Surah

Information

Surah ID #30
Total Verses 60 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #84
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 17, from Madina
Surah 30: Ar-Rum Ayat #22
وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِكُمۡ وَاَلۡوَانِكُمۡ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡعٰلِمِيۡنَ‏ ﴿22﴾
And of His signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your languages and your colors. Indeed in that are signs for those of knowledge.
اس ( کی قدرت ) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف ( بھی ) ہے ، دانش مندوں کیلئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں ۔

More translations & tafseer

و من ايته خلق السموت و الارض و اختلاف السنتكم و الوانكم ان في ذلك لايت للعلمين
And of His signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your languages and your colors. Indeed in that are signs for those of knowledge.
Uss ( ki qudrat ) ki nishaniyon mein say aasmano aur zamin ki pedaeesh aur tumhari zabano aur rangaton ka ikhtilaf ( bhi ) hai danish mando kay liye iss mein yaqeenan bari nishaniyan hain.
اور اس کی نشانیوں کا ایک حصہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف بھی ہے ۔ یقینا اس میں دانش مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف ( ف۳۹ ) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے ،
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ، 31 اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ۔ 32 یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے ۔
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق ( بھی ) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ( بھی ) ہے ، بیشک اس میں اہلِ علم ( و تحقیق ) کے لئے نشانیاں ہیں
سورة الروم حاشیہ نمبر : 31 یعنی ان کا عدم سے وجود میں آنا اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا ، اور بے شمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب و توازن کے ساتھ کام کرنا ، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کر رہا ہے ۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ کہ وہ ابتدائی قوت ( Energy ) کہاں سے آئی جس نے مادے کی شکل اختیار کی ، پھر مادے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے ، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے ساتھ یہ مدہوش کن نظام عالم کیسے بن گیا ، اور اب یہ نظام کروڑہا کروڑ صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانون فطرت کی بندش میں کسا ہوا چل رہا ہے ، تو ہر غیر متعصب عقل اس نتیجے پر پہنچے گی کہ یہ سب کچھ کسی علیم و حکیم کے غالب ارادے کے بغیر محض بخت و اتفاق کے نتیجے میں نہیں ہوسکتا ۔ اور دوسری طرف اگر یہ دیکھا جائے کہ زمین سے لے کر کائنات کے بعید ترین سیاروں تک سب ایک ہی طرح کے عناصر سے مرکب ہیں اور ایک ہی قانون فطرت ان میں کار فرما ہے تو ہر عقل جو ہٹ دھرم نہیں ہے ، بلا شبہ یہ تسلیم کرے گی کہ یہ سب کچھ بہت سے خداؤں کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق اور رب ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 32 یعنی باوجودیکہ تمہارے قوائے نطقیہ یکساں ہیں ، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں ، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں ، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں ، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز گفتگو دوسرے سے مختلف ہے ، اسی طرح تمہارا مادہ تخلیق اور تمہاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے ، مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنا ، ایک ماں ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے ۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ لیکن اسی رخ پر آگے بڑھ کر کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع ( Variaty ) پائیں گے کہ اس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا ۔ انسان ، حیوان ، نباتات اور دوسری تمام اشیاء کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں اس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں حتی کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے ، حتی کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی ۔ یہ چیز صاف بتا رہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جس میں خودکار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری ( Mass Production ) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیاء کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو جس سے ڈھل ڈھول کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں ۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاریگر کام کررہا ہے جو ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن ، نئے نقش و نگار ، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے ۔ اس کی قوت ایجاد ہر آن ہر چیز کا ایک نیا ماڈل ناکل رہی ہے ، اور اس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے ۔ اس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا وہ کبھی اس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے ۔ یہ تو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کار تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے ۔
یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایک جا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا ۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان ، کردوں ، رومیوں ، فرنگیوں ، تکرونیوں ، بربر ، حبشیوں ، ہندیوں ، ایرانیوں ، حقابلہ ، آرمینوں ، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں ۔ انسانی زبانوں کے اختلاف کیساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے ۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہوجائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو ۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے ۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے ۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہوگی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہوجائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو ۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آجائے گا ۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے ۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہوجاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لئے قدرت نے رات بنادی ۔ کام کاج کے لئے دنیا حاصل کرنے کے لئے کمائی دھندے کے لئے تلاش معاش کے لئے اللہ نے دن کو پیدا کردیا جو رات کے بالکل خلاف ہے ۔ یقینا سننے سمجھنے والوں کے لئے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں ۔ طبرانی میں حضرت زید بن ثاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایاکرتی تھی تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھاکرو ۔ ( اللھم غارت النجوم وھدات العیون وانت حی قیوم یاحی یاقیوم انم عینی واھدی لیلی ) ۔ میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی ۔