللہ