Surah

Information

Surah ID #26
Total Verses 227 Ayaat
Rukus 11
Sajdah 0
Actual Order #47
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 197 and 224-227, from Madina
Surah 26: Ash-Shu'ara Ayat #227
اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانْتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا‌ ؕ وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ‏ ﴿227﴾
Except those [poets] who believe and do righteous deeds and remember Allah often and defend [the Muslims] after they were wronged. And those who have wronged are going to know to what [kind of] return they will be returned.
سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالٰی کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں ۔

More translations & tafseer

الا الذين امنوا و عملوا الصلحت و ذكروا الله كثيرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سيعلم الذين ظلموا اي منقلب ينقلبون
Except those [poets] who believe and do righteous deeds and remember Allah often and defend [the Muslims] after they were wronged. And those who have wronged are going to know to what [kind of] return they will be returned.
Siwaye unn kay jo eman laye aur nek amal kiye aur ba-kasrat Allah Taalaa ka ziker kiya aur apni mazloomi kay baad intiqam liya jinhon ney zulm kiya hai woh bhi abhi jaan len gay kay kiss kerwat ulat’tay hain.
ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے ، اور انہوں نے نیک عمل کیے ، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا ، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا ۔ ( ٥٤ ) اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں ۔
مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ( ف۱۹۱ ) اور بکثرت اللہ کی یاد کی ( ف۱۹۲ ) اور بدلہ لیا ( ف۱۹۳ ) بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا ( ف۱۹٤ ) اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم ( ف۱۹۵ ) کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ( ف۱۹٦ )
بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا ، اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا 145 ۔ ۔ ۔ ۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں ۔ 146 ؏11
سوائے ان ( شعراء ) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے ( یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے ) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد ( ظالموں سے بزبانِ شعر ) انتقام لیا ( اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا تو یہ شاعری مذموم نہیں ) ، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ ( مرنے کے بعد ) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :145 یہاں شعراء کی اس عام مذمت سے جو اوپر بیان ہوئی ، ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار خصوصیات کے حامل ہوں : اول یہ کہ وہ مومن ہوں ، یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتابوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں ۔ دوسرے یہ کہ اپنی عملی زندگی میں صالح ہوں ، بد کار اور فاسق و فاجر نہ ہوں ، اخلاق کی بندشوں سے آزاد ہو کر جھک نہ مارتے پھریں ۔ تیسرے یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہوں ، اپنے عام حالات اور اوقات میں بھی ، اور اپنے کلام میں بھی ۔ یہ نہ ہو کہ شخصی زندگی تو زہد و تقویٰ سے آراستہ ہے مگر کلام سراسر رندی و ہوسناکی سے لبریز ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ شعر میں تو بڑی حکمت و معرفت کی باتیں بگھاری جا رہی ہیں مگر ذاتی زندگی کو دیکھیے تو یاد خدا کے سارے آثار سے خالی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں حالتیں یکساں مذموم ہیں ۔ ایک پسندیدہ شاعر وہی ہے جس کی نجی زندگی بھی خدا کی یاد سے معمور ہو اور شاعرانہ قابلیتیں بھی اس راہ میں وقف رہیں جو خدا سے غافل لوگوں کی نہیں بلکہ خدا شناس ، خدا دوست اور خدا پرست لوگوں کی راہ ہے ۔ چوتھی صفت ان مستثنیٰ قسم کے شاعروں کی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شخصی اغراض کے لیے تو کسی کی ہجو نہ کریں ، نہ ذاتی یا نسلی و قومی عصبیتوں کی خاطر انتقام کی آگ بھڑکائیں ، مگر جب ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے ضرورت پیش آئے تو پھر زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیر و شمشیر سے لیتا ہے ۔ ہر وقت گھگھیاتے ہی رہنا اور ظلم کے مقابلے میں نیاز مندانہ معروضات ہی پیش کرتے رہنا مومنوں کا شیوہ نہیں ہے ۔ اسی کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ کفار و مشرکین کے شاعر اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف الزامات کا جو طوفان اٹھاتے اور نفرت و عداوت کا جو زہر پھیلاتے تھے اس کا جوب دینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے ۔ چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے آپ نے فرمایا : اھجھم فوالذی نفسی بیدہ لہوا شد علیہم من النبل ، ان کی ہجو کہو ، کیونکہ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تمہارا شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیز ہے ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا اھجھم وجبریل معک ، اور قل و روح القدس معک ، ان کی خبر لو اور جبریل تمہارے ساتھ ہے ۔ کہو اور روح القدس تمہارے ساتھ ہے آپ کا ارشاد تھا کہ : ان المؤمن یجاھد بسیفہ و لسانہٖ ۔ مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور زبان سے بھی ۔ سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :146 ظلم کرنے والوں سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے سراسر ہٹ دھرمی کی راہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شاعری اور کہانت اور ساحری اور جنون کی تہمتیں لگاتے پھرتے تھے تاکہ نا واقف لوگ آپ کی دعوت سے بد گمان ہوں اور آپ کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دیں ۔