Surah

Information

Surah ID #26
Total Verses 227 Ayaat
Rukus 11
Sajdah 0
Actual Order #47
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 197 and 224-227, from Madina
Surah 26: Ash-Shu'ara Ayat #116
قَالُوۡا لَٮِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ يٰـنُوۡحُ لَـتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِيۡنَؕ‏ ﴿116﴾
They said, "If you do not desist, O Noah, you will surely be of those who are stoned."
انہوں نے کہا کہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کر دیا جائے گا ۔

More translations & tafseer

قالوا لىن لم تنته ينوح لتكونن من المرجومين
They said, "If you do not desist, O Noah, you will surely be of those who are stoned."
Unhon ney kaha aey nooh! Agar tu baaz na aaya to yaqeenan tujhay sangsaar ker diya jaye ga.
وہ کہنے لگے : اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا ۔
بولے اے نوح! اگر تم باز نہ آئے ( ف۱۱۲ ) تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے ( ف۱۱۳ )
انہوں نے کہا ” اے نوح ( علیہ السلام ) ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا ۔ ” 84
وہ بولے: اے نوح! اگر تم ( ان باتوں سے ) باز نہ آئے تو تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیا جائے گا
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :84 اصل الفاظ ہیں لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ تم کو رجم کیا جائے گا ، یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا ۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ تم پر ہر طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کی جائے گی ، جہاں جاؤ گے دھتکارے اور پھٹکارے جاؤ گے ۔ عربی محاورے کے لحاظ سے ان الفاظ کے یہ دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں ۔
تذکرہ نوح علیہ السلام لمبی مدت تک جناب نوح علیہ السلام ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ علیہ السلام اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے ۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی ۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے ۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی ۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا ۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے ۔