Surah

Information

Surah ID #29
Total Verses 69 Ayaat
Rukus 7
Sajdah 0
Actual Order #85
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 1-11, from Madina
Surah 29: Al-Ankabut Ayat #25
وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡثَانًا ۙ مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۚ ثُمَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا  وَّمَاۡوٰٮكُمُ النَّارُ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ۙ‏ ﴿25﴾
And [Abraham] said, "You have only taken, other than Allah , idols as [a bond of] affection among you in worldly life. Then on the Day of Resurrection you will deny one another and curse one another, and your refuge will be the Fire, and you will not have any helpers."
۔ ( حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیاوی دوستی کی بنا ٹھہرالی ہے تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہارا سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔

More translations & tafseer

و قال انما اتخذتم من دون الله اوثانا مودة بينكم في الحيوة الدنيا ثم يوم القيمة يكفر بعضكم ببعض و يلعن بعضكم بعضا و ماوىكم النار و ما لكم من نصرين
And [Abraham] said, "You have only taken, other than Allah , idols as [a bond of] affection among you in worldly life. Then on the Day of Resurrection you will deny one another and curse one another, and your refuge will be the Fire, and you will not have any helpers."
( hazrat ibrahim alh-e-salam ney ) kaha kay tum ney jin buton ki parastish Allah kay siwa ki hai unhen tum ney apni aapas ki duniyawi dosti ki bina thera li hai tum sab qayamat kay din aik doosray say kufur kerney lago gay aur aik doosray per lanat kerney lago gay. Aur tumhara sab ka thikana dozakh hoga aur tumhara koi madadgaar na hoga.
اور ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ : تم نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو ( خدا ) مانا ہوا ہے ، جس کے ذریعے دنیوی زندگی میں تمہاری آپس کی دوستی قائم ہے ۔ ( ١٠ ) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے ، اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے ، اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا ، اور تمہیں کسی بھی طرح کے مددگار میسر نہیں ہوں گے ۔
اور ابراہیم نے ( ف۵۷ ) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے ( ف۵۸ ) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا ( ف۵۹ ) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے ( ف٦۰ ) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ( ف٦۱ )
اور اس نے کہا 41” تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے 42 مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے 43 اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا ۔ ”
اور ابراہیم ( علیہ السلام ) نے کہا: بس تم نے تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے محض دنیوی زندگی میں آپس کی دوستی کی خاطر پھر روزِ قیامت تم میں سے ( ہر ) ایک دوسرے ( کی دوستی ) کا انکار کر دے گا اور تم میں سے ( ہر ) ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا ، تو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 41 سلسلہ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بات آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد حضرت ابراہیم نے لوگوں سے فرمائی ہوگی ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 42 یعنی تم نے خدا پرستی کے بجائے بت پرستی کی بناید پر اپنی اجتماعی زندگی کی تعمیر کرلی ہے جو دنیوی زندگی کی حد تک تمہارا قومی شیرازہ باندھ سکتی ہے ۔ اس لیے کہ یہاں کسی عقیدے پر بھی لوگ جمع ہوسکتے ہیں خواہ حق ہو یا باطل ۔ اور ہر اتفاق و اجتماع چاہے وہ کیسے ہی غلط عقیدے پر ہو ، باہم دوستیوں ، رشتہ داریوں ، برادریوں اور دوسرے تمام مذہبی ، معاشرتی و تمدنی اور معاشی و سیاسی تعلقات کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 43 یعنی عقیدہ باطلہ پر تمہاری یہ ہیئت اجتماعی آخرت میں بنی نہیں رہ سکتی ۔ وہاں آپس کی محبت ، دوستی ، تعاون ، رشتہ داری اور عقیدت و ارادت کے صرف وہی تعلقات برقرار رہ سکتے ہیں جو دنیا میں خدائے واحد کی بندگی اور نیکی و تقوی پر قائم ہوئے ہوں ۔ کفر و شرک اور گمراہی و بدراہی پر جڑے ہوئے سارے رشتے وہاں کٹ جائیں گے ۔ ساری محبتیں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی ، ساری عقیدتیں نفرت میں بدل جائیں گی ، بیٹے اور باپ ، شوہر اور بیوی ، پیر اور مرید تک ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ہر ایک اپنی گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر پکارے گا کہ اس ظالم نے مجھے خراب کیا اس لیے اسے دوہرا عذاب دیا جائے ۔ یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے ۔ مثلا سورہ زخرف میں فرمایا: اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ ، ( آیت 67 ) دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ، سوائے متقین کے ۔ سورہ اعراف میں فرمایا: ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ، ( آیت 38 ) ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پاس والے گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ہمارے رب یہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ، لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ اور سورہ احزاب میں فرمایا: وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا ۔ رَبَّنَآ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا ( آیات 67 ۔ 68 ) اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو راہ سے بے راہ کردیا ، اے ہمارے رب تو انہیں دوہری سزا دے اور ان پر سخت لعنت فرما