Surah

Information

Surah ID #26
Total Verses 227 Ayaat
Rukus 11
Sajdah 0
Actual Order #47
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 197 and 224-227, from Madina
Surah 26: Ash-Shu'ara Ayat #214
وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَۙ‏ ﴿214﴾
And warn, [O Muhammad], your closest kindred.
اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے ۔

More translations & tafseer

و انذر عشيرتك الاقربين
And warn, [O Muhammad], your closest kindred.
Apnay qareebi rishtay walon ko dara dey.
اور ( اے پیغمبر ) تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرو ( ٥٠ )
اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ ( ف۱۷۸ )
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ ، 135
اور ( اے حبیبِ مکرّم! ) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ( ہمارے عذاب سے ) ڈرائیے
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :135 یعنی خدا کے اس بے لاگ دین میں جس طرح نبی کی ذات کے لیے کوئی رعایت نہیں اسی طرح نبی کے خاندان اور اس کے قریب ترین عزیزوں کے لیے بھی کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہاں جس کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہے اس کے اوصاف ( Merits ) کے لحاظ سے ہے ۔ کسی کا نسب اور کسی کے ساتھ آدمی کا تعلق کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا ۔ گمراہی و بد عملی پر خدا کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اور سب تو ان چیزوں پر پکڑے جائیں ، مگر نبی کے رشتہ دار بچے رہ جائیں ۔ اس لیے حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی صاف صاف متنبہ کر دو ۔ اگر وہ اپنا عقیدہ اور عمل درست نہ رکھیں گے تو یہ بات ان کے کسی کام نہ آ سکے گی کہ وہ نبی کے رشتہ دار ہیں ۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو خطاب فرمایا اور ایک ایک کو پکار کر صاف صاف کہہ دیا کہ یا بنی عبد المطلب ، یا عباس ، یا صفیۃ عمۃ رسول اللہ ، یا فاطمۃ بنت محمد ، انقذوا انفسکم من النار ، فانی لا املک لکم من اللہ شیئاً ، سلونی من مالی ماشئتم ۔ اے بنی عبد المطلب ، اے عباس ، اے صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی ، اے فاطمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کر لو ، میں خدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچا سکتا ، البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو ۔ پھر آپ نے صبح سویرے صفا کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر پکارا یا صباحاہ ( ہائے صبح کا خطرہ ) ، اے قریش کے لوگو ، اے بنی کعب بن لُؤَیّ ، اے بنی مرّہ ، اے آل قُصَیّ ، اے بنی عبد مَناف ، اے بنی عبد شمس ، اے بنی ہاشم ، اے آل عبد المطلب ۔ اس طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپ نے آواز دی ۔ عرب میں قاعدہ تھا کہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پتہ چل جاتا وہ اسی طرح پکارنا شروع کر دیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہی ہر طرف سے دوڑ پڑتے ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے ، اور جو خود نہ آ سکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگو ، اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو تم میری بات سچ مانو گے ؟ سب نے کہا ہاں ، ہمارے تجربے میں تم کبھی جھوٹ بولنے والے نہیں رہے ہو ۔ آپ نے فرمایا ، اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں ۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو ۔ میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ۔ قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے ۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آؤ ۔ اس وقت تم پکارو گے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیر لوں ۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا ۔ ( اس مضمون کی متعدد روایات بخاری ، مسلم ، مسند احمد ، ترمذی ، نسائی اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عائشہ ، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت زہیر بن عمرو اور حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہیں ) ۔ یہ معاملہ صرف اس حد تک نہ تھا کہ قرآن میں اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کا حکم آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کر کے بس اس کی تعمیل کر دی ۔ دراصل اس میں جو اصول واضح کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں جن سے دوسرے محروم ہوں ۔ جو چیز زہر قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے ، نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے ، پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کر دے کہ جو بھی اسے کھائے گا ، ہلاک ہو جائے گا ۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے ، نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے ، تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے ، بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے ۔ اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم زندگی بھر عامل رہے ۔ فتح مکہ کے روز جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے اعلان کیا کہ کل ربا فی الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی ھاتین و اول ما اضعہ ربا العباس ۔ زمانہ جاہلیت کا ہر سود جو لوگوں کے ذمے تھا میرے ان قدموں تلے روند ڈالا گیا ۔ اور سب سے پہلے جس سود کو میں ساقط کرتا ہوں وہ میرے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا ہے ( واضح رہے کہ سود کی حرمت کا حکم آنے سے پہلے حضرت عباس سود پر روپیہ چلاتے تھے اور ان کا بہت سا سود اس وقت لوگوں کے ذمے وصول طلب تھا ) ۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں قریش کی ایک عورت فاطمہ نامی کا ہاتھ کاٹنے کا آپ نے حکم دیا ۔ حضرت اسامہ بن زید نے اس کے حق میں سفارش کی ۔ اس پر آپ نے فرمایا خدا کی قسم ، اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔